ذوالفقار عادل کے منتخب اشعار یہ کس نے ہاتھ پیشان…


ذوالفقار عادل کے منتخب اشعار

یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا
ہماری نیند پوری ہوگئی ہے

یہ جو بھی لوگ ہیں ان کشتیوں میں
ہمیں دریافت ہونے کی خوشی ہے

دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس
اور اسکے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم

اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتشدان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں
بے ترتیبی نے اِس گھر میں اِتنی جگہ بنا لی ہے

سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرہ خالی ہے

وہیل چیئر پہ بیٹھ کے چڑھتا ہے کون سیڑھیاں
آ کے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں

چیخ نہیں سکا کبھی آگ نہیں لگا سکا
جلتا رہا ہوں رات دن آتشِ اعتدال میں

اک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے
اک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں

سرکار ہر درخت سے بنتے نہیں ہیں تخت
قربان آپ پر مرے اوزار اور میں

ہم انصاف نہیں کر پائے، دنیا سے بھی، دل سے بھی
تیری جانب مڑ کر دیکھا، یعنی جانب داری کی

اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

کوئ حد کوئی اندازہ کب تک گرتے جانا ہے
خندق سے خاموشی گہری اس سے گہری تاریکی

ایک کردار کی امید پہ بیٹھے ہیں لوگ
جو کہانی میں ہنسانے کے لئے آتا ہے

چرچ کی سیڑھیاں وائلن پر کوئی دھن بجاتا ہوا
دیکھتا ہے مجھے اک ستارا کہیں ٹمٹماتا ہوا

رات پکڑا گیا، اور باندھا گیا، اور مارا گیا
ایک لڑکا سا دل، میرؔ کے باغ سے پھل چُراتا ہوا

ہے کہاں تک تماشا کہاں تک خلل کوئی کیسے کہے
ایک رعشہ زدہ ہاتھ کٹھ پتلیوں کو نچاتا ہوا

دیکھنے والوں کو پہچانیں انکے ساتھ رہیں
رینگنے والے دوڑنے والوں سے محتاط رہیں

خاموشی سے بڑھتی فصلیں جلدی بڑھتی ہیں
تم شہروں کو شور مبارک ہم دیہات رہیں

موسمِ اندمال آتا ہے
زخم پر بھی زوال آتا ہے

سطح پر تیر رہے ہیں دن رات
نیند اک خواب کی گہرائی ہے

زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی
کہانیو! میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا

مجھے بتانے کا فائدہ کیا، مکین کیا تھے؟ مکان کیا ہیں؟
میں اِس گلی سے نہ آ رہا ہوں، نہ جا رہا ہوں، معاف کرنا

جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں
دروازے پہ قفل لگا کر ہم تو دفتر آجاتے ہیں

پھر بستر سے اٹھنے کی بھی مہلت کب ملتی ہے عادل
نیند میں آتی ہیں آوازیں خواب میں لشکر آجاتے ہیں

جس موسم میں چاک گریباں گریہ کرتے پھرتے ہیں
اس موسم میں ایک رفو گر ہنستا گاتا رہتا ہے

اس دن بھی جب بستی میں تلواریں کم پڑجاتی ہیں
ایک مدبر آہن گر زنجیر بناتا رہتا ہے

کس کو ٹھہرائیے ٹوٹی ہوئی چیزوں کا امیں
اپنی لکنت کا سبب کس کی زبانی کہئے

خود سے جو بات بھی کرتے ہیں خدا سنتا ہے
خود کلامی کہاں ممکن ہے کلیمی کہئے

پکارے جارہا ہوں کیا کوئی ہے
یہاں خاموش رہنا خودکشی ہے

زمیں پہلی محبت ہے ہماری
اگر پہلی محبت ہو چکی ہے

شور سے پہچانا جاتا ہے شہروں کو
شور کو ایک شکایت زندہ رکھتی ہے

دیواروں کو، دروازے کو، آنگن کو
گھر آنے کی عادت زندہ رکھتی ہے

آئنے کو زندہ رکھتا ہوں میں اور
مجھکو میری حیرت زندہ رکھتی ہے

میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا
ایک دن میں نے خود سے کہا معذرت

ہم سے گریہ مکمل نہیں ہوسکا
ہم نے دیوار پر لکھ دیا معذرت

کیا توقع کرے کوئی ہم سے
اک محبت نہ ہوسکی ہم سے

تم مجھے کچھ بھی سمجھ سکتے ہو
کچھ نہیں ہوں تو غنیمت سمجھو

یہ جو دریا کی خموشی ہے اسے
ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

ہاتھ میں کل جو ہاتھ تھا نبض پہ آگیا ہے آج
وقت کے عارضے میں ہوں گزرا ہوا سمجھ مجھے

جتنا اٹھا سکے یہ بوجھ اتنا اٹھا مرے عزیز
جتنا سمجھ میں آسکے اتنا بڑا سمجھ مجھے

اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے
ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے
مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سے

ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں
ہوسکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے

جانے کس وقت نیند آئی ہمیں
جانے کس وقت ہم تمہارے ہوئے

اس سے آگے جنوں اضافی ہے
دشت کو چاہیے بڑا ہو جائے

میں آسماں کی طرف دیکھ کر ہنسوں تو یہ لوگ
یہ پوچھتے ہیں کہ اے بھائی! کیا دکھائی دیا

ایسی خوشی کے خواب سے جاگا کہ آج تک
خوش ہو کے سو سکا نہ کبھی سو کے خوش ہوا

وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا
آخر میں ایک شام بہت رو کے خوش ہوا

گم ہوگئی زنجیر کی آواز میں آواز
افسوس کہ ہم میں کوئی داؤد نہیں تھا

ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے
اور انتہا تو یہ ہے کہ گھر بھی نہیں گئے

صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے

دل میں جو زہر ہے وہ زہر نہیں
مدتوں کا رکا ہوا غم ہے

کھولیے دل کی ڈائری عادل
دیکھیے آج کونسا غم ہے

کیا توقّع کرے کوئی ہم سے
اک محبت نہ ہو سکی ہم سے

اب کہاں ہے وہ خواب سی صورت
اُس میں جو بات تھی، وہ تھی ہم سے

باغ ایسا اُتر گیا دل میں
پھر وہ کھڑکی نہیں کُھلی ہم سے

چیخ نہیں سکا کبھی، آگ نہیں لگا سکا
جلتا رہا ہوں رات دن، آتشِ اعتدال میں

وہیل چیئر پہ بیٹھ کر، چڑھتا ہے کون سیڑھیاں
آ کے مجھے ملے جسے، شک ہو مرے کمال میں

اِک ذرا روشنی میں لاؤ اِسے
دیکھتے ہیں، دیا بجھا کیوں ہے

کام مکمل کرنے سے بھی،شام مکمل کب ہوتی ہے
ایک پرندہ رہ جاتا ہے، باقی سب گھر آجاتے ہیں

نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے
جن کا کوئی نام نہیں، وہ لوگ زباں پر آجاتے ہیں

بہت سُنا گیا مجھے، بہت سُنا دیا گیا
ہزار سال بعد بھی، ہزار داستاں ہوں میں

خود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور
خود سے کی ہے تمھاری جگہ معذرت

اِسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ
پرندوں سے قفس آزاد کروانا پڑے گا

ہر منظر کو مجمع میں سے، یوں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے ہیں
ہو سکتا ہے شہرت پالیں، ہم اپنی دلچسپی سے

اِن آنکھوں سے دو اِک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں
ہم نے اپنا وقت گزارا، ہر ممکن خاموشی سے

جتنا اڑا دیا گیا
اتنا غبار تھا نہیں

پھر وہ غزال دم بخود
مرتا رہا مرا نہیں

میں اُسے دیکھتا رہوں اور وہ
دیکھتے دیکھتے مرا ہو جائے

یہ پھول مرے لیے کھِلے ہیں
ثابت ہی اگر نہ کر سکوں میں

چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادلؔ
ہم ہیں دیوار کے مانند، بظاہر خاموش

سطح پر تیر رہے ہیں دن، رات
نیند، اِک خواب کی گہرائی ہے

اُن پرندوں کا پلٹ کر آنا
اِک تخیّل کی پذیرائی ہے

بیٹھے بیٹھے، اِسی غبار کے ساتھ
اب تو اُڑنا بھی آگیا ہے مجھے

رات جو خواب دیکھتا ہوں میں
صبح وہ خواب دیکھتا ہے مجھے

دیکھنے والوں کو پہچانیں، اُن کے ساتھ رہیں
رینگنے والے، دوڑنے والوں سے محتاط رہیں

لوگ تو عشق میں مر جاتے ہیں
ہم تو ایسا بھی نہیں کر سکتے

اُن گزارے ہوئے لمحوں کے بغیر
ہم گزارا بھی نہیں کر سکتے

وہ سفینے کہاں گئے ہوں گے
ڈوبتے ڈوبتے خیال آیا

ہم نے اپنی نیندوں کو
خوابوں سے پہچانا ہے

ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصّہ گو
یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

چراغ جل کے راکھ ہوگیا
ہوا کا اجتناب دیکھیے

میرے آنگن میں وہ شجر ہی نہیں
جو پرندوں کا خواب ہوتا ہے

نکلا ہوں شہرِ خواب سے، ایسے عجیب حال میں
غرب، میرے جنوب میں، شرق، مرے شمال میں

گُرگ و سمند و مُوش و سگ، چھانٹ کے ایک ایک رگ
پھرتے ہیں سب الگ الگ، رہتے ہیں ایک کھال میں

سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں
الاؤ جل رہا ہے خامشی سے

کچھ پرندوں کو یہ معلوم نہیں تھا عادلؔ
جل رہا ہو تو شجر چھوڑ دیا جاتا ہے

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی