نَوشاد نورؔی کا یوم ولادت
26؍اکتوبر 1926
نام محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی اور تخلص نوشاد نورؔی تھا۔ 26؍اکتوبر 1926ء کو دربھنگہ بِہار برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ نوشاد نوریؔ اپنی آخری عمر میں کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور 75 سال کی عمر میں 18؍جولائی 2000 کو ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔
منتخب کلام
تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
بدل دیتے ہیں بیداری میں رخ اپنے خیالوں کا
مگر سوتے میں رخ خوابوں کا موڑا بھی نہیں جاتا
نہ اب یارائے ہجرت ہے نہ تاب دشت پیمائی
یہی مشکل ہے اب زنداں کو چھوڑ ابھی نہیں جاتا
…….
ایسی تنہائی، پتہ اپنا کہاں پاتے ہیں ہم
ایسا سناٹا، خود اپنے سے بھی گھبراتے ہیں ہم
آرزوؤں کو ہمالہ سے سوا پاتے ہیں ہم
اپنا یہ عالم، ہواؤں پر اڑے جاتے ہیں ہم
اجنبی کی اجنبی سے بڑھ رہی ہیں قربتیں
آشنا کو آشنا سے بدگماں پاتے ہیں ہم
مشکلوں کی اتنی عادی ہو گئی ہے زندگی
ایک ٹلتی ہے تو پھر کوئی اٹھا لاتے ہیں ہم
رنگ گل، رنگ شفق، سب ہی مئے دو آتشہ
اپنے دل کو اب تصوّر ہی سے بہلاتے ہیں ہم
بڑھ گئی ہے زیست کے صحرا میں اتنی تشنگی
سب کے لب کو اپنی شہہ رگ پر دھرا پاتے ہیں ہم
فتح کے نشے میں وہ آگے بڑھیں، نزدیک آئیں
عشق کی بازی میں قصداً مات کھا جاتے ہیں ہم
شام وحشت میں کوئی نوشاد نوریؔ سے کہے
احترام فن میں یکتا آپ کو پاتے ہیں ہم
……
سلسلہ جاری ہے پتوں کی شکست و ریخت کا
فصل کی تحویل میں ذوق نمائش بھی نہیں
گھٹ کے چشمِ آبدیدہ رہ گئی رمنا کی جھیل
خشک شاخوں میں کہیں ہلکی سی جنبش بھی نہیں
اس زمیں پر فصل کی اتنی فراوانی کے بعد
دل میں موسم سے مشابہ کوئی خواہش بھی نہیں
…….
دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں چوکھٹ دھرے
اپنی باتیں وہ تھکے انداز میں کہتی رہی
اور پھر نوشاد صاحب آپ کے جانے کے بعد
کال بیساکھی بدن میں رات بھر بہتی رہی
اور میں آوارہ موسم کی شکست و ریخت کو
خوبصورت وقت کی امید میں سہتی رہی
……
میں زمانے پہ صحیفے کی طرح اترا ہوں
روشنی مجھ سے تفکر کو ودیعت ہو گی
میرے مخطوطۂ کمیاب کو محفوظ رکھو
اس حوالے کی مؤرخ کو ضرورت ہو گی
اس کٹھن دور کی نا گفتہ صداقت لو گو
میری ہی ذات گرامی سے روایت ہوگی
…………………………..
