💥 اُس دن میں نے جان بوجھ کر اپنی ماں کو ستایا تھا، تاکہ دیکھ سکوں کہ اگر وہ مجھے ماریں تو ابّا مجھے بچاتے ہیں یا نہیں۔ برسوں بعد سمجھ آیا کہ اُس روز امتحان میرے والد کا نہیں، میری ماں کی محبت کا تھا۔ 💔🥹
بچپن میں مجھے ایک بات پر بڑا ناز تھا؛ ابّا کی ڈانٹ سے مجھے امّی بچا لیتی تھیں۔
ابّا سخت مزاج نہیں تھے، بس اُن کا خیال تھا کہ بچے کو وقت پر روٹی کھانی چاہیے، بڑوں کے سامنے زبان نہیں چلانی چاہیے اور گھر کے اصولوں کو اصول ہی سمجھنا چاہیے۔ وہ دن بھر محنت کرتے، شام کو گھر آتے تو چاہتے کہ بچے اُن کے پاس بیٹھیں، اپنے دن بھر کی باتیں سنائیں اور پڑھائی کا حال بتائیں۔ مگر مجھ میں بچپن ہی سے ایک عجیب سی ضد تھی۔ ابّا کی ایک گھوری مجھے گھنٹوں اداس رکھنے کے لیے کافی تھی، اور امّی کی ایک مسکراہٹ مجھے ساری دنیا بھلا دیتی تھی۔
جب کبھی میری شرارت حد سے بڑھ جاتی، ابّا مجھے اپنے پاس بلاتے۔
’’میاں، ادھر آؤ ذرا!‘‘
میں جانتا تھا کہ اب اگلے چند منٹ نصیحت کے نام ہونے والے ہیں۔ میں نظریں جھکائے کھڑا رہتا، اور امّی کسی نہ کسی بہانے درمیان میں آ جاتیں۔
’’اچھا جی، اب رہنے بھی دیجیے۔ بچہ ہی تو ہے۔‘‘
ابّا مسکرا کر کہتے، ’’تم نے ہی اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ کل کو ہمارے قابو میں نہیں آئے گا۔‘‘
’’اللہ بڑا کرنے والا ہے، آپ فکر نہ کریں۔‘‘
اور یوں میری جان چھوٹ جاتی۔
مجھے لگتا تھا، ماں کا کام بچے کو ہر سزا سے بچانا ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ کبھی کبھی ماں اپنے بچے کو سزا سے نہیں، اُس کے اپنے اندر کے کسی انجانے دکھ سے بچا رہی ہوتی ہے۔
اُس وقت میری عمر کوئی دس گیارہ برس رہی ہوگی۔
گرمیوں کی ایک دوپہر تھی۔ صحن میں نیم کے درخت کا سایہ سمٹ کر دیوار کے ساتھ لگ گیا تھا۔ امّی باورچی خانے میں تھیں۔ چولہے پر دال چڑھی ہوئی تھی اور روٹیوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ ابّا اپنے کمرے میں لیٹے آرام کر رہے تھے۔
امّی نے مجھے آواز دی۔
’’حمزہ پتر، ذرا دکان سے دہی لے آنا۔‘‘
میں چارپائی پر لیٹا رہا۔
’’نہیں جاتا۔‘‘
وہ باہر آئیں، میری طرف دیکھا اور بولیں، ’’اچھا، میں خود لے آتی ہوں۔‘‘
مجھے پہلی مایوسی وہیں ہوئی۔
میں نے سوچا تھا، وہ ڈانٹیں گی، شاید ایک آدھ تھپڑ بھی لگا دیں۔ میں رونا شروع کر دوں گا اور ابّا کمرے سے نکل آئیں گے۔ پھر وہ امّی کو سمجھائیں گے کہ بچے کو اتنی سی بات پر نہیں مارنا چاہیے۔ میں ابّا کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوں گا کہ دیکھا، میرے ابّا بھی مجھے کتنا چاہتے ہیں۔
مگر امّی خاموشی سے چادر اوڑھ کر بازار چلی گئیں۔
دوپہر کے کھانے پر میں نے دوسرا محاذ کھول دیا۔
امّی نے میری پلیٹ میں سالن ڈالا تو میں نے منہ بنا لیا۔
’’بس اتنا سا؟ مجھے اور چاہیے۔‘‘
’’اچھا، اور ڈال دیتی ہوں۔‘‘
’’اب نہیں چاہیے۔‘‘
انہوں نے چمچ واپس رکھ دیا۔
’’اچھا بھئی، تمہاری مرضی۔‘‘
پھر میں نے پیڑھی پر بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ صاف دری پر جوتوں سمیت بیٹھ گیا۔ روٹی کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھیر دیے۔ امّی نے ایک بار میری طرف دیکھا، پھر خاموشی سے اپنی پلیٹ سمیٹنے لگیں۔
میرے اندر ایک بے نام سی جھنجھلاہٹ بڑھنے لگی۔
یہ مجھے ڈانٹ کیوں نہیں رہیں؟
