وہی یونیورسٹی، وہی ڈیپارٹمنٹ، وہی بلڈنگ جہاں سے محض پندرہ دن پہلے ایک طالبعلم…

جہاں سے محض پندرہ دن پہلے ایک طالبعلم نے کود کو خود+کشی کی تھی۔ آج اسی جگہ سے فاطمہ نامی طالبہ نے کود کر اپنی جان لے لی۔
اویس نامی طالبعلم بھی فارم ڈی کا طالبعلم تھا اور فاطمہ نامی بچی بھی فارم ڈی ۔۔ فرسٹ سیمسٹر کی طالبہ ہے۔
کیا وجہ ہے کہ وہی یونیورسٹی، وہی ڈیپارٹمنٹ۔۔ اور طلبہ اپنی جان لے رہے ہیں۔
یقیناً اساتذہ میں کوئی ایک استاد ایسا ضرور ہے جس کا رویہ وہاں زیر تعلیم بچوں کے ساتھ ٹھیک نہیں۔
گزشتہ واقعہ کے بعد وہاں کے اساتذہ کا کہنا تھا کہ خود کشی کے اور بھی واقعات ہوتے ہیں۔۔ ایسی صورت میں یونیورسٹی کے اساتذہ کو ٹارگٹ کرنا انتہائی غلط ہے۔
مگر اسی جگہ پھر سے ایسا کچھ ہو جائے تو پھر اساتذہ پہ سوال اٹھانا بنتا ہے۔
یہاں والدین کے رویے پہ بھی بات کی جا رہی ہے کہ انہیں اپنے بچوں سے دوستانہ ماحول رکھنا چاہئے۔ ان سے یونیورسٹی کی روز کی روٹین پوچھنی چاہئے۔
یقینا والدین بچوں سے گفتگو کرتے ہوں گے۔ پوچھتے ہوں گے۔ مگر ایک بات ۔۔
جین۔ زی جس ناز و نعم میں پلی بڑھی ہے وہ ڈانٹ یا مار یا ہتک آمیز رویہ برداشت نہیں کرتی۔ والدین کی طرف سے بھی زیادہ سختی نہیں ہوتی۔
ایسی صورت میں گھر سے باہر ، اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں بچوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جائے تو یہ بات ان کے لئے قابل برداشت نہیں ہوتی اور وہ دلبرداشتہ ہو کر انتہائی قدم کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔
اسکے علاوہ مخلوط تعلیم پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔۔ کو ایجوکیشن میں ہزار برائیاں سہی۔۔ اگر انتظامیہ اور اساتذہ چند حدود مقرر کر دیں۔ فیسیں بٹورنے کے علاوہ بچوں کے ظاہری مسائل سے بھی آگاہ رہنے کی کوشش کریں تو ایسے واقعات رونما ہی نہ ہوں۔
کسی بھی یونیورسٹی میں خود+ کشی جیسا واقعہ ہو جائے تو حکومت کو خود ایسے معاملات کا نوٹس لینا چاہئے۔
روزینـͭــͭــͧــᷩــــہ فیصـͪــᷤــͥــᷢــͣــᷦـــل
Source



Umme Uswa
Pahley to shukriya jis ne bhi ye baat ki hai bilkul Sahi pahlu par maan baap bachon ko chahye marein ya datein bachon ko bura lagta hai magar ziyada nahi lekin aajkal teachers ka rawaiya students ke sath bohat bura hota hai merey khud ke bachon ke sath teacher ne tashaddud kia hua hai magar mein to sidhi jhadr laganey pohanch Gai school