پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

#blacklivesmatter جوزفین سلیمان کا فرانسس اوّ…

#blacklivesmatter

جوزفین سلیمان کا فرانسس اوّل کو تیسرا خط

ظل الہٰی کی طرف سے ہنوز خاموشی ہے ۔۔۔ آپ بلاشبہ ریاست کے اہم معاملات میں مصروف ہوں گے۔۔۔ مگر میں اپنی کوشش ترک نہ کروں گی۔۔۔ لہٰذا میں عالی جاہ کو ایک بار پھر رحم کی استدعا تحریر کر رہی ہوں ۔۔۔ میں نے آخری خط قریب دو سال پہلے ارسال کیا تھا مگر مجھے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔۔۔ لہٰذا ایک بار پھر میں اپنی عرض دہراتی ہوں۔۔۔
میں اینجل سلیمان، ظل سبحانی کے خادم۔۔سلطنت کے ایک نامور سفارتکار۔۔ایک باوصف اور ہر دلعزیز انسان ، کی اکلوتی اولاد ہوں۔۔۔ میں اپنے لئے انصاف کی خواستگار ہوں ۔۔۔مجھے سکھ کیونکر نصیب ہو سکتا ہے یہ جان کے کہ میرے والد، انکے جسد خاکی کو ، ابھی تک مسیحی تدفین نصیب نہیں ہوئی ، بلکہ اس کے بر عکس اسے حنوط کر کے اور کیمیائی مادے لگا کر آپ کے شاہی دربار میں نظارے کے لئے ’تجسس کی الماریوں‘ میں رکھ دیا گیا ہے۔۔۔
جب سے میرے بیٹے کا جنم ہوا ہے ، میں ایک ایسے عارضے کا شکار ہوں جو دن بہ دن بگڑتا جا رہا ہے ۔۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ معاملہ بھی اتنا ہی مایوس کن ہے جتنی میری صحت ۔۔ مجھے یقین ہو چلا ہے کہ جو مجھے حاصل کرنا ہے۔۔ کبھی نہ ہو گا۔۔ اس کا امکان دانت کی کھال برابر ہے ۔۔۔ (لفظ ’کھال ‘ یہاں بالکل بجا ہے) ۔۔ مجھے ایک مرتبہ پھر کہنے کی اجازت دی جائے تو عرض کروں، میرے والد جب فوت ہوئے تو ان کی ’کھال‘ اتار دی گئی ۔۔۔ پھر انھیں حنوط کر دیا گیا۔۔ اور اب وہ ایک نمائشی شے کے طور عالی جاہ کے مجموعات کا حصہ ہیں۔۔
جناب عزت مآب نے ایک جوان ماں کو انکار کیا ۔۔ مگر اب جو بستر مرگ پہ ہے، جوان ما ں نہیں ۔۔۔ میں ویانا سے رخصت ہونے سے قبل اس خوفناک جگہ گئی تھی۔۔ کیونکہ میری شادی جناب ِ عالی کے خدمت گار وان فریچرز لیبن ، فوجی انجنئیر سے ہوئی ہے جس کا تبادلہ بعد میں ملک کے شمالی علاقے، کراکو، میں ہو گیا۔۔۔ میں وہیں تھی، میں نے خود دیکھا۔۔ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے باپ کو جہنم میں دیکھ کر آ رہی ہوں کیونکہ بحیثیت ایک کیتھولک کے میرا ایمان ہے کہ جسم کے بغیر وہ روزِ محشر دوبارہ جِلا بھی نہ پائیں گے۔۔۔ میرا ایمان یہ بھی ہے ، گو کہ کچھ لوگ ایسا نہیں مانتے، کہ ہمارا جسم ایک عظیم عنایت ہے۔۔ جو بے حد مقدس ہے۔
جب خدا انسان کے روپ میں آیا تو آدمی کا جسم اسے ہمیشہ کے لئے عطا کیا گیا۔۔ اور آدم کی یہی انفرادی اور واحد وضع پوری دنیا نے اپنائی ۔۔۔ بغیر اس جسم کے نہ تو لوگوں تک نہ ہی اس دنیا تک رسائی کا اور کوئی ذریعہ ہے۔۔ یسوع مسیح نے بھی انسانی روپ نہ دھارا ہوتا تو ہماری نجات ممکن نہ تھی۔۔