بچپن میں آدمی محبت کی زبان سے زیادہ اُس کی عادت کو سمجھتا ہے۔ مجھے امّی کی ڈانٹ کی بھی عادت تھی، اور اُن کے منانے کی بھی۔ آج وہ دونوں نہیں کر رہی تھیں تو مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کھیل کے سارے اصول بدل گئے ہوں۔
شام تک میں نے اپنی شرارتیں جاری رکھیں۔ ابّا کے سامنے بھی بدتمیزی سے جواب دیا۔ انہوں نے اخبار تہہ کیا اور میری طرف دیکھا۔
’’حمزہ، آج تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘
میں نے کندھے اچکائے۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
ابّا چند لمحے مجھے دیکھتے رہے۔ پھر نرمی سے بولے، ’’اچھا، طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔
وہ اُٹھے، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور باہر چلے گئے۔
یہ میری تیسری مایوسی تھی۔
میں چاہتا تھا کہ ابّا ناراض ہوں، امّی سے شکایت کریں، گھر میں میری وجہ سے کچھ ہلچل ہو۔ مگر اُس روز دونوں نے جیسے میرے گرد خاموشی کا حصار کھینچ دیا تھا۔
رات کو امّی میرے پاس آئیں۔ میں بستر پر منہ پھیرے لیٹا تھا، حالاں کہ نیند کوسوں دور تھی۔
انہوں نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
’’حمزہ پتر!‘‘
میں خاموش رہا۔
وہ میرے پاس بیٹھ گئیں۔ کچھ دیر میرے بال سہلاتی رہیں۔ پھر بہت دھیرے سے پوچھا:
’’کسی نے کچھ کہا ہے تجھے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اسکول میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’پھر میرا بچہ اتنا بجھا بجھا کیوں ہے؟ صبح سے نہ ڈھنگ سے کھایا، نہ بات کی۔ کوئی پریشانی ہے تو اپنی امّی کو بتا دے۔ دل ہلکا ہو جائے گا۔‘‘
میں نے غصے سے اُن کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’آپ مجھے ڈانٹتی کیوں نہیں ہیں؟‘‘
وہ ایک لمحے کو چپ ہو گئیں۔
پھر میرے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں، ’’کس بات پر ڈانٹوں، میرے بچے؟‘‘
میرے اندر سارا دن جمع ہونے والی ضد یکایک زبان پر آ گئی۔
’’میں نے آپ کا کہنا نہیں مانا۔ دہی لینے نہیں گیا۔ کھانے میں نخرے کیے۔ آپ سے بدتمیزی کی۔ آپ مجھے مار کیوں نہیں دیتیں؟‘‘
امّی کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
’’اللہ نہ کرے، میں اپنے بچے کو کیوں ماروں؟‘‘
میں نے بے اختیار کہہ دیا، ’’تاکہ ابّا مجھے بچائیں!‘‘
کمرے میں یکایک خاموشی چھا گئی۔
باہر گلی میں کسی سائیکل والے کی گھنٹی بجی۔ دور مسجد سے عشا کے بعد لوگوں کے گھروں کو لوٹنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ امّی میرے چہرے کو دیکھتی رہیں، جیسے میرے لفظوں کے پیچھے چھپا کوئی ایسا راز پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں جسے میں خود بھی پوری طرح نہیں جانتا تھا۔
پھر انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’ہائے میرا پتر!‘‘
اُن کی آواز بھرّا گئی۔
’’تجھے کس نے کہہ دیا کہ تجھے بچانے کے لیے مجھے تجھے مارنا پڑے گا؟‘‘
میں ساکت رہ گیا۔
انہوں نے میرے سر پر بوسہ دیا اور کہا:
’’دیکھ حمزہ، تیرے ابّا تجھے ڈانٹتے ہیں تو اس لیے کہ چاہتے ہیں تُو اچھا انسان بنے۔ اُن کے دل میں تیرے لیے کتنی محبت ہے، یہ تجھے ابھی کہاں سمجھ آئے گا۔ اور میں تجھے ڈانٹوں یا نہ ڈانٹوں، تُو میرا بچہ ہے۔ تیری آنکھ میں آنسو آئے تو میرا دل دکھتا ہے۔ ماں کا دل ہے پتر، کوئی پتھر تھوڑی ہے۔‘‘
