مختصر کہانیاں

یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 33 ماما مہر کو سمجھ ن…

یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 33

ماما مہر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس گڈے کو کس شوکیس میں سجا کر اس شوکیس کا دنیا کے سامنے افتتاح کریں….یا ایک بڑی سی نمائش رکھ لیں کہ دیکھو میر داماد….ہے کسی کے پاس ایسا…..؟”
"تمہیں کہاں ملا شارلٹ ؟”ماما مہر نے سرگوشی کی۔
ایم اون نے کان خاص ان کے قریب کر لیے……اف یہ سچ اسے بھی معلوم کرنا تھاکہ اسے چنی منی ہاتھ لگائے کہیں ٹوٹ ہی نہ جائے جیسے گڈے کہاں پائے جاتے ہیں…..
ہارورڈ یونی سے ماما،جورڈن ایک شارٹ کورس کے لیے آیا تھا،کورس کیا اور چلا گیا پھر کچھ مہینے بعد آیا اور مجھے یہ انگوٹھی پہنا دی…..اس نے انگوٹھی والا ہاتھ آگے کیا،اگر نشست گاہ کی سب لائٹس بجھا دی جاتیں تو انگوٹھی میں جڑا ہیرا بتاتا کہ اس کی قیمت کیا ہے وہ اتنی روشنیوں میں بھی اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔
”مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ اس نے تمہیں پسند کرلیا ہے۔“
شارلٹ کا منہ اتر گیا ۔وہ بلاشبہ خوب صورت تھی لیکن جورڈن جتنی بہرحال نہیں……لیکن ماؤں کو تو صرف اپنے ہی بچے پیارے لگتے ہیں نا…..
”کتنی خوش قسمت ہوں میں شارلٹ !“ماما مہر نے بچوں کی طرح دونوں ہاتھ تھوڑی تلے ٹکائے۔
امرحہ نے ہنسی کی زیادتی کی وجہ سے منہ پھیر لیا البتہ سادھنا کو نشست گاہ سے جانا پڑا…..کیا انداز تھا ماما مہر کا…..
”فلمی ستارے آئیں گے….بولو مجھے شادی کے انتظامات کرنے ہیں…..انجلینا جولی،بریڈپٹ کے آنے کے کتنے فیصد امکانات ہیں؟صرف خاندان کے لوگ ہوں گے یا قریبی دوست….اورمیڈیا….میڈیا آئے گا۔“
شارلٹ کی گلابی رنگت پیلی سی پڑ گئی۔اس نے آنکھیں گھما کر جورڈن کی طرف دیکھا کہ وہ ان کی طرف متوجہ تو نہیں۔”بالکل نہیں ماما،جورڈن کو یہ سب پسند نہیں ۔“
”لیکن مجھے پسندہے یہ شارلٹ ….تم جانتی ہو میری کتنی بڑی خواہش تھی کہ میرا بچہ ہالی وڈ اسٹار بنے لیکن کتنے برے ہو تم سب …..سوائے عالیان کے کوئی آڈیشن دینے نہیں گیا اور میری قسمت دیکھو وہ آڈیشن میں ناکام ہو گیا ،ویسے وہ ہر جگہ ٹاپ کرتا ہے….شارلٹ میری مانو تو بلی اب تو مجھے بنا بنایا ہیرو مل گیا ہے ….مجھے مت روکو۔“
”ٹھیک ہے ماما!چپکے سے بلوا لیجئے گا۔“شارلٹ نے کان کے قریب ہو کر کہا۔
”تم جورڈن سے یہ بھی کہنا کہ وہ فلمی ستاروں کو شادی میں ضرور بلائے خاص کر بریڈپٹ کو …..“
سادھنا واپس آکر بیٹھ چکی تھی اور اس آخری بات پر پھر باہر جانے کو تھی ۔
آریان دن بدن صحت یاب ہو رہا تھا سادھنا تو چڑیا کی چوں چوں پر بھی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنستی تھی….این اون البتہ جورڈن کو دیکھنے میں مصروف تھی…..
”کیا آپ چاہتی ہے میں یہاں سے اُٹھ جاؤں۔“
جورڈن نے بانسری سی میٹھی لے میں بہت مہذب انداز سے این اون سے پوچھا۔این اون نے گھبرا کر ناں میں سر ہلایا۔
”برائے مہربانی اپنی نظریں مجھ پر اٹھالیں یا خود کو….شکریہ….“
این اون خاموشی سے اس کی شکل دیکھنے لگی…..