کسی جانور کی طرح میرے والد کی کھال اتار دی گئی۔۔ پھر بے ڈھنگے پن سے انھیں گھاس پھونس سے حنوط کیا گیا ۔۔ اور پھر انھیں دیگر حنوط شدہ انسانوں کے ساتھ، یونیکارن (یک سنگے) ، کریہہ کرِلوں، شراب میں تیرتے جڑواں سر والے نا مولود بچوں اور دیگر عجائبات کے ساتھ رکھ دیا گیا ۔۔۔ ظلِ الٰہی میں نے لوگوں کو آپکے نوادرات کو دلچسپی سے سراہتے ہوئے دیکھا اور میں نے دیکھا کہ میرے والد کی جلد دیکھ کر ان کے چہر ے کیسے کھل اٹھتے ہیں ۔۔ میں نے انھیں آپکے جذبے اور آپکے حوصلے کی داد دیتے سنا ہے ۔۔۔
اگر کبھی آپ اپنے نوادرات کی نمائش تک جائیں جناب اعلیٰ ، تو اس کے پاس ضرور جائیے گا۔۔۔ اینجل سلیمان کے پاس۔۔۔ جو آپکا وفادار خادم تھا، جس کی کھال مرنے کے بعد بھی آپکی خدمت گزاری میں لگی ہے۔۔۔وہ ہاتھ، جن میں اب تنکے ٹھونس دیئے گئے ہیں، کبھی وہ ہاتھ مجھے تھامتے تھے اور میرا حوصلہ بڑھاتے تھے ۔۔ وہ چہرہ جو اب خشک ہو چکا ہے اور ایک غار میں مقید ہے ، کبھی وہ میرے چہرے سے مس ہوا کرتا تھا۔۔ وہ جسم جو کبھی محبت لٹاتا تھا اور جس سے محبت کی جاتی تھی۔۔۔حتیٰ کہ گٹھیا کے مرض کے حملے میرے باپ کو لے بیٹھے۔۔
آپکے اپنے طبیب نے میرے والد کے بازو سے خون نکال بہایا ۔۔۔اور اب اس کے جسم کی باقیات کو میرے والد کے نام کا سرنامہ لگا دیا گیا ہے جو کبھی ایک جیتا جاگتا انسان تھا۔۔۔ یہ بات مجھے سکون سے سونے نہیں دیتی ۔۔۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ میرے والد کے ساتھ ایسے ظالمانہ روئیے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔(خدا انھیں غریق ِ رحمت کرے)
کیا اس کی وجہ محض ان کی جلد کا رنگ ہے؟ سیاہ؟ رنگت میں کالا ہونا؟ کیا ایک سفید فام کو بھی کسی اجنبی زمین پہ یوں حنوط کیا جا سکتا ہے اور یوں راہ چلتے لوگوں کے لئے نمائش کا سامان بنایا جا سکتا ہے؟ کیا محض ایک انسان کا دوسروں سے بیرونی یا اندرونی طور پہ مختلف ہونا اس بات کے لئے کافی ہے کہ اسے اس کے حقوق سے، اس کی روایات سے محروم کر دیا جائے؟ کیا یہ تمام حقوق صرف ان لوگوں کے لئیے ہیں جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں؟۔۔۔ مگر یہ دنیا تو تنوع سے بھرپور ہے۔۔ جنوب میں میلوں تک ایسے لوگ بستے ہیں جو شمال میں رہنے والوں سے مختلف ہیں۔۔۔ اسی طرح مشرق والے مغرب میں بسنے والوں سے جدا۔۔۔ تو پھر یہ کیسا قانون ہے جو چند لوگوں پہ لاگو ہوتا ہے؟ قانون تو بلا امتیاز سب کے لئے ایک سا ہونا چاہئے جہاں تک ہمارا پیسہ ، ہمارے جہاز ہمیں لے جائیں ۔۔۔ اگر آپ کا یہ درباری گورا ہوتا تو کیا آپ تب بھی اسے حنوط کرتے؟ حقیر سے حقیر انسان کو بھی موت کے بعد تدفین کا حق ہوتا ہے ۔۔میرے والد سے یہ حق چھین کر کیا آپ انھیں انسان ہونے کے حق سے محروم نہیں قرار دے رہے؟
میرا یقین ہے کہ حکمرانوں کو ہماری روح پہ کوئی اختیار نہیں جیسا کہ عمومی طور پہ سمجھ لیا گیا ہے۔۔ آج روح کا تصور سمجھنا اور اس سے ہم آہنگ ہونا دشوار ہو گیا ہے۔۔ اگر تو خدا وہ ہے جس نے وقت کو چابی دے رکھی ہے (خدا میری تلخ کلامی معاف کرے) جو عصر کا خالق ہے، جو دراصل اس کائنات کی روح ہے، وہ خدا اگر مبہم اور لاتعلق ہو جائے تو ’روح‘ کا یہ تصور تکلیف اور ندامت کا سبب بن جائے۔۔۔ کون سا حاکمِ (خدا) ہو گا جو عارضی اور غیر متعین شے کے ذریعے حکمرانی کرے گا؟

