مختصر کہانیاں

ہم راہ (زویا حسن) قسط نمبر 13 ___________________ …

ہم راہ (زویا حسن)
قسط نمبر 13
___________________

"ابھی تو سفر شروع ہی ہوا تھا۔۔۔۔ تم ابھی سے ساتھ چھوڑنے والے تھے۔۔۔ تم تو کہتے تھے کہ ہر قدم پہ میرے ساتھ چلو گے۔۔۔ پھر کیوں۔۔۔ دور جانے کی ٹھانی۔۔۔۔ ؟”
میری آنکھوں میں ہزار شکوے تھے۔۔۔ اسکے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکان پھیل گئی۔۔۔۔
وہ درد ناک پل جو سانپ کی طرح ڈستے تھے ۔۔۔۔۔ وہ لمحے جب یقین اور بے یقینی کے بیچ میں حائل ہو کے رہ گئی تھی۔۔۔۔ کتنی ساری ادھوری باتیں۔۔۔ جو اس سےکرنی تھیں۔۔۔ لیکن نہ تو موقع تھا اور نہ محل۔۔۔ میں اسکے پاس بے بس کھڑی تھی۔۔۔۔ مجھ سے کچھ کہا ہی نہیں گیا۔۔۔۔ اپنے آنسو پونچھتے میں واپس پلٹی۔۔۔۔
ہم نے احمر کے دوستوں کو شام تک کی چھٹی دی۔ دوپہر میں مَیں نے ساجدہ آنٹی کو گھر بھیج دیا۔۔۔ احمر کے چیک اپ کے لیے ڈاکٹروں کی ایک پلٹن روم میں گھسی تو میں بھی انکے پیچھے پیچھے اندر چلی گئی۔۔۔ انکے ہاتھ میں کچھ رپورٹس تھیں۔۔۔ میں دھیان سے انکی باتیں سنتی رہی۔۔۔ میں نے احمر کی ریکوری کے حوالے سے ان سے بات چیت کی۔۔۔۔ ڈاکٹرز کے جانے کے بعد نرس نے احمر کو انجیکشن لگایا۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہ بھی سو گیا۔۔۔ میں چہل قدمی کرنے کے لیے روم سے باہر نکلی تو مدیحہ میرے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
"آنکھیں بند کرو۔۔۔۔۔ جلدی سے۔۔۔۔!” وہ بولی
"ارے۔۔۔ ! ہوا کیا ہے۔۔۔۔ ؟ ” میں ہڑ بڑا گئی
"بس بند کرو آنکھیں۔۔۔۔۔۔ ” اس نے ضد پکڑ لی۔۔۔
میں نے آنکھیں بند کرلیں
"ہاتھ آگے کرو۔۔۔۔۔ !”
میں نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
اس نے میرے ہاتھ پہ کچھ رکھا اور میں نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں
"او ایم جی۔۔۔۔ ! نیو فون۔۔۔۔” میں خوشی سے اچھل پڑی
مدیحہ مسکرانے لگی۔۔۔۔
"ویسے۔۔۔۔۔ یہ کس خوشی میں گفٹ دیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔؟” میں نے اس سے پوچھا
"یہ آپکی خالہ نے گفٹ کیا ہے۔۔۔۔ اب فٹا فٹ میرا فون واپس کرو۔۔۔” اس نے جواب دیا
میں اور مدیحہ کیفے ٹیریا چلے گئے۔۔۔ ہم نے کوفی آرڈر کی ۔۔۔ میرا پوار دھیان نئے فون کو چیک کرنے میں تھا۔ مدیحہ نے اس میں نئی سم ڈال دی تھی۔
” مدیحہ۔۔۔! تمہارے فون میں ڈاکٹر حمزہ کا نمبر سیو تھا پلیز مجھے فارورڈ کرو۔۔۔ میں انھیں میسج کرکے نیا نمبر دی دیتی ہوں” مجھے فوراً یاد آیا
"اوکے ابھی کرتی ہوں۔۔۔۔” وہ اپنا فون بیگ سے نکالنے لگی
"ارسہ۔۔۔۔ ! ایک بات پوچھوں۔۔۔؟” وہ بولی
"پوچھو۔۔۔۔”
"تم ڈاکٹر حمزہ کو نیا نمبر کیوں دے رہی ہو۔۔۔۔؟” وہ سنجیدہ ہوکے بولی