یعنی اس نے جورڈن کےلب تو ہلتے دیکھے تھے پر آواز اس کے کانوں کے پردوں سے اندر نہیں اتر سکی تھی….سادھنا کو منہ پر ہاتھ رکھ کر پھر سے باہر جانا پڑا…..اور یوں بہار کی اولین دلہن شارلٹ اور بہار کا گڈا جورڈن ماما مہر سے شادی کی اجازت لے گئے۔
رات بھر شارلٹ کی چمکتی ہوئی آنکھیں امرحہ کی آنکھوں میں اندھیرا کرتی رہیں۔شارلٹ کا بھی کوئی خاندان نہیں تھا اس کی ذات پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان تھے،لیکن جورڈن اسے بیاہ کرلے جا رہا تھا۔شارلٹ نے بتایا تھا کہ جورڈن کا خاندان کافی بڑا ہے اور وہ شارلٹ کولے کر بالکل خوش نہیں ہیں اور انہوں نے صاف صاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا ہے،لیکن جورڈن نے ان کی ناپسندیدگی کی پروا نہیں کی اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔
تو یہ ہوتی ہے محبت ….بنا کسی سوال و جواب کے….
ٹھیک ہے ”محبت “کا اندھا ہونا ضروری نہیں لیکن ”محبت “ کا ہی اتنا بینا ہونا بھی ٹھیک نہیں….کہ پہلے سوال نامے کو بھرو پھر آگے بڑھو،جمع تفریق کرو حاصل جمع نکالو،پھر اقرار ،انکار کرو ….اور یہ بھول جاؤ کہ محبت ہی تو سب سے پہلے ذات و نسل کا فرق مٹاتی ہے….عرش و فرش کا…..تخت وخاک کا …..کم و زیادہ کا محبت ہی تو سب برابر کر دیتی ہے۔جز سے کل ہوتی ہے اور کل ہی رہ جاتی ہے اگر ایسا نہ کرے تو وہ محبت نہیں رہتی ۔سوال و جواب نکالتے وہ رات گزار گئی۔
اگلی رات ویرا ااسے سائیکل پر بیٹھا کر لے گئی وہ اسے آکسفورڈ روڈ کی طرف لیے جا رہی تھی۔
”ہم کہاں جا رہے ہیں…..“
”یونی “ویرا کھڑی ہوکر سائیکل چلا رہی تھی۔
”اس وقت….آدھی رات کو ….“امرحہ مضبوطی سے سائیکل تھامے رہی۔
وہ بس گر جانے کوہی تھی ،اتنی بار ویرا کے رولر کوسٹر پربیٹھ جانے کے باوجود ہر باراسے یہی لگتاکہ یہ اس کا آخری سفر ہے اور اگلا سفر آخرت کی طرف ہو گا ۔
”ہاں….ضروری ہے۔“ویرا نے اور تیزی سے سائیکل چلائی۔
اکسفورڈ روڈ پر اس کی سائیکل رکی تو وہ حیران رہ گئی وہاں کم سے کم پندرہ اسٹوڈنٹس اور موجود تھے ویرا نے ہینڈی کیم امرحہ کے ہاتھ میں پکڑایا۔
”مجھے ٹھیک سے شوٹ کرنا..“
”کیا کرنے جا رہی ہو تم…..!“امرحہ کا خیال تھا روڈ پر وہ سب دوڑ لگائیں گے۔
”دیکھ لینا ۔“ویرا نے ہاتھو کو رگڑا۔
خود کو گرم کرنے کے لیے ان سب نے پہلے دوڑ لگائی پھر اولڈ کیمپس کے محراب کے اندار ہو گئے تاکہ روڈ پر لگے کیمرے انہیں شوٹ نہ کر سکیں۔
”ہمارےپاس زیادہ سے زیادہ دس منٹ ہیں اور پولیس آنے کی صورت میں کوئی کسی کا ذمہ دار نہیں ہو گا ۔“
ایک لڑکے نے جس نے اومچی اُٹھان والی ٹوپی پہن رکھی تھی ہاتھ میں پکڑے دھاتی پلیٹ کو چمچ سے بجا کر کہا۔
امرحہ نے پولیس کے نام پر خوف سے ویرا کو دیکھا ۔
”ویرا یہاں کیا ہونے جا رہا ہے۔“
”تمہارا خون…..پھر ہم تمہیں یہاں دفن کر دیں گے۔“ویرا نے سفاکی سے کہا۔
”ٹن،ٹن،ٹن “دھاتی پلیٹ پر چمچ بجا ان بے چاروں کے پاس دس منٹ تھے نا…..
زبان کے نیچے انگلیاں رکھ کر سیٹی بجائی اور محراب کے سامنے پوزیشن لیے کھڑے کمانڈوز یونیورسٹی آرک پر ٹوٹ پڑے…..اسے سر کرنے کے لیے۔
امرحہ کو نہیں معلوم تھا کہ یونی کو سر کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے…..اسے گمان سا ہوا ذرا دور ایک کیمرا چھپا ہوا ہےجس کے پیچھے جیمز کیمرون کھڑا اپنی نئی آنے والی فلم کےلیے ریکارڈنگ کر رہا ہے۔
امرحہ نےسر کو جھٹکا سا دیا ”کیا وہ پاگل خانے سے بھاگے پاگلوں کے درمیان تھی…..؟“
نہیں وہ مانچسٹر یونی کے ان سٹوڈنٹس کے کرتب دیکھ رہی تھی جنہوں نے خفیہ سوسائٹی بنا رکھی تھی جن میں شامل ایکس مین’ سپائیڈر مین’ اور جمپر بننے کے مواقع تلاش رہتے تھے یعنی وہ افوا درست تھی کے چند سٹوڈنٹس نے کی سو فٹ اونچی آمنے سامنے کی دو عمارتوں کی چھتوں پر رسہ تان کر ان پر چہل قدمی کی وہ چہل قدمی کرنے والے کون ہوں گے ان ہی مین سے کوئی نا کوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ان چار لڑکیوں اور دس لڑکوں مین سے کوئی۔
ویرا چھ فٹی چھپکلی آرک پے یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔جیسے یہ اسکا خاندانی پیشہ ہو دیواروں پے رینگنا’ چڑہایاں چڑنا۔۔۔۔بس سب سر کر لینا جیسا کے امریحہ سوچ رہی تھی کے وہ اب گرے گی تب’ تو ان مین سے کوئی ایک بھی نہیں گرا تھا۔ ۔۔۔
البتہ انکے وہ غبارے جو انہوں نے منہ مین لے رکھے تھے اور جن مین پانی بھرا وہ پھٹتے گئے وہ کھیل سے باہر ہوتے گئے اور آرک سے کودتے گئے۔ ۔۔۔۔جیسے پہاڑ پر درخت پر چڑھائی کی جاتی ہے ایسے ہی وہ اوپر سے اوپر جا رہے تھے اصل کوہ پیما اور بن مانس بھی انکے ساتھ آ کر مقابلا کرتے تو ہارجاتے
یہ حقیقت ہے آنکھوں دیکھی چودہ مین سے چھ اپنے غباروں سمیت یونی آرک تک پوھنچنے میں کامیاب ہو گئے ان چھ نے اپنے پانی بھرے غبارے فضا میں پھوڑ کر اپنی فتح کا علان کیا ان چھ میں کارل اور ویرا بھی شامل تھے۔
وننر حضرات مسکراتے ہووے نیچے کود گئے۔
یہ کھیل کا پہلا راونڈ تھا دوسرا ابھی باقی تھا اب انہوں نے پہلے سے زیادہ بڑے اور وزنی غبارے منہ میں لے لئے۔ایک دو تین کا اشارہ کیا گیا سیٹی بجائی گئی اور لنگور حضرات مستقبل کے ایکشن ہیرو ہیروئنز پھر سے آرک پر ٹوٹ پڑے ویرا کمانڈو بچے نے جنگلی گوریلے کی پھرتی سے کونے میں فٹ پتہ کو جھپٹا کے امریحہ نے پلکیں بھی نہیں جھپکی تھی کے یہ جا وہ جا ادھر ادھر ہاتھ پاؤں پھنساتی ویرا تیزی سے اوپر چڑھ رہی تھی ایک تو چڑھائی اوپر سے پانی بھرے غبارے آسان کام نہیں کرتے تھے وہ ۔۔۔۔۔ایک ایک کر کے چار کے غبارے پھٹے اور وہ نیچے کود گئے۔۔۔۔۔رہ گئے کارل اور ویرا اب کارل کو ہارنا موت لگ رہا تھا اور ویرا کو ہار مان لینا
ویرا ایک رخ سے کارل مخالف رخ سے محراب کی چوٹی کی طرف بڑھ رہے تھے موت اور زندگی کی جنگ تھی دونوں کم و بیش ایک ہی وقت میں اس سفید جھنڈے پر جھپٹے جو انہوں نے پہلے ہی وہاں لگا دیا تھا۔۔۔
جھنڈا ویرا اور کارل کے ہاتھ میں بیک وقت آیا کارل نے زور سے دھکا دیا ویرا گرتے گرتے بچی ویرا نے اس سے زیادہ زور دار جھٹکا دیا لیکن کارل ہلا تک نہیں اور زور زور سے دانت نکالنے لگا ویرا نے غبارہ اوپر ہی پھوڑ دیا لیکن کارل نے غبارہ امریحہ کے سر پر پھوڑنا چاہا لیکن امریحہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔خیالی جیمز کیمروں نے تالی بجائی اور انگوٹھے کا اشارہ دے کر کیمرا بند کر دیا دونوں میں سے اصل وننر کون ہے اور کس کے ہاتھ میں پہلے جھنڈا آیا اس کے لئے جو دوسرے کھلاڑی کھڑے دیکھ رہے تھے ان سے ووٹنگ کرائی گئی جس کے رزلٹ میں کارل دس ووٹ لے کر جیت گیا یہ سب تمہارے چمچے ہیں اس لئے فیصلہ تمہارے حق میں آیا
ویرا بھڑک اٹھی وہ کارل کو سمجھتی ہی کیا تھی نت نئی شرارتوں کا چوہاداں’ چوہا ہی۔ ۔۔۔۔۔چلو میرے دوست اس قابل تو ہیں کے ایسے کارآمد چمچے بن سکیں تمہاری زنگ آلود چمچی تو اس قابل بھی نہیں ہے سیڑھی لگا کر بھی دی نا تو یہ دو فٹ اوپر چڑھنے سے پہلے ہی چیخ چیخ کر سارے مانچسٹر کو اٹھا دے گی مس رشیا اپنی چمچی بدلو کارل نے انگلی اٹھا کار امریحہ کی طرف کر کے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا سب ہی ہنسنے لگے امریحہ کا خون کھول اٹھا اور اسکا جی چاہا کے کارل کا منہ یوں توڑ ڈالے کے اسے بیس تیس سیکنڈ کے اندر آرک کی چوٹی کو ہاتھ لگا کر دکھا دے اور غبارے کو پتھروں سے بھر کر اس کے سر پر پھوڑ دے اہ پر ایسے سپنے ہی دیکھے جا سکتے ہیں تصویر تانگنے کے لئے سٹول پر کھڑی ہو جاتی تو دادا سے سٹول پکڑواتی کے کہیں سٹول ہل کر اسے گرا نا دے اب جو سٹول پر ایسے کھڑا ہو گا اس پر ایسے جیکی چن والے سپنے دیکھنا بنتا تو نہیں ایک زور دار سیٹی گونجی اور خوفیا سوسائٹی کے ارکان میں کھلبلی مچی جلدی جلدی سے وہ ایک ایک سائیکل پر دو دو تین تین بیٹھے اور یہ جا وہ جا سیٹی رات کو گشت کرنی والی یونی پولیس کی آمد کا اعلان دینے کے لیے ہی خوفیا سوسائٹی کے ہی ایک رکن نے بجائی تھی جو اسی کم پر مامور تھا امریحہ سمجھی پولیس آ گئی
ہائے میری یونی گئی امریحہ چلائی ویرا نے اسے کھینچ کر سائیکل پر بٹھایا
اب ہمے یونی سے نکال دیا جائے گا نا امریحہ نے دانت پر دانت جمائے
ویرا نے قہقہ لگایا میں پورا برطانیہ ہلا دوں گی اگر کسی نے ایسا کیا تو تم تو ہلا ڈالو گی میں کیا ہلاوں گی میری تو دادی نے اس دفع میرے ماتھے پر لکھوا دینا ہے منحوس ماری جہاں جاتی ہے بیڑا گرک کر آتی ہے
ویرا کا قہقہ بڑا عظیم تھا اور امریحہ کے ذہن میں آنے والا خیال اس سے بھی زیادہ عظیم تھا اور اس نے اس خیال کو عملی جامہ بھی پھنا دیا ہینڈی کیم سے بنی ویڈیو اس نے موحترم ڈین اور انتظامیہ کو میل کر دی دیرک سے سیکھی ایڈیٹنگ سے اس نے ویرا کو کاٹ کر نکال دیا اور صرف کارل کو رہنے دیا اسکا دل چاہا کے دا ٹیب میں بھی بیجھ دے لیکن ویب پر یہ ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی کارل یونی میں اور زیادہ مشور ہو جاتا کیوں کے سارے سٹوڈنٹس بر حال بہت پسند کرتے ہیں اور اس طرح کارل کے نام کا ڈنکا یونی میں بجنے لگتا
ویڈیو بیجھ دی گئی کتابوں اور جوتوں والا حساب برابر ہو گیا امریحہ رات کو سکوں سے سوئی اتنے سکون سے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی چیخ مار کر وہ اٹھ بیٹھی کار ل اسکے بستر پر سانپوں سے بھرا باکس انڈھیل رہا تھا اف یہ میں نے کیا کر دیا امریحہ نے اپنا پسینہ صاف کیا
کاش ڈین کا ای ڈی ہیک ہو جائے یا ڈین ہی۔ ۔۔۔۔۔۔ڈین ہی
امریحہ نے سونے کی کوشش کی اور اگلی بار گلہ گھوٹنے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی اب وہ کیسے مارنا پسند کرے گی یہ فیصلہ اب کسی اور کو کرنا تھاآپ جانتے ہے کون ہے وہ۔۔۔۔ہاں جی وہی
*…….*……..*
امریحہ بت سی بن گئی اب نہ پوچھ سکی کیا واقع ہی
ویرا نے اسکی بارہ بجے والی شکل دیکھی اور امریحہ نے اسکی میں تمہیں کھا جاؤں گی والی شکل پر غور کیا دونوں کے جبڑوں سے یک دم پھر پھر قہقوں کے کبوتر نکلے
یہ تم دونوں میں کیا کھچڑی پک رہی ہے آج کل؟
صبح ناشتے کی میز پر لیڈی مہر پوچھ رہی تھی
امریحہ نے نہ میں صرف منہ ہلایا جب کے ویرا نے منہ پھیلا لیا لیڈی مہر نے این اون کی طرف دیکھا وہ آج کل لیڈی مہر کی کریندا خاص بنی ہوئی تھی اور اس نے چابی کی گڑیا کی طرح سب سنا دیا
سب۔ ۔۔
لیڈی مہر کافی دیر ویرا کو دیکھتی رہی
یہ تو مجھے معلوم تھا تم میں بہت کچھ خاص ہے لیکن اتنا زیادہ خاص مجھے اندازہ نہیں تھی اور امریحہ تم۔۔۔۔۔۔تمہیں یہاں آ کر پر لاگ گئے ہیں یا پھر تم اپنے سامان میں چھپا کر لائی تھی جو تم نے یہاں آ کر لگا لئے؟
دونوں کھی کھی کرنے لگی
زمین پر گھومو پھرو جو مرضی کرو کبھی قانون نہ طورو دنیا میں ایسا کوئی شوق نہیں جو اصولوں کو توڑ کر پورا کیا جائے حدوں سے باہر بر حال نہیں نکلنا چاہیے خاص کر ایک سٹوڈنٹ کو
ویرا نے گھور کر امریحہ اور این اون کو دیکھا ہر طرف سے اسکی بہادری پر لعن طعن کی جا رہی ہے
مجھ سے بچ جانا تم ویرا نے جاپانی میں این اون کو دھمکی ڈی
یہ مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دے رہی ہے آنٹی!این اون نے ایک کی چار لگا کر بتائی
امریحہ کا منہ کھل گیا یعنی این اون بھی پر سامان میں رکھ کر ساتھ لائی تھی یا یونی کے باغ سے توڑے تھے آخری خیال پر اتفاق کیا جاتا ہے
یونی میں کارل آیا اسے دیکھ کر چلا گیا پھر اگلے دن وہ بس سے اتری ہی تھی کے وہ اس کے پاس آیا اور ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ امرحہ نے بس کی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے یونی کی دیوار کے ساتھ کمر ٹکائے آتی جاتی بسوں کی طرف دیکھ رہا تھا یعنی مس امرحہ ینگ لیڈی آف پاکستان کا انتظار کیا جارہا تھا۔ امرحہ نے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ سے پانی کی بوتل لیکر گھونٹ پانی پیا۔۔۔ بس ایسے ہی گلا خشک سا ہو رہا تھا اسکا جی تو چاہا کہ اگلے سٹاپ پر اتر جائے پر وہ ڈرتی ورتی تھوڑی تھی کارل سے۔۔۔ کیا سمجھتا ہے کارل اسے۔۔۔ہیں۔۔۔؟؟
سینے پر ہاتھ باندھے ہڈکیپ سے سر کو ڈھانپے وہ اسے جم کے انداز سے گھورنے لگا۔۔۔ اب وہ نہ بول رہا تھا، نہ رستہ چھوڑ رہا تھا وہ کتنی بھی تیزی سے دائیں بائیں سے ہو کر نکل جانا چاہتی اتنی ہی پھرتی سے وو اسکے آگے اجاتا۔۔۔
میرا رستہ چھوڑو۔۔۔ امرحہ نے چلا کر کہنا چاہا لیکن آواز نکلی ہی نہیں۔۔۔ پانی۔۔۔ پانی کہاں ہے۔۔۔؟؟
کیا مسئلہ ہے تمہارا کارل۔۔۔؟؟؟
