افسانے

ارفع کریم کی برسی پر ارفع کے والد کی اداس کردینے والی تازہ تحریر کا پیراگراف پ…

ارفع کریم کی برسی پر ارفع کے والد کی اداس کردینے والی تازہ تحریر کا پیراگراف پڑھیے:

"میری پیاری ارفع!

آج تم اکتیس (31) بس کی ہوتیں۔یہ جملہ لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں کاپنتا، دل کانپ جاتا ہے کیونکہ باپ کے لیے برس گننا آسان ہوتا ہے۔ خالی پن گننا نہیں۔ تمھاری جدائی کے بعد زندگی سیدھی لکیر نہیں رہی ۔۔۔ہر دن ایک نیا سوال تھا۔۔۔بہت کچھ سہنا پڑا۔۔۔۔اور وہ زمہ داریاں بھی جو آنسو پونچھ کر اٹھانی پڑیں۔”
(امجد کریم: دو فروری 2026ء)

ارفع کریم آج کے دن یعنی 2 فروری 1995ء کو رام دیوالی (فیصل آباد) میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ کوئی عام بچی نہیں تھی۔ بلکہ آسمان پہ چمکنے والا روشن استعارہ تھی۔ جس نے صرف 9 سال کی عمر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔

دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ پروفیشنل بنی تھیں۔
(یہ ٹیسٹ اس زمانے میں کافی مشکل ہوا کرتا تھا۔)

اگلے ہی سال انہیں بل گیٹس نے امریکہ انوائیٹ کیا۔
انہوں نے ناصرف خود ملاقات کی بلکہ کئی فورمز پہ جگہ دی۔

توثیق حیدر نے انٹرویو میں ان سے پوچھا تھا کہ جب سب پلان کے مطابق نہ ہو۔جیسے آپ نے سارا پلان کیا ہوا ہوتا۔

تو آپ کیسے ری ایکٹ کرتی ہیں؟

اس ننھی مگر زہین بچی نے کہا تھا:
"میں اپنی طرف سے کام کر کے اللہ پاک کے سپرد کردیتی ہوں۔
وہ پنجابی کا شعر ہے ناں!
؎ مالی دا کم پانی دینا ، بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھَل پُھل لانا، لاوے نہ لاوے۔”

سوچیں بمشکل دس سال کی بچی کا خالقِ حقیقی سے رشتہ کیسا مضبوط تھا۔ جب ان کی ملک بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں تعریفیں ہونے لگیں۔

تو انہوں نے بتایا:
"لوگ کہتے ہیں کہ میں جینئس ہوں۔ سچ یہ ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں بلکہ پاکستان کی کئی لڑکیاں اور لڑکے بھی میری طرح ہیں۔ ان سب بچوں کو بس زرا پالش کرنے کی دیر ہے۔”

ابھی کامیابیوں کا سفر شروع ہی ہوا تھا کہ 20 دسمبر 2011 کا دن آیا۔
اچانک اس معصوم جینئس کو مرگی کا دورہ پڑا۔
اس کے بعد دل کا دورہ پڑا۔
لاہور ہسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ بل گیٹس کو جب اسکی ٹیم نے انفارم کیا۔
وہ پریشان ہوگے ۔

انہوں نے والد امجد کریم صاحب سے رابطہ کیا۔
امریکہ لانے اور بہترین علاج کی پیشکش بھی کی۔

مگر ارفع کی حالت خراب ہوگی تھی ۔
ٹرانسفر کرنے سے مزید نازک ہوجاتی۔

چنانچہ جنوری 2012ء میں ارفع کا انتقال ہوگیا۔

ان کے والد صاحب نے آج صبح ہی لکھا ہے:
"تمھاری کمی نے ہمیں توڑا ضرور ہے مگر بکھرنے نہیں دیا۔۔۔۔۔سکون سے رہو بچی! تمھارا نام اب ایک زمہ داری ہے، تمھاری زندگی ایک سمت ہے اور تمھاری یاد ایک امانت۔۔۔”

انہوں نے ایک جگہ قرآن کی آیت سے ارفع کی خیر والی طبیعت کی طرف اشارہ دیا: “اگرچہ زندگی نے بہت امتحان لیےمگر میرا پندار سلامت ہے۔ اس لیے نہیں کہ میں مضبوط ہوں بلکہ اس لیے کہ تم سچی تھی۔

اور جو چیز لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتی ہے۔
وہی زمین پر باقی رہتی ہے۔ (مفہوم سورۃ الرعد: 17)

بلال مختار


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/