کتابوں کے ساتھ سماج کا سوتیلا پن ​ ​پچھلے دنوں می…


کتابوں کے ساتھ سماج کا سوتیلا پن

​
​پچھلے دنوں میں نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ جن باذوق اور علم دوست لوگوں نے پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سال لگا کر کتابیں جمع کی تھیں، ان کی آنکھ بند ہونے کے بعد کتابوں کے ان ذخیروں کا کیا بنے گا؟ میرا خیال تھا کہ اس بارے میں ہر طرف سے تبصرے اور مشورے آئیں گے۔ کچھ نہ آیا۔ بالخصوص اکثر احباب جو خاموش ہیں، دل ہی دل میں کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ کہ نہیں ابھی کچھ عرصہ اور، ابھی کچھ اور جی لیں، فی الحال جی تو رہے ہیں۔
​میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ احباب دنیا سے گزر جانے کی باتیں کریں اور دل کو دکھانے والا لب و لہجہ اختیار کریں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ لوگ سنجیدگی سے نہ صرف سوچیں بلکہ کوئی عملی قدم اٹھا کر یہ طے کریں کہ ان کی کتابیں کہیں ٹھکانے لگانے کا کیا بندوبست ہوگا، یہ کتابیں ردی والے کو بلا کر اس کے حوالے تو نہیں کر دی جائیں گی۔
​لگے ہاتھوں ایک کتاب کی کہانی سن لیجیے۔ میں ستر کے عشرے میں لندن کی انڈیا آفس لائبریری اور برٹش لائبریری میں اپنے دادا پردادا کے زمانے کی اردو کتابیں دیکھ رہا تھا، اس وقت سیکڑوں کتابیں میری نظر سے گزریں۔ ان میں ایک کتاب میرے ذہن پر اپنا نقش چھوڑ گئی۔ اس کتاب کا نام ‘الوانِ نعمت’ تھا اور وہ 1876ء میں دہلی میں چھپی تھی۔ کوئی بلاقِی داس اس کے مصنف تھے اور اس حیرت انگیز کتاب میں لکھا تھا کہ انیسویں صدی میں کھانے کیسے پکائے جاتے تھے۔ میں نے ایک بار ڈاکٹر جمیل جالبی سے بلاقی داس کا ذکر کیا۔ وہ تو اردو ادب کی لاجواب تاریخ لکھ چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بلاقی داس پرانی دلی کے کتب فروش تھے، خود کتابیں لکھتے تھے اور اپنے ہی چھاپے خانے میں چھاپتے تھے۔ میں اس کتاب سے قورمہ پکانے کی ترکیب نقل کر لایا اور پھر جو قورمہ پکایا وہ خالص دلی کا انداز لیے ہوئے تھا ۔
​میں عرصے تک سوچتا رہا کہ بلاقِ داس کی کتاب سے مواد لے کر اپنے کھانے پکانے کے طور طریقوں پر کتاب لکھوں گا۔ وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ لائبریری جا نا، اور پرانی کتابوں میں سر کھپانا میرے لیے مشکل ہوتا گیا، پچھلے ہی دنوں مجھے اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے مثال کام کرنے والی ” ریختہ فاؤنڈیشن ” کے سالم سلیم صاحب کا خیال آیا جو اچھے دوست ہیں۔ میں نے ان سے ‘الوانِ نعمت’ کا ذکر کیا، خیال تھا ان کے ذخیرے میں موجود ہوگی۔ نہیں تھی۔ مگر وہ ڈٹ گئے اور کہنے لگے کہ شہرِ دلی میں کہیں نہ کہیں ملے گی ضرور۔ کچھ روز بعد نہ صرف ان کی خوش خبری آئی بلکہ ‘الوانِ نعمت’ کی پوری نقل کمپیوٹر کے ذریعے آگئی۔ پرانی دلی کے کسی کتب خانے میں موجود تھی۔ یہ اس کا دوسرا ایڈیشن تھا جو سات سال بعد 1883ء میں چھپا تھا اور میں نے تو صرف ایک جلد دیکھی تھی۔ اس بار بلاقی داس نے کتاب تین جلدوں میں مکمل کی اور اورنگ زیب کے زمانے سے لے کر بلاقی داس کے زمانے تک کھانے کیسے پکائے جاتے تھے، سارے نسخے جمع کر دیے۔ جب گھی کو روغن زرد اور دھنیے کو کشنیز کہا جاتا تھا اور کسی کھانے میں آلو اور ٹماٹر کا ذکر تک نہ تھا۔ اب بلاقی داس کے اس کارنامے کے ساتھ کیا ہونا چاہیے، بعد میں سوچیں گے۔ ابھی تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ دلی والوں نے اپنے بزرگوں کی یادگار کتابیں حفاظت سے رکھی ہیں اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ تاریخ لکھنے والے ان کارروائیوں کی قدر جانتے ہیں۔
​اسی دوران مجھے پاکستان کے شہر کوئٹہ سے اپنے دوست عبد القادر رند کا برقی خط ملا جس میں ان کے علاقے بلوچستان کے عظیم اسکالر ڈاکٹر عبد الرحمان براہوئی کا ذکر ہے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں، رند صاحب کے بقول، دس ہزار سے زیادہ کتابیں ہیں اور وہ بھی نادر اور نایاب۔ اس وقت ڈاکٹر براہوئی کی عمر نوے برس ہے اور انہیں فکر ستائے جا رہی ہے کہ ان کتابوں کا کیا ہوگا۔ رند صاحب کے خط سے اشارہ ملتا ہے کہ بلوچستان کے ان دور دراز علاقوں میں کتابوں کے خدا جانے کتنے ذخیرے اپنے مالکوں کی طرح آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے حکومت سے بار بار درخواست کی گئی ہے کہ ایک زمین کا ٹکڑا دیا جائے جہاں کتب خانہ قائم کر کے علم کے ان جواہر کو یک جا کر دیا جائے تاکہ علم کی متلاشی دنیا ان سے مستفید ہو۔ مگر حکومت کو دوسرے جھمیلوں سے نجات ملے تو علم و آگہی کی خاطر کچھ کرے۔ میں نے عمر کا بڑا حصہ کراچی میں گزارا۔ خوب جانتا ہوں کہ ملک کی تقسیم کے بعد جو لوگ ترکِ وطن کر کے نئے وطن پاکستان آئے تھے، جیسے بھی بنا، اپنے ساتھ بزرگوں کی چھوڑی ہوئی کتابیں لے آئے تھے۔ وہ شکم کی آگ میں جلتے ہوئے ہجرت کے مارے ہوئے لوگ ایک ایک کر کے خالقِ حقیقی کے دربار میں اپنے نام لکھاتے گئے۔ اور وہ جن کتابوں کو اپنی گود میں رکھ کر لائے تھے وہ آج تک ہر اتوار کے روز شہر کے فٹ پاتھ پر فروخت ہوتی ہیں۔ پھر خیال ہوتا ہے کہ اسی بہانے یہ کتابیں علم دوستوں کے گھروں میں منتقل ہو رہی ہیں۔ مگر یہ سعادت ہر کتاب کو نصیب نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کتنی ہی کتابیں مقدس اور متبرک جان کر دریا میں بہا دی گئیں یا دفن کر دی گئیں۔ ہم کتابوں کے ایسے عاشقوں سے واقف ہیں جنہوں نے کنوؤں میں اتر کر یا قبرستان میں زمین کھود کر نایاب کتابوں کو مٹنے سے بچایا ہے۔ مگر ایسے سرپھرے کتنے ہوں گے۔ انگلیوں پر گنیں تو دو چار انگلیاں بھی بچ رہیں گی

(رضا علی عابدی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی