منتخب غزلیں
میں نے وہ مقام بھی دیکھا ہے، جہاں جولیس سیزر (J…
✍️ میں نے وہ مقام بھی دیکھا ہے، جہاں جولیس سیزر (Julius Caesar) کو قتل کیا گیا تھا اور سیزر نے دوستی اور دشمنی کی ساری المیہ داستان ایک جملے میں بیان کر دی تھی۔ بات یہ تھی کہ شہنشاہ جولیس سیزر پر قاتلانہ حملے کے وقت بہت سے لوگ وار کر رہے تھے لیکن جب سیزر کے دوست بروٹس(Brutus) کی تلوار نے بھی اس کے جسم کو زخمی کیا تو جسم کے مقابلے میں سیزر کے دل کو زیادہ تکلیف ہوئی اور اس نے کہا:
” بروٹس کیا تم بھی ؟ …“
اور پھر میں نے وہ مقام بھی دیکھا جہاں مارک انٹونی (Mark Antony) نے سیزر کی لاش پر وہ تاریخی تقریر کی تھی جسے شیکسپیئر (Shakespeare) کے تصور نے تاریخ اور ادب کے لیے محفوظ کر لیا۔ بہت سے لوگ سیزر کے قتل سےخوش تھے کیوں کہ کسی وجہ سے وہ سیزر سے خفا ہو گئے تھے۔ یہ لوگ بروٹس سے خوش تھے خصوصاً اس لیے کہ سیزر کے قتل کے بعد بروٹس نے ایک تقریر کی تھی جس میں اس نے دلیل پیش کی تھی کہ اس نے سیزر کو کیوں قتل کیا تھا۔ بروٹس نے سیزر کو ایک مطلق العنان جاه طلب حکمران قرار دیا تھا اور کہا تھا:
"میں سیزر سے کم محبت نہیں کرتا لیکن میں روم سے زیادہ محبت کرتا ہوں.”
سامعین عوام پر بروٹس کی تقریر کا جادو چل گیا تھا۔ وہ سب بروٹس کی خطابت سے مسحور ہو کر سیزر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس موقع پر سیزر کے ہم درد مارک انٹونی نے سیزر کی لاش پر عوام کو مخاطب کیا۔ دشواری یہ تھی کہ اگر مارک انٹونی سیزر کی تعریف میں ایک جملہ بھی کہتا تو سامعین اسے سننے کے لیے تیار نہ ہوتے، بلکہ عین ممکن تھا کہ مارک انٹونی ہی کو قتل کر ڈالتے لیکن مارک انٹونی نے ایک تاریخی تقریر کی اور عوام کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اس نے شروع اس طرح کیا کہ عوام کو طیش نہ آئے۔ مارک انٹونی نے کہا:
"میں سیزر کو دفن کرنے آیا ہوں۔ اس کی تعریف کرنے نہیں آیا۔”
اس پر مشتعل عوام قدرے خاموش ہوئے تو انٹونی نے ایک اور نفسیاتی پہلو اختیار کیا۔ اس نے کہا:
” لوگوں کے کیے ہوئے برے کام ان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں لیکن ان کی نیکیاں ان کے ساتھ دفن ہو جاتی ہیں۔ سیزر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے دیجیے ۔“
اور اس طرح ایک نہایت نازک کنائے میں انٹونی نے سیزر کی نیکیاں بھی عوام کو یاد دلا دیں۔ پھر اس نے سیزر کے قاتل بروٹس کا ذکر اس طرح بار بار کیا ہے جسے شیکسپیئر کے قلم نے ادب کا شہ پارہ بنا دیا انٹونی نے کہا کہ
” بروٹس صاحب کہتے ہیں کہ سیزر جاه طلب تھا۔ بروٹس ایک قابلِ عزت ہستی ہیں اس لیے ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ اگر سیزر جاه طلب تھا تو یہ ایک بڑی خامی تھی اور اس خامی کا کفارہ سیزر نے موت سے ادا کر دیا لیکن جب بھی غریب عوام روئے ہیں تو سیزر ان کے ساتھ رویا ہے. ایک جاہ طلب دل تو سخت ہوتا ہے پھر سیزر کیسے رویا لیکن بروٹس صاحب کہتے ہیں کہ سیزر جاہ طلب تھا، وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کیوں کہ بروٹس ایک قابل عزت انسان ہیں. ”
اور اس طرح بروٹس کے بارے میں” قابلِ عزت ” کا لفظ تعریف سے طنز کی حیثیت اختیار کرتا چلا گیا.