اور کون ایسا دانا حکمران ہو گا جو اپنی طاقت کسی ایسی شے پہ منوائے گا جس کا وجود لیبارٹری میں ثابت ہی نہ کیا جا سکے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں ، شہنشاہ معظم ، کہ انسان کی طاقت محض انسانی جسم کو ہی متاثر کر سکتی ہے۔۔۔ اور دراصل یہی ہوتا ہے یہاں۔۔ ممالک کا وجود اور ان کے درمیان بچھی سرحدیں محض انسانی جسم کے ہی ایک مخصوص جگہ قیام پذیر ہونے کا تقاضہ کرتی ہیں۔۔ یہ ویزے، یہ پاسپورٹ ہیں ہی محض اس لئے کہ اس جسم کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے اور سفر کرنے کی فطری خواہش کو لگام ڈالی جائے ۔۔ وہ حاکم جو ٹیکس لگاتا ہے اختیار قائم کرتا ہے اس بات پہ کہ اس کی رعایا کیا کھائے گی، کیسے بستر پہ سوئے گی اور عوام کیا زیب تن کریں گے، لینن یا ریشم ۔۔
آپ بھی یہی ثابت کر رہے ہیں کہ کون سے جسم زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور کون سے کم۔۔۔
اب ماں کی دودھ بھری چھاتیوں سے غذا غیر یکساں تقسیم ہو گی۔۔ چوٹی پہ بنے محل کا بچہ سیر ہو کر دودھ پئے گا جبکہ نیچے وادی میں گاؤں کا بچہ محض بچے کھچے پہ اکتفا کرے گا۔۔ اور جب اعلی حضت اعلان جنگ فرما تے ہیں تو ہزاروں جسموں کو خون کی ندیوں میں بہا دیا جاتا ہے۔۔۔
جسم پہ حکمرانی ہی دراصل زندگی اور موت کا بادشاہ بننے جیسا ہے جس کا نشہ دنیا کے سب سے عظیم ملک پہ حکومت کرنے سے کہیں برتر ہے۔۔۔ تو لہٰذا، آج میں آپ کو اسی تصور سے خط لکھ رہی ہوں ۔۔۔آپ جو زندگی اور موت
کے ٹھیکیدار ہیں۔۔ آپ جو جابر اور غاصب ہیں ۔۔آج میں آپ سے درخواست نہیں بلکہ تقاضہ کرتی ہوں ۔۔۔میرے والد کی میت میرے حوالے کی جائے تا کہ میں اس کو دفنا سکوں۔۔ میرے آقا، میں آپ کا پیچھا کرتی رہوں گی، ظلمت سے اٹھنے والی آواز کی طرح۔۔۔میں مر بھی گئی تو میں آپ کو مرنے نہیں دوں گی۔۔ میری سرگوشیاں کبھی آپکا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔۔۔

جوزفین سلیمان وان فشٹرسلیبن

An Excerpt from FLIGHTS—
A Fragmentary novel by Olga Tacarczuk

Translation by Nibras Sohail

Notes:
(A cultured man, Soliman was highly respected in the intellectual circles of Vienna and counted as a valued friend by Austrian Emperor Joseph II and Count Franz Moritz von Lacy.

Soliman was regarded as a model of the assimilation and perfectibility of Africans. This African slave later came to be known as the "royal Moor", the "noble Moor", the "physiognomic Moor" and the "mummified Moor".

Instead of receiving a Christian burial, Soliman was – at the request of the director of the Imperial Natural History Collection – skinned, stuffed and made into an exhibit within their cabinet of curiosities. Decked out in ostrich feathers and glass beads, this mummy was on display until 1806 as an exemplary African "savage". Soliman's daughter Josefine sought to have his remains returned to the family, but her petitions were in vain. During the October revolution of 1848, the mummy got burned. A plaster cast of Soliman's head made shortly after his death of a stroke in 1796 is still on display in the Rollett Museum in Baden. His grandson was the Austrian writer Eduard von Feuchtersleben.)






بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2819186598311855