پہلے کبھی پوچھا تھا جو اب پوچھ رہی ہے دنیا مرے لُٹ…


پہلے کبھی پوچھا تھا جو اب پوچھ رہی ہے
دنیا مرے لُٹنے کا سبب پوچھ رہی ہے
…
حق کانپوری کا یومِ وفات
(پیدائش: 7 اکتوبر 1942ء – وفات: 22 اکتوبر 2019ء)
——
منتخب کلام
——
دل کو موہ لینے کے اور رُخ نکالیے
پتھروں کے شہر میں آئینے نہ ڈھالیے
——
کون آ گیا تھا میرے خواب کے دیار
جانے کس کو ڈھونڈنے دور تک نظر گئی
پہلے تو اُلجھ گیا تھا میں مہو نجوم میں
بعد میں میری نظر تیرے حسن پر گئی
میری کائنات میں ایک نور بھر گیا
آپ مسکرا دیئے زندگیِ سنور گئی
——
تجھ کو پانے کے لئے دونوں جہاں دیکھے گئے
یہ زمیں روندی گئی یہ آسماں دیکھے گئے
کیا بتائیں؟ حضرتِ زاہد کہاں دیکھے گئے
وہ جہاں دیکھے نہ جاتے تھے وہاں دیکھے گئے
منزلِ مقصود تھی سب کی نظر کے سامنے
اک ہمیں تھے کارواں در کارواں دیکھے گئے
انقلاباتِ زمانہ کا کرشمہ دیکھ کر
سر فروشانِ وطن بھی بدگماں دیکھے گئے
میں وہ رسوائے محبت ہوں کہ ہر اک بزم میں
میرے چرچے داستاں در داستاں دیکھے گئے
حقؔ کوئی پھر حادثہ گزرا ہے کیا اس دور میں
لوگ اخباروں کی پڑھتے سرخیاں دیکھے گئے
…………………………………