پھر انٹونی نے یاد دلایا کہ بادشاہ بننے سے پہلے تین بار اس نے سیزر کو تاجِ شاہی پیش کیا لیکن اس نے تینوں بار اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا یہ جاہ طلبی تھی؟ لیکن بروٹس کہتے ہیں کہ سیزر جاه طلب تھا (تو وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے) کیوں کہ بروٹس ایک ” قابلِ عزت” انسان ہیں۔
اب عوام کا رد عمل بدل چکا تھا۔ انہیں سیزر کی موت کا غم اور بروٹس کی نیت پر شبہ ہو چلا تھا۔
انٹونی نے اپنی بلیغ خطابت جاری رکھی۔ اس نے عوام کو یاد دلایا کہ اسی سیزر سے کبھی آپ محبت کرتے تھے۔ کیا آج اس کی موت پر آنسو بھی نہیں بہائیں گے؟ اور اس طرح آہستہ آہستہ مارک انٹونی نے عوام کے مجمع کو سیزر کا ہم درد اور بروٹس کا مخالف بنا لیا اور جب انٹونی کی تقریر ختم ہوئی تو جو عوام کچھ دیر پہلے سیزر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، وہی عوام اب سیزر کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے اور بروٹس کا گھر جلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
” بروٹس کیا تم بھی ؟ …“
اور پھر میں نے وہ مقام بھی دیکھا جہاں مارک انٹونی (Mark Antony) نے سیزر کی لاش پر وہ تاریخی تقریر کی تھی جسے شیکسپیئر (Shakespeare) کے تصور نے تاریخ اور ادب کے لیے محفوظ کر لیا۔ بہت سے لوگ سیزر کے قتل سےخوش تھے کیوں کہ کسی وجہ سے وہ سیزر سے خفا ہو گئے تھے۔ یہ لوگ بروٹس سے خوش تھے خصوصاً اس لیے کہ سیزر کے قتل کے بعد بروٹس نے ایک تقریر کی تھی جس میں اس نے دلیل پیش کی تھی کہ اس نے سیزر کو کیوں قتل کیا تھا۔ بروٹس نے سیزر کو ایک مطلق العنان جاه طلب حکمران قرار دیا تھا اور کہا تھا:
"میں سیزر سے کم محبت نہیں کرتا لیکن میں روم سے زیادہ محبت کرتا ہوں.”
سامعین عوام پر بروٹس کی تقریر کا جادو چل گیا تھا۔ وہ سب بروٹس کی خطابت سے مسحور ہو کر سیزر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس موقع پر سیزر کے ہم درد مارک انٹونی نے سیزر کی لاش پر عوام کو مخاطب کیا۔ دشواری یہ تھی کہ اگر مارک انٹونی سیزر کی تعریف میں ایک جملہ بھی کہتا تو سامعین اسے سننے کے لیے تیار نہ ہوتے، بلکہ عین ممکن تھا کہ مارک انٹونی ہی کو قتل کر ڈالتے لیکن مارک انٹونی نے ایک تاریخی تقریر کی اور عوام کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اس نے شروع اس طرح کیا کہ عوام کو طیش نہ آئے۔ مارک انٹونی نے کہا:
"میں سیزر کو دفن کرنے آیا ہوں۔ اس کی تعریف کرنے نہیں آیا۔”
اس پر مشتعل عوام قدرے خاموش ہوئے تو انٹونی نے ایک اور نفسیاتی پہلو اختیار کیا۔ اس نے کہا:
” لوگوں کے کیے ہوئے برے کام ان کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں لیکن ان کی نیکیاں ان کے ساتھ دفن ہو جاتی ہیں۔ سیزر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے دیجیے ۔“
اور اس طرح ایک نہایت نازک کنائے میں انٹونی نے سیزر کی نیکیاں بھی عوام کو یاد دلا دیں۔ پھر اس نے سیزر کے قاتل بروٹس کا ذکر اس طرح بار بار کیا ہے جسے شیکسپیئر کے قلم نے ادب کا شہ پارہ بنا دیا انٹونی نے کہا کہ
” بروٹس صاحب کہتے ہیں کہ سیزر جاه طلب تھا۔ بروٹس ایک قابلِ عزت ہستی ہیں اس لیے ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ اگر سیزر جاه طلب تھا تو یہ ایک بڑی خامی تھی اور اس خامی کا کفارہ سیزر نے موت سے ادا کر دیا لیکن جب بھی غریب عوام روئے ہیں تو سیزر ان کے ساتھ رویا ہے. ایک جاہ طلب دل تو سخت ہوتا ہے پھر سیزر کیسے رویا لیکن بروٹس صاحب کہتے ہیں کہ سیزر جاہ طلب تھا، وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کیوں کہ بروٹس ایک قابل عزت انسان ہیں. ”
اور اس طرح بروٹس کے بارے میں” قابلِ عزت ” کا لفظ تعریف سے طنز کی حیثیت اختیار کرتا چلا گیا.
پھر انٹونی نے یاد دلایا کہ بادشاہ بننے سے پہلے تین بار اس نے سیزر کو تاجِ شاہی پیش کیا لیکن اس نے تینوں بار اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کیا یہ جاہ طلبی تھی؟ لیکن بروٹس کہتے ہیں کہ سیزر جاه طلب تھا (تو وہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے) کیوں کہ بروٹس ایک ” قابلِ عزت” انسان ہیں۔
اب عوام کا رد عمل بدل چکا تھا۔ انہیں سیزر کی موت کا غم اور بروٹس کی نیت پر شبہ ہو چلا تھا۔
انٹونی نے اپنی بلیغ خطابت جاری رکھی۔ اس نے عوام کو یاد دلایا کہ اسی سیزر سے کبھی آپ محبت کرتے تھے۔ کیا آج اس کی موت پر آنسو بھی نہیں بہائیں گے؟ اور اس طرح آہستہ آہستہ مارک انٹونی نے عوام کے مجمع کو سیزر کا ہم درد اور بروٹس کا مخالف بنا لیا اور جب انٹونی کی تقریر ختم ہوئی تو جو عوام کچھ دیر پہلے سیزر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، وہی عوام اب سیزر کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے اور بروٹس کا گھر جلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
عوام! ہے چارے بھولے عوام!! جو آج بھی اتنے ہی بھولے ہیں جتنے آج سے دو ہزار سال قبل مملکت روما کے عروج کے زمانے میں تھے یا اس سے بھی بہت پہلے!!!
قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ
آغا افتخار حسین
مجلسِ ترقی ادب، لاہور
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی



