ایک روز ایک طوائف میرے دفتر آئی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آواز کپکپا رہی تھی۔ کہنے لگی:
“صاحب! سولہ برس سے قرعہ ڈال رہی تھی، اس سال میرا نام حج کے لیے نکل آیا ہے۔ دل خوشی سے بھر گیا تھا، مگر اب ایک نیا خوف جان کھائے جا رہا ہے۔ اگر میں حج پر چلی گئی تو میرے محلے والے میرے گھر پر قبضہ کر لیں گے۔ میں اکیلی عورت ہوں، کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں۔ یہ سونے کے کنگن رشوت سمجھ لیجیے، بس اتنا کر دیجیے کہ جب تک میں حج سے واپس نہ آؤں، آپ اپنے کسی سرکاری ملازم کو میرے گھر پر تعینات کر دیں۔”
میں نے اس کے ہاتھ میں تھرتھراتے ہوئے کنگن دیکھے، پھر اس کے آنسوؤں میں بھیگی آنکھوں کو دیکھا۔ دل میں عجیب کشمکش پیدا ہوئی۔ وہ عورت معاشرے کی ٹھکرائی ہوئی تھی، مگر اس کے دل میں بیت اللہ کی طلب جاگ اٹھی تھی۔ میں نے نرمی سے کہا:
“میں رشوت نہیں لیتا، اور نہ ہی تمہارے کنگن مجھے چاہییں۔ مگر اگر تم میری ایک شرط مان لو تو میں تمہارا مسئلہ حل کر دوں گا۔”
وہ فوراً بولی:
“صاحب! جو شرط کہیں گے، منظور ہے۔ بس مجھے حج پر جانے سے نہ روکیں۔”
میں نے کہا:
“شرط یہ ہے کہ حج پر جانے سے پہلے تم ایک رات اپنے رب کے حضور سچے دل سے سجدے میں گزارو۔ نہ کسی انسان سے مانگو، نہ کسی وسیلے کا سہارا لو۔ بس اللہ سے کہو کہ اے اللہ! میں گناہوں میں ڈوبی رہی، لوگوں نے مجھے پہچان اسی نام سے دی، مگر اب تو نے خود مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔ اگر تو نے مجھے قبول کر لیا تو میرے لیے سب آسان کر دے۔”
یہ سن کر وہ عورت ساکت ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو تھم گئے، اور چہرے پر حیرت چھا گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے آہستہ آواز میں کہا:
“صاحب! میں نے ساری زندگی لوگوں کے دروازوں پر سر جھکایا ہے، مگر کبھی اللہ کے سامنے سر رکھ کر نہیں روئی۔ اگر یہی شرط ہے تو میں ضرور پوری کروں گی۔”
وہ کنگن میز پر رکھ کر چلی گئی۔
چند دن بعد وہ پھر آئی۔ اس بار اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، آواز میں سکون تھا۔ اس نے آتے ہی کہا:
“صاحب! میں نے وہ رات سجدے میں گزار دی۔ میں نے اللہ سے کچھ نہیں مانگا، بس اتنا کہا کہ اگر تو مجھے اپنے گھر بلا رہا ہے تو میری حفاظت بھی خود ہی کرنا۔”
میں نے خاموشی سے اس کی بات سنی، پھر اسی دن انتظام کروا دیا کہ ایک سرکاری ملازم اس کے گھر پر تعینات کر دیا جائے۔ نہ کنگن لیے، نہ کوئی احسان جتلایا۔ وہ عورت حج پر روانہ ہو گئی۔
مہینے بھر بعد جب وہ واپس لوٹی تو سیدھی میرے دفتر آئی۔ اب اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر چہرہ نور سے بھرا ہوا تھا۔ کہنے لگی:
“صاحب! میں حج کر آئی ہوں، مگر اصل بات حج نہیں۔ اصل بات وہ رات تھی جو میں نے اللہ کے سامنے گزاری۔ اس ایک رات نے میری زندگی بدل دی۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“کیسے؟”
وہ بولی:
“جب میں حج پر تھی تو محلے والوں نے میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ الٹا لوگ خود ہی اس ملازم کو کہتے رہے کہ گھر کا خیال رکھنا، یہ اللہ کی مہمان گئی ہوئی ہے۔ اور صاحب! میں نے وہاں جا کر محسوس کیا کہ اللہ کے گھر میں کوئی طوائف نہیں ہوتا، کوئی بدکار نہیں ہوتا، وہاں سب بندے ہوتے ہیں۔”
اس کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے، مگر اب وہ آنسو ندامت کے نہیں، شکر کے تھے۔ اس نے کہا:
“میں واپس آ کر اس پیشے میں دوبارہ نہیں جا سکتی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ باقی زندگی کسی چھوٹے موٹے کام میں گزار دوں گی، مگر وہ زندگی نہیں جیوں گی جو میں نے پہلے جی تھی۔”
میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس دن مجھے یہ سبق ملا کہ اللہ جسے چاہے ہدایت دے دیتا ہے، اور جب وہ بلاوا دے تو بندے کی پچھلی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ اصل تبدیلی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور ایک سچا سجدہ انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں برسوں کی عبادت بھی کبھی کبھی نہیں پہنچا پاتی۔
قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں:
“اس واقعے نے مجھے یقین دلا دیا کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ بند صرف انسان کے دل ہوتے