بس اتنا سننا تھا کہ میرے اندر کا سارا شور ٹوٹ کر آنسوؤں میں بہہ نکلا۔
میں اُن کے گلے سے لپٹ گیا۔
’’امّی، مجھے معاف کر دیں۔‘‘
وہ میری پیٹھ تھپکتی رہیں۔
’’چپ کر جا، میرا بچہ۔ اچھا، اب بس بھی کر۔‘‘
مگر میں کہاں چپ ہونے والا تھا۔ میں روتا جاتا تھا اور اُن کے دوپٹے میں منہ چھپائے بار بار کہتا تھا، ’’میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا، امّی۔ سچی!‘‘
انہوں نے میرے آنسو پونچھے، پانی پلایا اور اپنے ہاتھ سے مجھے روٹی کا نوالہ بنا کر کھلایا۔
اُس رات میں اُن کے پہلو میں سو گیا۔
مجھے نہیں معلوم، میری آنکھ لگنے کے بعد وہ کتنی دیر تک میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہیں۔ صبح جب میں بیدار ہوا تو وہ حسبِ معمول ناشتے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ ابّا اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں اُن کے پاس گیا تو انہوں نے مسکرا کر پوچھا:
’’جناب، آج طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
میں شرمندہ سا ہو کر اُن کے ساتھ بیٹھ گیا۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، ’’بیٹا، کبھی کوئی بات دل میں ہو تو بتا دیا کرو۔ گھر والے اسی لیے ہوتے ہیں کہ آدمی اپنا دکھ اُن کے سامنے رکھ سکے۔‘‘
میں نے اُن کے کندھے سے سر لگا دیا۔
اُس دن مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ ابّا کے ہاتھ کا سر پر رکھا جانا بھی محبت ہی کی ایک زبان ہے۔ بس، میں ابھی تک اُسے پڑھنا نہیں سیکھا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
بچپن جوانی میں، جوانی ذمہ داریوں میں بدل گئی۔ میں پڑھنے کے لیے شہر چلا گیا، پھر ملازمت، شادی اور بچوں کی زندگی میں ایسا الجھا کہ گاؤں کے چکر کم ہوتے گئے۔ ابّا کی کال آتی تو اُن سے بات کرتا، امّی فون کرتیں تو اکثر کہہ دیتا، ’’امی، ابھی ذرا کام میں ہوں، شام کو بات کرتا ہوں۔‘‘
وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتیں:
’’اچھا پتر، کام کر لے۔ اللہ برکت دے۔‘‘
شام کو میں اکثر بھول جاتا۔
اُنہیں شاید یاد رہتا تھا، مگر وہ کبھی شکوہ نہیں کرتیں۔
ایک روز ابّا کا فون آیا۔
’’بیٹا، فرصت ملے تو گھر آ جانا۔ تیری امّی کی طبیعت کچھ دن سے ٹھیک نہیں۔ ڈاکٹر کو دکھایا ہے، دوا چل رہی ہے۔ وہ تجھے یاد کر رہی تھی۔‘‘
اگلے ہی دن میں گاؤں پہنچ گیا۔
امّی چارپائی پر لیٹی تھیں۔ چہرہ کمزور ہو گیا تھا، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے تھے۔ مگر مجھے دیکھتے ہی وہی پرانی مسکراہٹ اُن کے لبوں پر آ گئی۔
’’آ گیا میرا پتر؟‘‘
میں اُن کے پاس بیٹھ گیا۔
’’اب کیسی طبیعت ہے، امّی؟‘‘
’’اب تو ٹھیک ہوں۔ تُو بتا، کھانا کھا کر آیا ہے یا تیرے لیے کچھ بناؤں؟‘‘
میرا دل چاہا کہ اُن کے منہ پر ہاتھ رکھ دوں۔
اتنے برس گزر گئے، امّی! آپ کو اب بھی میرے کھانے کی فکر ہے؟
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ ہاتھ جس نے میرے بچپن کی ہر ٹھوکر پر مجھے سنبھالا تھا، آج میری انگلیوں میں بہت ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔
ابّا پاس ہی کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے دوا کی پرچی مجھے پکڑائی اور بتایا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے، کون سی دوا کب دینی ہے، اور اگلے ہفتے دوبارہ معائنے کے لیے لے جانا ہے۔
اُن کی آواز میں فکر تھی۔ وہ بار بار امّی کی طرف دیکھتے، پھر مجھے ضروری ہدایات دیتے۔ میں نے پہلی بار اُن کے چہرے پر وہ بے بسی دیکھی جو شاید محبت کے سب سے گہرے مرحلے میں انسان کے حصے میں آتی ہے؛ جب وہ کسی اپنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہتا ہے، مگر اُس کی تکلیف اپنے حصے میں نہیں لے سکتا۔
اُس رات میں امّی کے پاس بیٹھا رہا۔
وہ کبھی آنکھیں کھولتیں، مجھے دیکھتیں اور پھر سو جاتیں۔ آدھی رات کے قریب انہوں نے دھیرے سے میرا ہاتھ پکڑا۔
’’حمزہ؟‘‘
’’جی، امّی۔‘‘
’’بچوں کو لے کر آیا کر۔ گھر میں رونق رہتی ہے۔‘‘
میرے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔ میں اُن سے معافی مانگنا چاہتا تھا؛ اُن تمام فون کالز کے لیے جنہیں میں نے مختصر کر دیا تھا، اُن تمام وعدوں کے لیے جو پورے نہ کر سکا، اُن تمام شاموں کے لیے جب وہ میری آواز سننے کی منتظر رہی ہوں گی اور میں کام کے نام پر دنیا میں گم رہا ہوں گا۔
مگر زبان سے صرف اتنا نکلا:
’’جی امّی، ضرور لاؤں گا۔‘‘
انہوں نے میرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔
’’اللہ تجھے خوش رکھے، پتر۔‘‘
میں ساری رات اُن کے پاس بیٹھا رہا۔ فجر کے وقت ذرا دیر کے لیے آنکھ لگی تو ایک پرانی یاد نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔
وہی گرم دوپہر۔ وہی دہی لانے سے انکار۔ وہی کھانے کے نخرے۔ وہی میلے کپڑے۔ اور پھر ماں کے سینے سے لپٹ کر رونا۔
میں نے سوچا، کاش وقت کو ایک بار پلٹا جا سکتا۔
میں پھر وہی بچہ بن جاتا۔ امّی مجھے دہی لانے بھیجتیں تو میں دوڑتا ہوا جاتا۔ وہ کھانے میں سالن کم دیتیں تو میں ہنس کر کہتا، ’’امّی، بس تھوڑا سا اور!‘‘ وہ پیڑھی پر بیٹھنے کو کہتیں تو میں اُن کے ساتھ ہی بیٹھ جاتا۔
میں اُن کی ہر بات مان لیتا۔
صرف ایک بار پھر اُن کے منہ سے سننے کے لیے:
’’کیا ہوا میرے حمزہ پتر کو؟ بیمار تو نہیں ہے؟‘‘
صبح ہوئی تو ابّا نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’بیٹا، ذرا آرام کر لو۔ ساری رات جاگتے رہے ہو۔ میں بیٹھتا ہوں تمہاری امّی کے پاس۔‘‘
میں نے اُن کی طرف دیکھا۔ وہ خود بھی رات بھر نہیں سوئے تھے، مگر اُن کے لہجے میں میرے لیے وہی شفقت تھی جو بچپن میں میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہوا کرتی تھی۔
میں نے سر ہلا دیا، مگر اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔
اُس وقت مجھے محسوس ہوا کہ ماں باپ دونوں اپنی اپنی زبان میں اولاد کو پناہ دیتے ہیں۔ ایک کی محبت لوری بن کر سلاتی ہے، دوسرے کی فکر چھت بن کر سر پر سایہ کیے رکھتی ہے۔ اور اولاد عمر کے کتنے ہی موسم گزار دے، اُن کے سامنے کہیں نہ کہیں بچہ ہی رہتی ہے۔
کچھ دن بعد امّی کی طبیعت سنبھلنے لگی۔ میں واپس شہر جانے لگا تو انہوں نے میرے لیے روٹیاں باندھ دیں، ساتھ اچار کی چھوٹی سی ڈبی بھی رکھ دی۔
’’راستے میں بھوک لگے تو کھا لینا۔‘‘
میں نے اُنہیں گلے لگایا۔
’’امی، اب میں جلدی آیا کروں گا۔‘‘
انہوں نے میری پیٹھ تھپکی۔
’’اچھا پتر، اللہ تجھے اپنی امان میں رکھے۔‘‘
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ دروازے پر کھڑی ہاتھ ہلاتی رہیں۔ ابّا اُن کے پیچھے کھڑے تھے، ایک ہاتھ سے دروازہ تھامے، دوسرے سے انہیں سہارا دیے ہوئے۔
میں نے گاڑی موڑی تو دونوں چھوٹے ہوتے گئے۔
