منتخب غزلیں

آج 15 جنوری ہے، یعنی اردو ادب اور تصوف کی دنیا کے …

آج 15 جنوری ہے، یعنی اردو ادب اور تصوف کی دنیا کے اس تابندہ ستارے کا یومِ پیدائش، جس نے لفظوں کو خوشبو اور جملوں کو تاثیر بخشی۔ حضرت واصف علی واصفؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ ایک عہد ساز ادیب، شاعر اور صوفی دانشور تھے۔
​”گفتگو سے خوشبو تب آتی ہے جب انسان کی اپنی زندگی مہک رہی ہو۔”
​یہ الفاظ اس عظیم شخصیت کے ہیں جس نے 15 جنوری 1929ء کو خوشاب کی سرزمین پر آنکھ کھولی۔ حضرت واصف علی واصفؒ کے والدِ محترم ملک محمد عارف ایک معزز اور علم دوست انسان تھے۔ آپ کا بچپن خوشاب کی فضاؤں میں گزرا، جہاں کی مٹی کی سوندھی خوشبو اور سادگی آپ کی طبیعت میں رچ بس گئی۔
​تعلیمی سفر اور شخصیت کی تعمیر
​آپ کی ابتدائی تعلیم خوشاب میں ہوئی، جس کے بعد آپ نے جھنگ اور پھر لاہور کا رخ کیا۔ آپ صرف ایک بہترین طالب علم ہی نہیں بلکہ ایک مایہ ناز کھلاڑی (ہاکی) بھی تھے۔ اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا، لیکن قدرت نے آپ سے وہ کام لینا تھا جو صرف ڈگریوں کے مرہونِ منت نہیں ہوتا۔
​جدید دور کے درویش
​واصف علی واصفؒ کی پیدائش ایک ایسے دور میں ہوئی جب دنیا مادی ترقی کی طرف بھاگ رہی تھی اور روحانی اقدار دم توڑ رہی تھیں۔ ایسے میں آپ نے "جدید صوفی” کا روپ دھارا۔ آپ نے خانقاہی نظام سے ہٹ کر عام انسان کی عقل اور دل کو مخاطب کیا۔ آپ کی گفتگو میں وہ جادو تھا کہ سننے والا اپنے اندر کے اندھیروں سے واقف ہو جاتا۔
​آپ کے اسلوب کی انفرادیت
​آپ کی تحریریں، خاص طور پر آپ کے اقوال، سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہیں۔ آپ نے ثابت کیا کہ تصوف کوئی مشکل فلسفہ نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق سے محبت اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے کا نام ہے۔
​کتب: "کرن کرن سورج”، "دل دریا سمندر”، "قطرہ قطرہ قلزم” اور "حرف حرف حقیقت” جیسی کتابیں آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
​شاعری: آپ کی نعت گوئی اور صوفیانہ کلام (شبِ چراغ) میں عشقِ رسولﷺ کی وہ تڑپ ہے جو روح کو گرما دیتی ہے۔
​”چراغ کے نیچے اگرچہ اندھیرا ہوتا ہے، لیکن وہ دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے۔”
میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھی کہاں جانا

میں طائر لاہوتی میں جوہر ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا

میں سوز محبت ہوں میں ایک قیامت ہوں
میں اشک ندامت ہوں میں گوہر یک دانہ

کس یاد کا صحرا ہوں کس چشم کا دریا ہوں
خود طور کا جلوہ ہوں ہے شکل کلیمانہ

میں شمع فروزاں ہوں میں آتش لرزاں ہوں
میں سوزش ہجراں ہوں میں منزل پروانہ

میں حسن مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں
میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوۂ جانانہ

میں واصفؔ بسمل ہوں میں رونق محفل ہوں
اک ٹوٹا ہوا دل ہوں میں شہر میں ویرانہ


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/