آج سے قبل تو بہروپیوں کی کہانیاں پڑھی تھیں لیکن آج چشمِ بینا نے ایک عجب بہروپیہ دیکھا، اس بہروپیے کی چنگل میں کتنے مسافر پھنسیں ہوں گے، آپ اندازہ ہی کر سکتے ہیں !
اسلام آباد مری روڈ سے گزرتے ہوئے اچانک ایک زیارت کا مجاور جس کا ظاہری حلیہ ٹھیٹھ مذہبی پیر کا سا تھا، گاڑی کے سامنے آن نمودار ہوا، ہم نے ان ڈرائیو گاڑی کی ہوئی تھی جس کے ڈرائیور نے بڑی مشکل سے آخری لمحے میں بریک لگائی، ڈرائیور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اس بہروپیے نے خدا کے واسطے دینے شروع کر دئیے، گاڑی میں جھانکا اور زیر لب کچھ کلمات پڑھنے لگا، ڈرائیور نے پہنچی ہوئی سرکار سمجھ کر جیب سے سو روپے کا نوٹ نکالا اور اسے پکڑا دیا جسے اس نے کہر آلود نگاہ سے دیکھ کر واپس کر دیا، میں بھی حیران کہ بھلا اس قدر قناعت پسندی ! اتنے میں وہ شخص پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے میری طرف متوجہ ہوا اور التجا کی کہ آپ چندہ دیں، میں نے بٹوا نکالا اور پچاس کا نوٹ نکال کر اس کی جانب جیسے ہی بڑھایا تو اس نے جلدی سے میرے بٹوے پر ہاتھ ڈال دیا، کہنے لگا، ہمیں ان پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم تو بس دل دیکھتے ہیں ! میں نے اصرار کیا کہ مجھے میرا بٹوا واپس کرو لیکن وہ بضد تھا کہ ذرا رُکو وہ کوئی دم کر رہا ہے، اسی دوران اس نے ڈرائیور سمیت ہم تینوں کو کچھ کلمات سکھائے کہ یہ پڑھا کرو، مال میں برکت ہوگی ۔
میں گاڑی سے اترا اور اس سے بٹوا کھینچنے کی کوشش کی تو اس نے بٹوا واپس کر دیا لیکن بیچ میں سے پانچ ہزار کے دو نوٹ نکال لیئے اور انہیں جلدی سے منہ میں ڈال لیا، میں نے بہت کوشش کی لیکن وہ مسلسل چبانے لگا، میں نے اس کے جبڑوں میں بھی ہاتھ ڈالا جس سے میرا ہاتھ زخمی ہوا، خون بہنے لگا لیکن کیا کرتا، ایک غریب کے لئے دس ہزار بڑی رقم ہوتی ہے، کچھ دیر بعد اس نے منہ کھولا اور مجھے دکھانے لگا کہ پیسے میں نے نگل لیئے ہیں، میں نے جھٹ سے ڈرائیور کو کہا ” اس کے ذمہدار آپ ہیں ! آپ نے گاڑی کیوں روکی ہے ” ڈرائیور نے اتر کر اس پیر کو دھمکی دی کہ ہم آپ کو جھاڑیوں میں لے جاکر پتھروں سے ماریں گے اور بظاہر اس کو بازو سے پکڑ کر کھینچا جس پر وہ کہنے لگا، اگر آپ مجھے پانچ سو روپے دے دیں تو میں اس کے پیسے واپس کرتا ہوں، جیسے ہی ڈرائیور نے پانچ سو کا نوٹ تھمایا تو اس نے بند مُٹھی کھولی اور چبائے ہوئے وہ پیسے دوبارہ برآمد کر لئے، جس کو میں نے جلدی سے اچک لیا اور اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے ۔
ایسے لوگ اس لیئے بھی زیادہ خطرناک ہیں کہ ان لوگوں کو قانونی کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے نہ ہی ان کے ساتھ مقابلہ بازی ممکن ہے، بھلا آپ اپنا سر دیوار پر ماریں گے ! بس ایسے لوگوں کو صرف نظر انداز کیا جائے اور خدا را ان کے پاس ٹھہرنے کی حماقت نہ کریں ۔
گل زیب قریشی ✍️
Source