اور پھر گلی کا موڑ آ گیا۔
میں نے گاڑی روک دی۔
سامنے سڑک تھی، پیچھے گھر۔ فون پر دفتر کے پیغامات آ رہے تھے، بچوں کی اسکول فیس جمع کرانے کی تاریخ قریب تھی، اگلے دن ایک ضروری میٹنگ بھی تھی۔ زندگی اپنی پوری رفتار سے مجھے واپس کھینچ رہی تھی۔
لیکن اُس روز میں چند لمحے وہیں بیٹھا رہا۔
مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ہم جن لوگوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ سمجھ کر بے فکر ہو جاتے ہیں، وہ بھی وقت کے ساتھ تھکنے لگتے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے، قدم آہستہ ہوتے ہیں، آواز میں لرزش آتی ہے۔ وہ ہمیں بلانا کم کر دیتے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہماری مصروفیات میں خلل نہ پڑ جائے۔
اور ہم اُن کی خاموشی کو اُن کی ضرورتوں کا خاتمہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
اس روز میں نے امّی کو فون کیا۔
انہوں نے پہلی ہی گھنٹی پر فون اٹھا لیا۔
’’جی پتر؟ خیریت؟‘‘
میں کچھ نہ کہہ سکا۔
بس اتنا کہا، ’’امی، آپ کیا کر رہی ہیں؟‘‘
وہ ہنس پڑیں۔
’’کچھ نہیں پتر، تیرے ابّا کے لیے چائے بنا رہی ہوں۔‘‘
اُن کی ہنسی میں وہی پرانا گھر تھا، وہی صحن، وہی چولہا، وہی نیم کا درخت اور وہی ماں جسے میرے بدلتے لہجے سے بھی میری طبیعت کا پتا چل جاتا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
’’امی، مجھ سے باتیں کریں نا۔‘‘
’’ارے، کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ بس، آپ کی آواز سننے کو دل کر رہا ہے۔‘‘
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر انہوں نے بہت پیار سے کہا:
’’اللہ خیر کرے، میرا پتر ٹھیک تو ہے نا؟‘‘
میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
برسوں پہلے میں نے یہی تو جاننا چاہا تھا کہ ماں کو کیسے خبر ہوتی ہے کہ بچے کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
آج سمجھ آیا کہ ماں کو ہر بات کی خبر نہیں ہوتی۔ وہ تو بس اپنے بچے کے چہرے، آواز اور خاموشی میں اُس کا حال ڈھونڈتی رہتی ہے۔ کبھی اُس کی ضد میں چھپی پریشانی پہچان لیتی ہے، کبھی اُس کی ہنسی میں تھکن، کبھی اُس کے لفظوں میں چھپا دکھ۔
اور کبھی اُس کے بڑے ہو جانے کے باوجود اُس کے اندر بیٹھے چھوٹے سے بچے کو پہچان لیتی ہے۔
میں فون کان سے لگائے روتا رہا۔
اُدھر امّی بار بار پوچھتی رہیں:
’’حمزہ پتر، ہوا کیا ہے؟ کچھ بتا تو سہی۔‘‘
میں اُنہیں کیا بتاتا؟
یہ کہ آج مجھے دہی لینے بازار جانا ہے۔
یہ کہ آج مجھے روٹی کے نوالے پر نخرے کرنے ہیں۔
یہ کہ آج مجھے اُن کی گود میں سر رکھ کر رونا ہے۔
یہ کہ آج میں دنیا کا سارا کام چھوڑ کر صرف اُن کا بچہ بن جانا چاہتا ہوں۔
میں نے صرف اتنا کہا:
’’کچھ نہیں امّی۔ بس، آپ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
وہ ہنس دیں۔
’’پاگل کہیں کا! ماں سے بھی کوئی محبت کہتا ہے؟‘‘
اور میں سوچتا رہ گیا کہ شاید ماں سے محبت کہنے کی چیز نہیں ہوتی۔ یہ تو وہ گھر ہے جہاں آدمی ساری عمر لوٹنے کا راستہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔
بچپن میں میں نے ماں کی محبت کا امتحان لیا تھا؛ عمر نے مجھے سکھایا کہ ماں کبھی امتحان میں نہیں ہارتی، ہار تو وہ بچہ جاتا ہے جو اُس کی محبت کو معمولی سمجھ کر جینا سیکھ لیتا ہے۔
افسانہ: اماں جی ۔۔
©️ انتخاب سخن