افسانے

میں ایک مزدور آدمی تھا۔ صبح اندھیرے گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ محنت مزدوری …

میں ایک مزدور آدمی تھا۔ صبح اندھیرے گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ محنت مزدوری کر کے جو چند ہزار روپے کماتا، سیدھے اماں کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ اماں ہمیشہ کہتی تھیں:
“بیٹا، تم باہر کام کرتے ہو، گھر کی فکر مجھے کرنے دو۔ میں سب سنبھال لوں گی۔”
مجھے اپنی اماں پر اندھا یقین تھا۔ آخر وہ میری ماں تھیں۔ گھر میں بیوی تھی، دو چھوٹے بچے تھے۔ بیوی اکثر کمزور اور خاموش رہتی۔ بچے رات کو روتے تو وہ فیڈر میں دودھ دینے کے بجائے پانی ڈال دیتی۔ بچے پی کر چپ ہو جاتے۔ مجھے یہی لگتا کہ دودھ پی کر سو گئے ہیں۔ میں نے کبھی غور نہیں کیا کہ دودھ کا ڈبہ مہینوں سے ویسا ہی کیوں پڑا ہے۔
اماں نے گھر کی ساری چیزوں پر تالے لگا رکھے تھے۔ آٹا، چاول، گھی، دودھ—سب کچھ ان کے کمرے میں بند رہتا۔ کہتی تھیں:
“بہو فضول خرچ ہے، اگر اس کے ہاتھ لگ گیا تو سب برباد کر دے گی۔”
میں خاموش رہتا۔ ماں کی بات کاٹنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔
ایک دن شام کو کام سے لوٹتے ہوئے میری نظر گلی کے نکڑ پر پڑے کچرے کے ڈھیر پر گئی۔ وہاں میرا چھ سالہ بیٹا جھکا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں آدھی کچلی ہوئی بریڈ تھی۔ کپڑے میلے، چہرہ زرد، آنکھوں میں عجیب سی شرمندگی۔
مجھے دیکھ کر وہ گھبرا گیا، پھر معصومیت سے بولا:
“ابو… ماما کو بھوک لگی ہے، میں بریڈ لے جا رہا ہوں۔”
میرا دماغ سن ہو گیا۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ میں نے فوراً اسے بازو سے پکڑا اور سینے سے لگا لیا۔ اس کے پیٹ کی ہڈیاں صاف محسوس ہو رہی تھیں۔ اس لمحے مجھے لگا جیسے کسی نے میرے دل میں خنجر گھونپ دیا ہو۔
میں اسے لے کر گھر پہنچا۔ دروازہ کھولا تو سامنے بیوی فرش پر بیٹھی بچوں کے کپڑے سی رہی تھی۔ چہرہ اترا ہوا، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی۔ میں نے غصے اور درد میں چیخ کر پوچھا:
“یہ کیا ہو رہا ہے؟ میرے بچے کچرے سے روٹی کیوں اٹھا رہے ہیں؟”
بیوی پہلے خاموش رہی، پھر اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“میں کیا کروں؟ گھر میں کچھ نہیں ہوتا۔ دودھ ختم ہو چکا ہے، آٹا ختم ہو چکا ہے۔ اماں تالہ کھولتی نہیں۔ بچے بھوک سے روتے ہیں تو میں پانی پلا دیتی ہوں، ورنہ وہ مر جائیں گے!”
میرے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ اسی وقت اماں کمرے سے نکل آئیں۔ ان کے چہرے پر سختی تھی۔
“یہ سب ڈرامہ ہے!” اماں چلائیں۔ “بہو بچوں کو میرے خلاف کر رہی ہے۔”
میں نے پہلی بار زندگی میں اماں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا۔ میں نے کانپتی آواز میں کہا:
“اماں، اگر یہ ڈرامہ ہے تو بچے اتنے کمزور کیوں ہیں؟ گھر میں کھانا کہاں ہے؟”
اماں نے تالے والی چابی نکالی، مگر اس بار ان کے ہاتھ بھی لرز رہے تھے۔ کمرہ کھلا تو اندر آٹا، دال، گھی، دودھ سب موجود تھا۔ لیکن سب پر تاریخیں لگی تھیں—کئی چیزیں خراب ہو چکی تھیں۔
میں زمین پر بیٹھ گیا۔ مجھے اپنی بیوی پر نہیں، اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے سوچا: میں کس قدر اندھا تھا۔ ماں کے نام پر میں نے اپنے بچوں کو بھوک کے حوالے کر دیا تھا۔
اسی رات میں نے فیصلہ کیا۔ میں نے اماں سے کہا:
“اماں، آپ میری ماں ہیں، آپ کا احترام میرے سر آنکھوں پر۔ مگر اب بچوں کا حق پہلے ہے۔ گھر کی ذمہ داری میری بیوی کے پاس رہے گی۔”
اماں نے بہت شور مچایا، رشتہ داروں کو بلایا، مجھے نافرمان کہا۔ مگر اس بار میں خاموش نہیں ہوا۔ میں نے پہلی بار سچ کا ساتھ دیا۔
اگلے دن میں خود بچوں کو لے کر بازار گیا۔ دودھ، پھل، سبزی، انڈے لے کر آیا۔ بچوں نے مہینوں بعد پیٹ بھر کر کھایا۔ ان کی آنکھوں میں جو چمک تھی، اس نے میرے سارے دکھ دھو دیے۔
وقت گزرتا گیا۔ بچے آہستہ آہستہ صحت مند ہونے لگے۔ بیوی کے چہرے پر بھی جان لوٹ آئی۔ اماں کچھ دن ناراض رہیں، پھر شاید انہیں بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ ایک دن وہ خاموشی سے بچوں کے لیے دودھ گرم کرنے لگیں۔
میں اکثر اس دن کو یاد کرتا ہوں جب میرا بیٹا کچرے سے بریڈ اٹھا رہا تھا۔ وہ منظر مجھے آج بھی سونے نہیں دیتا۔ مگر اسی منظر نے مجھے جگا دیا۔
یہ کہانی صرف میری نہیں، ہر اس شخص کی ہے جو آنکھیں بند کر کے غلط کو سہتا رہتا ہے۔ ماں باپ کا احترام ضروری ہے، مگر بچوں کا حق اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ بھوکا بچہ صرف کھانا نہیں مانگتا، وہ ہماری غیرت، ہماری ذمہ داری اور ہماری انسانیت کا امتحان لیتا ہے۔

منتخب


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/