تم۔۔۔
اب تک تم مجھے پنچ (punch) مارتے رہے ایک میں نے ماردیا۔۔۔
مجھے تمہارا پنچ اچھا لگا۔۔۔ ہمیں اب دوستی کر لینی چاہیے۔۔۔
میں لنگوروں سے دوستی نہیں کرتی۔۔۔
پر مجھے مینڈکیاں پسند ہیں۔۔۔امرحہ۔۔۔
The Disaster Queen
کارل دی فتور۔۔۔
آکسفورڈ روڈ پر دونوں آمنے سامنے کھڑے لڑ رہے تھے۔
فتور؟ ہڈکیپ کو اس نے سر کو دائیں بائیں کرکے اتارا۔۔۔ اسے غصہ آ رہا تھا۔
ہاں فتور۔۔۔ کرتے رہو اسے اب گوگل۔۔۔
ضرورت نہیں ۔۔۔ مجھے یہ نام پسند آیا ہے۔۔۔ تم پر جچ بھی بہت رہا ہے بلکہ اسے اپنے نام رجسڑڈ کروالو۔
Hmmm …
پھر ملتے ہیں امرحہ۔۔۔
اسکے کراس بیگ کی اوپری جیب سے جھانکتی ایک عدد چاکلیٹ کو نکال کر وہ چلاگیا، ساتھ ہنٹ دے گیا۔۔۔ بھاڑ میں جائیں اسکے ہنٹ۔۔۔ امرحہ یونی آگئی اور سارا دن اس حد تک محتاط رہی کہ کلاس میں ہادی الرحمن نے پین مانگا تو وہ شک سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کیوں چاہیے تمہیں مجھ سے پین؟
میرا پین کام نہیں کر رہا۔۔۔ وہ بے چارا مصری گھبرا گیا۔
تم کسی اور سے لے لو۔۔۔ مجھ سے ہی کیوں مانگ رہے ہو۔۔۔؟؟
تم میری ساتھ کی سیٹ پر بیٹھی ہو نا اور اتفاق سے مجھے یہ غلط فہمی رہی تھی کہ تم کافی خوش اخلاق ہو اور پین نامی چیز عاریتاً مانگ لینے پر ایسے خونخوار نہیں ہوجاتی ہوگی۔۔۔
"میرے پاس کوئی پین نہیں ہے۔ "تین پین اسکے بیگ میں رکھے تھے۔۔۔
پامیلا نے اس سے کہا۔ تھوڑی دیر کے لیے میری بکس اور لیپ ٹاپ کو سنبھال سکتی ہو مجھے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ تک جانا ہے، صرف پندرہ منٹ کے لیے۔
میں خود بھی وہیں جارہی ہوں۔ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔۔ نہیں وہ سائی کے پاس جارہی تھی۔۔۔
پورا دن وہ نفسیاتی مریضہ بنی رہی۔
چند دن گزرے تو وہ اس واقعے کو بھولنے لگی، اسے اور بھی بہت کام تھے جیسے کہ پاکستانی اسٹوڈنٹ سوسائٹی کے ساتھ مل کر امرحہ سوشل ورک کر رہی تھی۔
مقامی ہسپتال کے لیے انہیں فنڈز اکھٹے کرنے تھے۔
بچوں کے بہرے اور اندھے پن کے علاج کے لیے۔۔
امرحہ، شزاءسے اچھے خاصے پونڈز نکلوانے میں کامیاب ہوچکی تھی، ساتھ ہی شزا نے اسے اپنے "پرانے” اور "بےکار” بیگ، جوتے اور کوٹ دیے تھے، جو امرحہ نے اپنے اور آرٹ ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیوں کو اچھے داموں بیچ دیے۔ وہ عالیان کے پاس بھی گئی تھی۔۔۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ پھر سے چھپ کر اس دیکھ رہی تھی اور وہ ایک دم سے اسکے سامنے آ گیا تھا.
"میں فنڈز جمع کر رہی ہوں.”وہ گھبرا گئی باکس آگے کیا.ثبوت!
اس نے چند پونڈز فنڈ باکس میں ڈال دیے اور جانے لگا.
"بچوں کے اندھے اور بہرے پن کا علاج ہونا ہے …..علاج مہنگا ہوتا ہے ہمیں ذیادہ پونڈز چاہیئں. "اسکی پشت سے گھوم کر وہ جلدی سے آگے آئی اسکا راستہ روک لیا.اسے ذیادہ پونڈز نہیں اسکا ذیادہ وقت چاہیے تھا.
اس نے اپنے کراس بیگ سے ساری کتابیں نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیں اور بیگ کے پیندے میں پڑے ہوئے سکوں کو اکھٹا کیا اور فنڈز باکس میں ڈال دیے….اور پھر سے جانے لگا.
