منتخب نظمیں

آج میں پاکستانی ابوؤں سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں م…

آج میں پاکستانی ابوؤں سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں

میں پاکستانی امی ہوں اور خصوصا کچھ ٹین ایج بچوں کی امی بھی ہوں۔اور میں اپنی فیلڈ میں بچوں اور نوجوانوں کے بہت کمپلیکس کیسز بھی دیکھتی ہوں۔

آپ کو اپنے ٹین بچوں سے یہ کہنا مشکل لگتا ہے نا۔۔

I’m proud of you.
I love you.

تمہارے نمبر تو بہت اچھے آئے ہیں بھئی۔ دل خوش ہوگیا۔ میں نے اپنے دوستوں کو بھی بتایا۔

تم بالکل میری طرح ہو۔ تم کو دیکھتا ہوں تو اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہے۔

میں نے تمہیں ڈانٹا تھا اس روز کیونکہ تم سے غلطی ہوئی۔ آج یہ بھی بتا رہا ہوں کہ تمہارا یہ کام اور یہ خوبی مجھے بے حد پسند ہے۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میرے بیٹے نے مجھے پلٹ کر جواب نہیں دیا۔

(یا جو بھی خوبی آپ نے نوٹ کی ہو)

یہ کہنا مشکل ہے۔ اور روز روز نہیں کہاجاتا۔مگر جب کہا جاتا ہے تو جادو کا اثر رکھتا ہے۔میں نے نوجوان لڑکوں کو بے یقینی اور خوشی سے روتے دیکھا ہے۔

خاص طور پر اپنے بڑے ہوتے بیٹوں کو احساس دلائیے کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں۔یہ بتانے کے لئے کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں یہ تقریر نہیں کرنا چاہیے کہ
“تم لوگوں کے لئے ہی صبح سے شام کھپتا ہوں، باہر دھکے کھاتا ہوں۔
تم سے زیادہ محنت کی ہے۔ آرام تج کر اس لئے کام کیا کہ تم آرام سے رہو۔”

نہ نہ۔۔ یہ تو آپ انہیں شرمندہ کررہے ہیں۔

ایک پیاری سی راز کی بات بتاؤں؟

“ابوؤں کی قربانیاں بتانے کا کام امیوں کو کرنا چاہیے”۔

اچھا مزید یہ کہ ویسے تو امیاں یہ کام اکثر کرتی ہیں۔لیکن اگر نہیں کرتیں تو ان کو کرنا چاہیے۔ان کو وقتا فوقتا بیٹوں یا بیٹیوں سے کہنا چاہیے۔

“تمہارے ابو آج اتنا خوش ہورہے تھے تمہارا رزلٹ دیکھ کر۔ میں نے کم ہی ان کو کسی بات پر ایسا خوش دیکھا ہے۔

تمہارے ابو کہہ رہے تھے تم سے بہت خوش ہیں وہ۔

تمہارے ابو کہہ رہے تھے کہ تم نے جاب شروع کردی اب ان کو اتنا اطمینان ہوگیا ہے۔
تمہارے ابو کہہ رہے تھے۔ میری دوست پریشان ہورہے تھے اپنے بچوں کی مسائل سے ، میں اطمینان میں تھا کہ الحمدللہ میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔ اللہ اسے بہترین قسمت دے

وغیرہ وغیرہ

یہ جو بڑھتی عمر کے بیٹے ہوتے ہیں نا۔
یہ اندر سے بہت معصوم ہوتے ہیں۔ خود کو بڑا سمجھنے کا وقت تھوڑا سا سرک جاتا ہے۔ اب یہ انیس بیس اکیس کے ہوگئے ہوتے ہیں تو زندگی کی مشکلات سامنے آجاتی ہیں۔ بڑے ہونے کا رومان زندگی کی حقیقت نگلنے لگتی ہے۔ اب وہ چھوٹے نہیں رہے کہ میرے ابو کہہ کر آپ کی گود میں چڑھ جائیں ۔ مگر وہ آپ کو دور دور سے دیکھتے رہتے ہیں۔

آپ کا مضبوط محبت اور تحفظ کا احساس دلاتا ہاتھ اور الفاظ ان کا دل بڑھادیتے ہیں، وہ اندر سے بالکل بچوں کی طرح خوش ہوجاتے ہیں۔

آپ کو محبت کا اظہار مشکل لگتا ہے ان کو بھی محبت مانگنا اس سے بھی زیادہ مشکل لگتا ہے۔مگر یہ نہ ان کو پتہ چلتا ہے نہ آپ کو کہ احساس محبت جادو کا اثر رکھتا ہے۔

جب تک آپ ان سے یہ کہہ نہ دیں!!

تحریر: ڈاکٹر جویریہ سعید

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/