ہیں، اور جب دل کھل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔”

Source
“صاحب! سولہ برس سے قرعہ ڈال رہی تھی، اس سال میرا نام حج کے لیے نکل آیا ہے۔ دل خوشی سے بھر گیا تھا، مگر اب ایک نیا خوف جان کھائے جا رہا ہے۔ اگر میں حج پر چلی گئی تو میرے محلے والے میرے گھر پر قبضہ کر لیں گے۔ میں اکیلی عورت ہوں، کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں۔ یہ سونے کے کنگن رشوت سمجھ لیجیے، بس اتنا کر دیجیے کہ جب تک میں حج سے واپس نہ آؤں، آپ اپنے کسی سرکاری ملازم کو میرے گھر پر تعینات کر دیں۔”
میں نے اس کے ہاتھ میں تھرتھراتے ہوئے کنگن دیکھے، پھر اس کے آنسوؤں میں بھیگی آنکھوں کو دیکھا۔ دل میں عجیب کشمکش پیدا ہوئی۔ وہ عورت معاشرے کی ٹھکرائی ہوئی تھی، مگر اس کے دل میں بیت اللہ کی طلب جاگ اٹھی تھی۔ میں نے نرمی سے کہا:
“میں رشوت نہیں لیتا، اور نہ ہی تمہارے کنگن مجھے چاہییں۔ مگر اگر تم میری ایک شرط مان لو تو میں تمہارا مسئلہ حل کر دوں گا۔”
وہ فوراً بولی:
“صاحب! جو شرط کہیں گے، منظور ہے۔ بس مجھے حج پر جانے سے نہ روکیں۔”
میں نے کہا:
“شرط یہ ہے کہ حج پر جانے سے پہلے تم ایک رات اپنے رب کے حضور سچے دل سے سجدے میں گزارو۔ نہ کسی انسان سے مانگو، نہ کسی وسیلے کا سہارا لو۔ بس اللہ سے کہو کہ اے اللہ! میں گناہوں میں ڈوبی رہی، لوگوں نے مجھے پہچان اسی نام سے دی، مگر اب تو نے خود مجھے اپنے گھر بلایا ہے۔ اگر تو نے مجھے قبول کر لیا تو میرے لیے سب آسان کر دے۔”
یہ سن کر وہ عورت ساکت ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو تھم گئے، اور چہرے پر حیرت چھا گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے آہستہ آواز میں کہا:
“صاحب! میں نے ساری زندگی لوگوں کے دروازوں پر سر جھکایا ہے، مگر کبھی اللہ کے سامنے سر رکھ کر نہیں روئی۔ اگر یہی شرط ہے تو میں ضرور پوری کروں گی۔”
وہ کنگن میز پر رکھ کر چلی گئی۔
چند دن بعد وہ پھر آئی۔ اس بار اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، آواز میں سکون تھا۔ اس نے آتے ہی کہا:
“صاحب! میں نے وہ رات سجدے میں گزار دی۔ میں نے اللہ سے کچھ نہیں مانگا، بس اتنا کہا کہ اگر تو مجھے اپنے گھر بلا رہا ہے تو میری حفاظت بھی خود ہی کرنا۔”
میں نے خاموشی سے اس کی بات سنی، پھر اسی دن انتظام کروا دیا کہ ایک سرکاری ملازم اس کے گھر پر تعینات کر دیا جائے۔ نہ کنگن لیے، نہ کوئی احسان جتلایا۔ وہ عورت حج پر روانہ ہو گئی۔
مہینے بھر بعد جب وہ واپس لوٹی تو سیدھی میرے دفتر آئی۔ اب اس کے ہاتھ خالی تھے، مگر چہرہ نور سے بھرا ہوا تھا۔ کہنے لگی:
“صاحب! میں حج کر آئی ہوں، مگر اصل بات حج نہیں۔ اصل بات وہ رات تھی جو میں نے اللہ کے سامنے گزاری۔ اس ایک رات نے میری زندگی بدل دی۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“کیسے؟”
وہ بولی:
“جب میں حج پر تھی تو محلے والوں نے میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ الٹا لوگ خود ہی اس ملازم کو کہتے رہے کہ گھر کا خیال رکھنا، یہ اللہ کی مہمان گئی ہوئی ہے۔ اور صاحب! میں نے وہاں جا کر محسوس کیا کہ اللہ کے گھر میں کوئی طوائف نہیں ہوتا، کوئی بدکار نہیں ہوتا، وہاں سب بندے ہوتے ہیں۔”
اس کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے، مگر اب وہ آنسو ندامت کے نہیں، شکر کے تھے۔ اس نے کہا:
“میں واپس آ کر اس پیشے میں دوبارہ نہیں جا سکتی۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ باقی زندگی کسی چھوٹے موٹے کام میں گزار دوں گی، مگر وہ زندگی نہیں جیوں گی جو میں نے پہلے جی تھی۔”
میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس دن مجھے یہ سبق ملا کہ اللہ جسے چاہے ہدایت دے دیتا ہے، اور جب وہ بلاوا دے تو بندے کی پچھلی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ اصل تبدیلی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور ایک سچا سجدہ انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں برسوں کی عبادت بھی کبھی کبھی نہیں پہنچا پاتی۔
قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں:
“اس واقعے نے مجھے یقین دلا دیا کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ بند صرف انسان کے دل ہوتے
ہیں، اور جب دل کھل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔”

Source