"اس بات کا کیا مطلب ہوا۔۔۔؟”میں اسکی طرف دیکھنے لگی
"آئی مین۔۔۔۔ اب تو احمر کافی بہتر ہے تو ضروری تھوڑی نہ ہے کہ تم بعد میں بھی اس رابطہ رکھو۔۔۔” وہ کہنے لگی
"کیسی باتیں کرتی ہو مدیحہ۔۔۔۔ انھوں نے اتنی ہیلپ کی۔۔۔۔۔ اچھا تھوڑی نہ لگتا ہے کام نکلوایا اور ایک دم سے غائب۔۔۔” میں نے اسکی بات کا جواب دیا
” ہاں۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ۔۔ پنڈی جا کے ہم سب کو بھول تو نہیں جاؤ گی تم۔۔۔۔؟” اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
"پاگل ہو کیا۔۔۔۔ کسی کو نہیں بھولوں گی۔۔۔۔۔۔ ” میں ہنسنے لگی
"احمر کو بھی۔۔۔۔؟”
"احمر کوئی بھولنے والی چیز ہے۔۔۔۔۔؟” میرے چہرے پہ معنی خیز مسکراہٹ تھی
"ایک بات سچ سچ بتاؤ۔۔۔۔۔ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
"پوچھو۔۔۔۔!”
"ڈو ۔۔۔یو۔۔۔ ہیوو۔۔۔ فیلنگز۔۔۔ فار ۔۔۔ احمر۔۔۔؟”
"فیلنگز۔۔۔۔۔ ! کیسی فیلنگز۔۔۔؟” میں انجان بننے لگی
"اوہ کم آن۔۔۔۔ تم اچھی طرح سے جانتی ہو میں کن فیلنگز کی بات کررہی ہوں۔۔۔” اسکے ماتھے پہ بل پڑ گئے
میں مسکرانے لگی۔۔۔۔
"بتاؤ ۔۔۔ نا۔۔۔!” وہ چڑ کےبولی
ویٹر کوفی لے کے آگیا
"بتاؤں۔۔۔۔ گی لیکن ابھی نہیں۔۔۔۔ ” میں نے کوفی کا مگ پکڑا
"کیوں۔۔۔۔۔؟ ابھی کیوں نہیں؟ تم شور نہیں ہو۔۔۔۔؟”
"ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ بتاؤں گی تمہیں۔۔۔”
"کب۔۔۔۔؟”
"جس دن جانے لگوں گی۔۔۔۔ تب پوچھنا۔۔۔۔”
"کم آن بے بی۔۔۔۔ اتنے دن ویٹ کروں ؟”
"کونسے اتنے دن۔۔۔ کمنگ سنڈے کو میری واپسی ہے۔۔۔ صرف پانچ دن کی مہمان ہوں میں یہاں پہ۔۔۔” میں نےاسے بتایا
"سیریسلی۔۔۔۔۔ ! اتنی جلدی چلی جاؤ گی۔۔۔؟”
"یہ میری امّی سے پوچھو ۔۔۔۔۔ انھیں لگتا ہے کہ مجھے یہاں رہیتے ایک سال ہوگیا ہے۔۔۔” مجھے امّی سے آخری بار کی گئی بات یاد آئی
"پھر کب آؤ گی۔۔۔۔؟” وہ اداس ہو کے بولی
"دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ فلحال کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔۔۔” میں نے جواب دیا
ڈاکٹر حمزہ کو میں نے اپنے نام کے ساتھ میسج سینڈ کردیا۔۔۔
"کیوں۔۔۔ ؟ ہوسکتا ہے کہ تمہیں اگلی بار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنا پڑے۔۔۔۔۔ ” اس نے معنی خیز بات کی
میں چاہتے ہوئے بھی اپنی مسکراہٹ چھپا نہیں پائی۔۔۔
میسج ٹون بجی۔۔۔۔۔
"ڈاکٹر حمزہ کا میسج ہے۔۔۔۔۔ ” میں نے نوٹیفیکشن چیک کی
"اف۔۔۔۔ ایک تو یہ ڈاکٹر حمزہ۔۔۔۔۔ ” مدیحہ چڑ گئی
اسکے اس انداز پہ مجھے ہنسی آگئی۔۔۔
میں میسج پڑھنے لگی۔۔۔
"تھینکس فار گیونگ دس آنر۔۔۔۔۔۔ ” ڈاکٹر حمزہ کا میسج تھا
