افسانے

~جہالت کی شرطیں ~ بچپن اور لڑکپن کے دنوں میں جمعہ کے خطبات کا ایک مستقل موضوع …

~جہالت کی شرطیں ~

بچپن اور لڑکپن کے دنوں میں جمعہ کے خطبات کا ایک مستقل
موضوع ہوا کرتا تھا:
یہ بتایا جاتا کہ کائنات میں کچھ امور ایسے ہیں جنہیں صرف خدا جانتا ہے ~ بارش کا وقت، رحمِ مادر میں پرورش پانے والے بچے کی جنس، انسان کی موت اور قیامت کا لمحہ۔ قرآن کی آیات اور احادیث بطور دلیل پیش کی جاتیں اور ہم، چونکہ ایمان کو سوال سے بالاتر سمجھتے تھے، سر جھکا کر مان لیتے تھے۔

وقت گزرتا گیا، دنیا بدلتی گئی۔ محکمۂ موسمیات نے بادلوں کے مزاج پڑھنا سیکھ لیا، سیٹلائٹ آسمان کی حرکات پر نظر رکھنے لگے، اور الٹرا ساؤنڈ نے رحمِ مادر کے پردے چاک کر دیے۔ ابتدا میں ان سب کو فریب، اندازے اور شیطانی علم کہہ کر رد کیا گیا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ “غلط” اندازے آہستہ آہستہ درست ثابت ہونے لگے۔

جوں جوں سائنسی پیش گوئیاں حقیقت کے قریب آتی گئیں، ویسے ویسے وہ آیات اور احادیث جو کبھی بڑے اعتماد سے منبر سے سنائی جاتی تھیں، خاموشی سے تقریروں سے غائب ہونے لگیں۔ نہ انکار رہا، نہ وضاحت ~ بس موضوع بدل دیا گیا۔

آج صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انسان نہ صرف بارش کے عمل میں مداخلت کر رہا ہے بلکہ تولید کے بنیادی فیصلوں پر بھی اختیار حاصل کر چکا ہے۔ مگر اس تبدیلی کے باوجود مذہبی بیانیہ نے اپنی بنیادی روش نہیں بدلی؛ سوال اب زمین سے اٹھا کر چاند اور مریخ پر رکھ دیا گیا ہے۔

کل تک چیلنج یہ تھا کہ “اگر سائنس سچی ہے تو بارش برسا کر دکھاؤ”، آج نیا سوال ہے: “چاند پر پانی لا کر دکھاؤ”۔

یہ سوال دراصل علم سے نہیں، ضد سے جنم لیتے ہیں۔
کیونکہ جیسے ہی کوئی مرحلہ طے ہو جاتا ہے، فوراً ایک نیا، مزید بعید اور غیر متعلق مطالبہ سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ مقصد سچ جاننا نہیں، بلکہ اپنی فکری شکست کو ماننے سے بچنا ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مذہبی فکر نے تقریباً ہر بڑی سائنسی پیش رفت کی ابتدا میں مخالفت کی، پھر جب انکار ممکن نہ رہا تو اسے اپنی کسی مبہم عبارت میں زبردستی فِٹ کر کے “ہم تو پہلے ہی جانتے تھے” کا اعلان کر دیا۔
یوں سوال وہیں کا وہیں رہتا ہے، صرف ہدف بدل جاتا ہے۔

یہ طرزِ فکر کسی ایک مذہب یا گروہ تک محدود نہیں، بلکہ اندھے یقین کی وہ شکل ہے جو دلیل کو دشمن اور سوال کو گناہ سمجھتی ہے۔
اور جب ذہن پر یقین کے زنگ آلود تالے لگ جائیں تو نہ تجربہ اثر کرتا ہے، نہ مشاہدہ، نہ حقیقت۔

ممکن ہے کل انسان مریخ پر پانی لے آئے،
مگر بعید نہیں کہ اس دن مطالبہ یہ ہو کہ “اب سورج پر بارش کر کے دکھاؤ”۔

کیونکہ مسئلہ علم کی کمی نہیں، مسئلہ سیکھنے سے انکار ہے۔


Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/