#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #قسط_نمبر_05 وفا غ…

#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_05
وفا غصےسے تلملاتی ہوئی آریان کے آفس سے نکلی تھی اورکلاس میں گئی بے دلی سے سارے لیکچر لئے اور ہوسٹل آگئی آگے سارا میڈم مووی دیکھنے میں مگن تھیں لیپ ٹاپ پے اور گود میں رکھاپاپ کارن کا باؤل حتم ہونے کے قریب تھاوفا نے تھکے ھوے انداز میں بیگ ٹیبل پے رکھا اور آکے سارا کے ساتھ بیٹھ گئی
"کونسی مووی دیکھ رہی ہو؟”
"بلیک پینتھر (bleak پےطےڑ”
"کچھ کھاؤ گی لاؤں” (سارا نے پوچھا
"نہیں دل نہیں ہے ابھی "(وفا نے اداسی سے جواب دیا اس کا موڈ بری طرح حرا ب ہو چکا تھا
"کچھ ہوا ہے کیا کالج” (سارا نے اسکی اداس شکل دیکھ کر پوچھا
"نہیں کچھ نہیں ہوا بس تھک گئی ہوں "(وفا نے اسے بتانا "مناسب نا سمجھا کے وہ حوا محواہ پریشان ہوتی رہے گی
اچھا تم آرام کر لو تھوڑی دیر "(سارا مطمئن تو نہیں تھی ہوئی پڑ سوچا کے بعد میں پوچھ لے گی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رات کھانے کی ٹیبل پڑ خلاف توقع خاموشی تھی جسے آریان نے بھی محسوس کیا تھا
آریان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بابا سے پوچھا جنھوں نے حرم کی طرف اشارہ کیا جو کےمنہ پھلاے کھانا کھا رہی تھی
"بابایہ آج ہمارا ریڈیو کیا حراب ہو گیاہے بڑی حاموشی ہے”(آریان نے حرم کی طرف دیکھتے ھوےکہا جس پڑ حرم اسے ایک گھوری سے نواز تی دوبارہ کھانے میں مشغول ہو چکی تھی
"لگتا ہے معملہ زیادہ حراب ہےہے نا بابا” (اب بابا سےتا ئید چاہی
"میں تو کچھ نہیں کہ سکتا یہ تو تم جانو” (احسن صاحب نےبھی ہری جھنڈی دکھائی
"کیا ہوا ہے ہماری شہزادی کو "(آریان حرم کی ساتھ والی چیئر پے بیٹھتے ھوے بولا
"آپ کو تو جیسے پتا ہی نہیں ہے نا اتنے معصوم نا بنیں” (حفگی بر قرار تھی
"تو جب تک مجھے بتاؤ گی نہیں مجھے پتا کیسے چلے گا ”
"آپ نے مجھ سے بولا تھا کے مجھے ٹریٹ دیں گے ابھی تک نہیں دی اور اب اب تو آپ بات ہی نا کریں ”
"اچھا تو یہ بات ہےٹھیک ہے کل تیار رہنا ٹریٹ کے ساتھ شاپنگ بھی کر لینا”
"سچ بھائی یو آڑ گریٹ” (حرم خوشی سے اسکے گلے لگ گئی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وفاصبح سے نوٹ کر رہی تھی کےکلاس کی لڑکیاں اسے دیکھتے ہی سرگوشیاں کرنا شر و ع کر دیتی ہیں ابھی وہ سارا کے ساتھ گارڈن میں بیٹھی تھی کے ایک لڑکی نے آکے اسے میتھ کی بک دی تو وفا کو یاد آیا کے کل یہ بک تو وہ آفس میں ہی چھوڑ آئ تھی ایک دو لیکچر لینے کے بعد سر درد کی وجہ سے وہ ہوسٹل جانے لگی ارادہ تھا بیگ وغیرہ لےکر ہوسٹل چلی جائے جیسے ہی کلاس میں دا حل ہوئی اسے دیکھ کر سرگو شیاں شر و ع ہو گیئں وہ جیسے ہی نظر انداز کر کے آگے بڑھی پیچھے سے آواز آئ
"شکل تو اتنی معصوم ہے اور کام دیکھو اس کے ”
"چھوڑو یار ایسا ہی ہوتا ہے آج کل اوپر سے کچھ اور اور اندر سے کچھ اور ”
"کیسا چکر چلا رہی ہے پرنسپل کے ساتھ” (بس اسکی برداشت یہیں تک تھی وہ بیگ اٹھا کے باہر نکل آئ اسے نہیں پتا تھا کے وہ کہاں جا رہی ہے بس کانوں میں وہی الفاظ گونج رہے تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سارا کالج میں تھی کے اسے وفا کا ٹیکسٹ ملا کے وہ ہوسٹل جا رہی ہے سارا واپس آئ تو وفا نہیں تھی اور اب تو شام ہو رہی تھی پڑ وفا کا کچھ پتا نہیں تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حرم آج شاپنگ کر کے اب آریان کے ساتھ سی سائیڈ پڑ آ گئی تھی
"بھائی ویسے کچھ اڑتی اڑتی سنی ہے میں نے” (حرم نے ساتھ چلتے آریان سے کہا
"کیا سنا ہے تم نے” (آریان کو کچھ کچھ اندازہ تو تھاکے وہ کس بارے میں بات کر رہی ہے
"یہی کے جو ہماری کلاس کی وفا ہے” ……(اس سے آگے اسنے بات ادھوری چھوڑ دی
"ہاں تو”
"کیا واقعی ایسا ہے بھائی ”
"اگر میں کہوں ہاں تو” (آریان نے مسکراتے ھوے کہا
"تو دیر کس بات کی ہے بابا سے بات کریں نا پھر "(حرم نے پر جوش لہجے میں کہا
"بھائی” (یک دم حرم کی آواز آئ
"ہوں”
"وہ دیکھیں وہ لڑکی پانی میں آگے جا رہی ہے” (حرم کے کہنے پڑ آریان نے چونک کے اس طرف دیکھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kren
جاری ہے


