22؍اکتوبر 1978 اردو اور دکنی زبان کے مزاحیہ شاعر س…


22؍اکتوبر 1978
اردو اور دکنی زبان کے مزاحیہ شاعر سلیمان_خطیبؔ کا یومِ وفات
سُلیمان خطیبؔ 26؍دسمبر 1922ء کو سابق ریاستِ حیدرآباد کے ضلع گلبرگہ، بیدر کے مقام چٹگوپہ، تعلقہ ہمنا آباد (کرناٹک) میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد عہدِ عالمگیری میں جامع مسجد چٹگوپہ کے خطیب رہے، خطیب ان کا خاندانی نام ہے جسے انہوں نے اپنا تخلص قرار دیا۔ والد کا نام محمد صادق خطیب تھا۔ والدین کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد بڑے بھائی وزیر الدین کی خاص توجہ سے رائچور میں اسکول کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سلیمان خطؔیب 1946ء میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے، دس اولاد ہوئیں جن میں پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں۔
سلیمان خطؔیب 22؍اکتوبر 1978ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
منتخب کلام
مانا حریف کہکشاں، اور بھی تجھ سے تھے مگر
میری نظر نے چن لیا، اپنی نظر کو کیا کروں
تیرا جو ذکر چھیڑ گیا، آنکھ سے اشک گر پڑے
دامن تر چھپا لیا، دیدۂ تر کو کیا کروں
صبر کا حکم خوب ہے، لیکن حضور یہ کہیں
سوزِ دروں کا کیا بنے، دردِجگر کو کیا کروں
تیرے بغیر زندگی، کتنی اداس ہے مری
ایسے اداس لے کے میں، شام و سحر کو کیا کروں
شامِ فراق میں خطؔیب، داغِ جگر کی روشنی
شمس و قمر سے بڑھ کے ہے، شمس و قمر کو کیا کروں
……
چمچے کی نہیں قید وہ چھوٹا کہ بڑا ہو
ہر کام ڈبونے کا کیا کرتے ہیں چمچے
کفگیر تو کر دیتی ہے دیگوں کا صفایا
مشقاب کٹوروں میں بھرا کرتے ہیں چمچے
کہنے کو تو چمچوں کے مقامات الگ ہیں
لیکن کوئی محفل ہو، رہا کرتے ہیں چمچے
دنیا میں بڑی چیز ہے یہ چمچہ گری بھی
ہر کام کو مل جاتے ہیں ہر دام کے چمچے
دنیا کو نچا دیتی ہیں امریکی پلیٹیں
رسوائے زمانہ ہوئے ویتنام کے چمچے
بے بات کی ہر بات اڑا دیتے ہیں چمچے
ہر گھر میں نئی آگ لگا دیتے ہیں چمچے
یہ ان کی عنایت ہے نوازش ہے کرم ہے
آپس میں شریفوں کو لڑا دیتے ہیں چمچے
معصوم کبوتر کو بڑھا دیتے ہیں اتنا
خونخوار بلاوڑ سے لڑا دیتے ہیں چمچے
سرکار تو پشتو سے گنہ گار رہے ہیں
کچھ بار گنہ اور بڑھا دیتے ہیں چمچے
ہر وقت ڈٹے رہتے ہیں دستر کے بلاوڑ
اور سیٹھ کے جینے کی دعا دیتے ہیں چمچے
کچھ اتنی محبت سے اٹھا دیتے ہیں اوپر
سرکار کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں چمچے
ظلمت کی تراشیدہ ہیں ارواح خبیثہ
قندیل صداقت کو بجھا دیتے ہیں چمچے
اک نارِ جہنم ہیں کہ اولادِ شمر ہیں
شبیر کے خیمہ کو جلا دیتے ہیں چمچے
کوفی ہیں، دغاباز ہیں، ظالم ہیں شقی ہیں
پیاسے کو لب نہر کٹا دیتے ہیں چمچے
اشرار کے بھیجے ہوئے وہ خارِ مغیلاں
راہوں میں پیمبر کی بچھا دیتے ہیں چمچے
…….
ہے الیکشن عوام کا موسم
جیسے جامن کا آم کا موسم
کچھ مسلسل کلام کا موسم
مینڈکوں کے زکام کا موسم
دست بستہ نمستے ہوتا ہے
بے سبب احترام کا موسم
در بدر کے طواف ہوتے ہیں
لیڈروں کے سلام کا موسم
آقا نوکر کے پاؤں دھوتا ہے
چند روزہ غلام کا موسم
لڑنا مرنا، جلوس، جے کاری
ان کے کچھ انتظام کا موسم
کچھ گرجتے ہیں شیر پی پی کے
رندِ عالی مقام کا موسم
کوچے کوچے میں آج بھاشن ہے
کیا سہانا ہے شام کا موسم
مرثیہ کردیا قصیدہ کو
شاعر مقام بے مقام موسم
آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے ہیں
دل کو دل سے پیام کا موسم
نام ڈوبے ہیں، نام چمکے ہیں
گو الیکشن ہے نام کا موسم
لال پیلی ہوئی ہیں دیواریں
گویا نقشِ دوام کا موسم
آلو ٹھہرا ہے، گدھا ٹھہرا ہے
کچھ مصور کے کام کا موسم
………………………………