اب یہ نوبت آ گئی ناکامیِ تقدیر سے …

حالِ دل کہنے کو بیٹھا ہوں تری تصویر سے
اِک تو میں پہلے ہی دِق تھا جورِ چرخ پیر سے
تم مِلے بھی ہو تو ایسے ہی مِلے تقدیر سے
تیغِ ابرو کھینچتی کیوں ہو، نظر سے کام لو
تم ابھی کم سن ہو پہلے مشق کر لو تِیر سے
یاد کر کر کے ابھی بیمار نے توڑا ہے دم
آپ آئے تو سہی لیکن ذرا تاخیر سے
رات دن جاری رہِ ملکِ عدم ہے اور پھر
سامنا ہوتا نہیں رہ گیر کا رہ گیر سے
مِل گیا گُلشن کا صحرا سے جنوں میں سِلسلہ
بیل بوٹے بن گئے کِھنچتی ہوئی زنجیر سے
وہ تو یہ کہے خیالِ زُلفِ پیچاں آ گیا
ورنہ دیوانے بھی رُکتے ہیں کہیں زنجیر سے
لے لیا ہے تیری خاطر سے جواب اے نامہ بر
ورنہ یہ تحریر تو ملتی نہیں تحریر سے
تم درِ زنداں پہ اپنی زُلف سلجھاتے تو ہو
کوئی دیوانہ اُلجھ بیٹھا اگر زنجیر سے
بزم میں ترچھی نظر والے خبر بھی ہے تجھے
کِتنے دِل زخمی ہوئے ہیں ایک تیرے تِیر سے
چاندنی کی سَیر اُن کے ساتھ! یہ حسرت فضول
اے قمرؔ نفرت ہے اُن کو چاند کی تنویر سے
استاد قمرؔ جلالوی
از:-رَشکِ قمر ص ۹۹/۱۰۰
اِنتِخاب
سفیدپوش





بہت ہی خوبصورت