"کتنے شرم کی بات ہے عالیان …..!تم نے کتنا کم فنڈ دیا ہے.”
"میرے پاس جتنے تھے میں نے سب اس باکس میں ڈل دیے ہیں.”وہ بے زاری سے بولا.
"یہ تو بہت بری بات ہے’ بلکہ قریب قریب بے عزتی کی.”اسنے کہتے اپنے بیگ سے جلدی سے دس پونڈز نکالے اور باکس میں ڈال دیے.
"یہ دس پونڈز کی ٹوئیٹ میں نے تمہاری طرف سے باکس میں ڈال دی ہے ‘ اب تم مجھے دس پونڈز واپس کر دینا…..ٹھیک ہے کر دینا یاد سے.”امرحہ کو اپنی بہادری پر حیرت ہوئی.
عالیان خاموش اسے دیکھ رہا تھا.
"جب چاہے واپس کر دینا ‘میں جلدی کا شور نہیں مچاوں گی.”امرحہ کہہ کر پلٹ آئی ‘جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا ‘اس پر تو امرحہ نے یونی کے بیچ میں بیٹھ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دینا تھا.لیکن اس بار کوئی اسکے سامنے گھٹنوں کے بل آ کر نہیں بیٹھے گا’وہ یہ جانتی تھی.اس بار مغرب اور مشرق کا ٹال میل نہ ہو گا اس بار اسے چپ نہ کروایا جائے گا…..نہ جان ….نہ پہچان اس یونی میں کوئی امرحہ نہیں…..اسی یونی میں کوئی عالیان بھی نہیں .
کارل فورا اسکے پاس آیا اور صرف دو پونڈز باکس میں ڈالے”یہ لو’آج سے ہم دوست ہیں.”چمک دار دانتوں کی نمائش کی….خوامخواہ.
امرحہ نے فنڈز باکس کو کھول کر دو پونڈز نکالے’اس میں اپنے بیگ سے دو پونڈز نکال کر شامل کیے اور اسے واپس کیے.
"یہ لو ‘دوبارہ ایسی بات مت کرنا.”اسکی آخری دھمکی کی وجہ سے وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی تھی.اب یہ دوستی کی فرمائش بھی اسی کی کڑی ہو گی.
کارل نےاپنی آنکھیں چندھیا لیں’لیں’اسکے پاس اس شہہ کی مات فی الحال نہیں تھی’جب وہ ایسے مسکراتا تھا تو مطلب اسکا یہ ہوتا کہ مجھے اچھا لگا….بہت اچھا لگا….میں نے انجوائے کیا’ویسے وہ یونی کا ایک ایک لمحہ ہی انجوائے کر رہا تھا.
وہ ہر کھیل کا بادشاہ تھا.اسکے سر پر فتح کا تاج سجتا تھا. یونی میں وہ اسٹوڈنٹ یونین کے صدر سے ذیادہ مقبول تھا اور ظاہر ہے اپنی حر کتوں کی وجہ سے تھا.اب یونی میں موجود کمپیوٹر کو ایک اسٹوڈنٹ استعمال کر کے اٹھتا ہے تو فورا اس پر کارل بیٹھ جاتا ہے اپنے موبائل کو اس کمپیوٹر سے جوڑ کر ننھا منا سا لیکن خطرناک ہیکنگ سوفٹ وئیر عارضی طور پر انسٹال کرتا ہے اس کمپیوٹر پر استعمال ہوئے تازہ تازہ آئی ڈی کے پاس ورڈز کو توڑتا ہے اور بس………
نہیں وہ بلیک میل نہیں کرتا…. ہرگز نہیں وہ آئی ڈی اور پاس ورڈ کا غلط استعمال بھی نہیں کرتا ‘بس وہ تھوڑا بہت ڈیٹا ‘تصویریں ‘کچھ پیغامات’کچھ چیٹ موبائل میں محفوظ کرتا ہے اور پھر اسے دی پرنٹ ورک کے کسی مہنگے ریسٹورنٹ میں لنچ ڈنر کروا دیا جاتا ہے’سینما کی ٹکٹ لے دی جاتی ہے’کھانے پینے کی دوسری اشیاء اسکی وارڈ روب میں بھر دی جاتی ہیں اور اسی وارڈ روب میں چند اور نئی شرٹس آ جاتی ہیں’نئے شوز بھی اور اسے اپنی ایک نئی کار استعمال کیلئے دی جاتیں جنہیں وہ دنوں واپس نہ کرتا جب تک مانچسٹر کی ایک ایک سڑک کی سیر نہ کر لیتا…..بس یہی سب چھوٹا بڑا….وہ بھی سب اپنی خوشی میں کرتے ہیں وہ مجبور نہیں کرتا.
اسٹوڈنٹس کے گھروں میں پرانک کالز کرنا بھی اسکا مشغلہ ہے’لیکن اس مشغلے کا استعمال وہ اس وقت کرتا جب وہ انسانوں سے بور ہو چکا ہوتا.وہ اسٹوڈنٹس کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے مختلف کہانیاں گھڑ کر انکے گھر والوں کو سناتا اور اگلے دن وہ بے چارے ہال میں بھاگے جاتے کہ آخر سلویو کیوں خود کشی کرنے جا رہی تھی…. صرف سامنے کے دو دانت ٹوٹ جانے پر خودکشی….؟
اور شیشے راتوں کو اٹھ اٹھ کر الو کی آوازیں کیوں نکالتا وہ بھی کھڑکی سے آدھا دھڑ باہر نکال کر ….کیا وہ الو کی طرح اڑنے کی کوشش بھی کرتا ہے؟اوہ گوش…..اور یہ کرسٹی کو نالیوں سے اتنی الرجک کیوں ہونے لگی ہے کہ اس نے تین بلیوں کا قتل کردیا اور انہیں اپنے بیڈ کے نیچے دفنا دیا اور جس دن اسے قتل کرنے کیلئے کوئی بلی نہیں ملتی وہ بلی کی صورت والی اپنی ہال میٹ لڑکیوں پر حملہ کر دیتی ہے…..Duzzzz Duzzzzzz کرسٹی قاتلہ بننے جا رہی ہے….
اور روفی وہ کیا کرنا چاہتا ہے آخر’ وہ اپنے کیمسٹری کے پروفیسر کو دیکھتے ساتھ پھولوں کی طرح کیوں چلانے لگتا ہے اور ہال کی آخری منزل کی چھت پر آدھی رات کو چڑھ کر وہ کسے آوازیں دیتا ہے…..کیا ‘ کیا اسکا کہنا ہے کہ مارلن منرو اس سے ملنے آتی ہے…..آہ میرا روفی ……وہ تو بہت لائق تھا.ہال میں والدین اپنے پاگل ‘دیوانے بیمار ذہن بچوں سے مل جاتے اور بچے سوچ سوچ کر پاگل ہو جاتے کہ آخر یہ کون ہے جو ان کے گھر راتوں کو فون کرتا ہے اور والدین یہ سوچتے کہ بچے ان سے کچھ نہ کچھ چھپا رہے ہیں …….لیکن کیوں’ اسکی کیا وجہ ہے…..؟
وجہ کارل تھی اور کافی بڑی وجہ تھی.
امرحہ کافی آگے جا چکی تھی کارل سے مکالمہ میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ کارل بھاگ کر اسکے پاس آیا۔۔۔
ٹھیک ہے نہیں کرتا دوستی کی بات۔۔۔ ویسے میں بہت اچھا انسان ہوں۔۔
مجھے تم جیسے انسانوں سے دور رہنا چاہیے۔
میں پاکستان کو بہت پسند کرتا ہوں،۔ کاش وہ میرا ملک ہوتا، خاص کر لاہور پر تو میں فدا ہوں۔
اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
مجھے تشویش ہورہی ہے، پاکستان کی قسمت کو لیکر خاص کر لاہور کو لے کر۔
میں بزنس ٹائیکون بن جاؤں گا تو پاکستان کو کافی بزنس دونگا۔
اف، اتنے برے حالات کبھی نہیں آئیں گے میرے ملک پر۔۔۔
کیونکہ جتنے برے آنے تھے وہ تو تمہاری پیدائش سے آچکے ہونگے نا۔۔۔ پوری جان سے قہقہہ لگاتا وہ چلا گیا۔
امرحہ تو سناٹے میں ہی آ گئ، اسے بہت بری لگی اسکی آخری بات، حقیقت میں اب تک کی جانے والی ساری باتوں اور حرکتوں میں سب سے زیادہ بری بات، وہ کون تھا اسکے ماضی کے بارے میں ایسی خطرناک بات کرنے والا۔۔۔
جس طرح کارل تھا اور وجوہات وہ کرگیا تھا امرحہ کو یقین سا ہوگیا کہ وہ اسکی پیدائشی تاریخ جان چکا ہے۔۔۔
ہاں ایسا ہی ہو گیا ہے ، وہ کسی نہ کسی طرح سے اسکا ماضی بھی جان چکا ہے، اب وہ یونی میں ان باتوں کا اشتہار لگاتا پھرے گا نا۔
جاری ہے

57

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/