"میں سمجھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔” میں نے ریپلائی کیا
"آپ نے اپنا نیا نمبر دینے کے قابل سمجھا۔۔۔۔ اب کہیں جا کے تسلی ہوئی ہے کہ شائد آپ سے رابطہ قائم رہے گا”
"جی ضرور قائم رہے گا۔۔۔ آپ میرے محسن ہیں۔۔۔۔”
"مس ارسہ۔۔۔۔ ! آپ ہمیشہ ایسی فارمیلیٹیز میں کیوں پڑی رہیتی ہیں۔۔۔۔؟”
"ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔”
"تو۔۔۔ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔ ویسے میں اتنا مھان نہیں ہوں۔۔۔ جتنا آپ نے بنا دیا”
"یو ڈیزروو دس ریسپیکٹ۔۔۔۔ میں بہت شکر گزار ہوں آپکی ”
"ایک تو آپکا یہ شکریہ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔ چلیں ایک کام کرتے ہیں۔۔۔ آپ ایک ہی بار جی بھر کے شکریہ ادا کردیں، لیکن میرے طریقے سے۔۔۔۔” ڈاکٹر حمزہ کا جواب آیا
"آپکے طریقے سے کیا مراد ہے۔۔۔۔ ؟” میں نے پوچھا
"میرے ساتھ ایک لنچ کرکے۔۔۔۔ ”
میں سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ مدیحہ فہیم کے ساتھ فون پہ بات کررہی تھی۔
"کوئی اور راستہ نہیں ہے۔۔۔۔؟” میں نے میسج کیا
"آپ سوچ لیں۔۔۔ کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔۔ جب آپکو ایزی لگے بتا دیجئے گا”
"ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!” میں نے آخری میسج کر دیا
ڈاکٹر حمزہ نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔ میں کیسے انکے ساتھ لنچ پہ جاسکتی ہوں۔۔۔ مدیحہ سے اس بارے میں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔ میں اپنے آپ میں ہی کھوئی رہی۔
مدیحہ واپس چلی گئی۔ ساجدہ آنٹی شام میں پھر سے اسپتال آئیں۔۔۔ احمر کے ساتھ کافی دیر بیٹھی رہیں۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں احمر کے دوست بھی لوٹ آئے۔ ساجدہ آنٹی اور میں گھر جانے لگے۔۔۔
واپسی پہ ساجدہ آنٹی میرے ساتھ خالہ کی طرف آ گئیں۔۔۔ خالہ انھیں دیکھ کے بہت خوش ہوئیں۔۔
"صفیہ۔۔۔ ! ارسہ نے ہماری دوستی کے سارے حق ادا کردیے ہیں۔۔۔ اس بچی نے نازیہ کی کمی پوری کردی” ساجدہ آنٹی میرا ہاتھ پکڑ کے بولیں
خالہ مسکرا دیں۔۔۔
"آنٹی۔۔۔ ! آپ مجھے ارسہ نہیں نازیہ ہی سمجھیں۔۔۔ اور میں نے جو کچھ بھی کیا آپ کو اپنا سمجھ کے کیا۔۔۔۔” میں سر جھکا کے بولی
ساجدہ آنٹی آبدیدہ ہوگئیں۔۔۔
"ثریا۔۔۔ ! بہت ناشکری ہے۔ اللہ پاک نے ہیرے جیسے بیٹی دی ہے۔ پر اسکو دیکھو ہمیشہ اسکے پیچھے پڑی رہیتی ہے” خالہ امّی کو کوسنے لگیں۔۔
میں ہنس پڑی۔۔۔
"خالہ غلطی انکی بھی نہیں ہے۔ میں نے انھیں تنگ بھی بہت کیا ہے۔۔۔۔ ” میں تسلیم کررہی تھی۔
