میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی
مری غیور امنگو ! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی
سفینہ محوِ سفر ہو تو نا رسیدہ نہیں
قدم قدم پہ کنارے ہیں تم سدھارو بھی
مرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اداس نقش گرو! اب مجھے نکھارو بھی
بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ خیال
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی
مری تلاش کی معراج ہو تمہی ، لیکن
نقاب اٹھاؤ! نشانِ سفر ابھارو بھی
یہ کائنات ازل سے سپردِ انساں ہے
مگر ندیم تم اِس بوجھ کو سہارو بھی
(احمد ندیم قاسمی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی