سر پر غم دنیا کی بڑی دھوپ کڑی ہے
اور آنکھ تیرے گنبد خضریٰ پہ گڑی ہے
اے شافع محشر ہمیں کملی میں چھپا لے
امت تیری دہلیز پہ شرمندہ کھڑی ہے
ہم فرش نشین عرش کے ہمسائے کے عاشق
بیٹھے ہیں کہاں اور کہاں آنکھ لڑی ہے
ہم محفل کونین میں گم ہو نہیں سکتے
گردن میں تیرے نام کی زنجیر پڑی ہے
سرکار زیارت کا ہمیں جام پلا دے
اک آخری ہچکی ہے جو سینے میں اڑی ہے
یہ سوچ کے طیبہ میں نہیں اٹھتی نگاہیں
ہم لوگ بہت چھوٹے ہیں درگاہ بڑی ہے
جس دن سے کیا اسم محمد کا وظیفہ
تحسین میرے بخت پہ رحمت کی جھڑی ہے
(یونس تحسین)
Yunus Tehseen
انتخاب :-: ابووالحسن علی ندوی