ساجدہ آنٹی کے جانے بعد خالہ نے رشیدہ کو تلقین کہ عمران بھائی اور نبیلہ بھابی دو ، چار دن میں واپس آرہے ہیں تو انکے کمرے کی اچھی طرح سے صفائی کردے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگلے دن خالہ کی طبیعت تھوڑی سی خراب تھی، اس وجہ سے میں احمر سے ملنے اسپتال نہیں جا سکی۔ ساجدہ آنٹی پَری اور نومی کو میرے پاس چھوڑ گئیں۔ میں واپس جانے کے لیے اپنے بیگ وغیرہ پیک کرنے لگی۔ امّی سے فون پہ بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ اتوار کو بھائی مجھے لینے آرہے ہیں۔ عمران بھائی کی اتوار رات کی فلائیٹ تھی ۔ اس لیے میری ان سے ملاقات کے چانسز کم ہی تھے۔ مجھے احمر کی فکر ہوئی تو میں ڈاکٹر حمزہ سے فون پہ بات کرکے تسلی ہوگئی کہ اسکی صحت اب کافی بہتر ہے اور عین ممکن ہے اگلے ایک آدھ دن میں وہ اسپتال سے ڈسچارج ہو جائے۔۔۔۔ میری بھی یہی دعا تھی کہ میرے جانے سے پہلے ہی وہ گھر لوٹ آئے۔۔۔ تاکہ میں اپنے دل کی ادھوری باتیں ایک بار اسے بتا سکوں۔ اب میں او ر زیادہ خاموش نہیں رہ سکتی۔۔۔۔
جہاں ایک طرف احمر سے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے دل بے قابو تھا۔ وہیں۔۔۔ اس سے دور جانے کی تلوار بھی سر پہ لٹک رہی تھی۔ کاش کچھ وقت اور مل جاتا۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ دل پاس ہوں تو ظاہری فاصلوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
میں دل ہی دل میں منصبوبے بنانے لگی کہ کس طرح اس تک اپنے دل کی بات پہنچاؤں۔۔۔۔۔
اگلے دن میں دوپہر میں اسپتال پہنچی۔۔۔ اور ساجدہ آنٹی واپس گھر آگئیں۔۔۔ احمر کی طبیعت کافی بہتر تھی۔۔ اب وہ خود اٹھ کے بیٹھ بھی سکتا تھا اور باتیں بھی کررہا تھا۔ جب ایک ایک کرکے سبھی کمرے سے نکل گئے تو وہ اتنے دنوں میں پہلی بار مجھ سے مخاطب ہوا
"آپ کل کیوں نہیں آئیں۔۔۔۔؟”
"کیوں۔۔۔۔ ؟ آپ میرا انتظار کررہے تھے۔۔۔؟”
"انتظار تو میں کرتا ہی رہیتا ہوں۔۔۔۔”
میں اپنی مسکان چھپا نہیں پائی
” لیکن سوچنے کی بات یہ کہ آپ میرا انتظار کیوں کریں گے۔۔۔؟” میں نے بناوٹی سنجیدگی چہرے پہ سجائی
"بات تو آپ نے پتے کہ ہے۔۔۔۔۔” وہ مسکرا کے بولا
"تو۔۔۔۔ ؟ کیا پتا چلا۔۔۔۔۔؟” میں نے پوچھا
” جلد ہی پتا چل جائے گا۔۔۔۔” وہ چھت کی طرف دیکھ کے بولا
دل تو کررہا تھا کہ ابھی سب کہہ دوں لیکن میں صحیح وقت کا انتظار کررہی تھی۔ ۔۔
سینئر ڈاکٹرز نے راؤنڈلگایا۔۔۔ اور جاتے جاتے یہ خوشخبری سنا گئے کہ کل صبح احمر کو چھٹی مل جائے گی۔۔۔۔ میں تو خوشی کے مارے اچھل پڑی۔۔۔ کیونکہ کل ہفتہ تھا اور اتوار کی میری روانگی۔۔۔ چلو جو بھی ہو۔۔۔۔ کچھ پل تو ہوں گے جو میں اسکے ساتھ گزار پاؤں گی۔ ۔
شام جب میں گھر واپس جانے لگی۔۔۔
"ارسہ۔۔۔۔ !” احمر میری آنکھوں میں دیکھ کے بولا
"جی۔۔۔۔۔۔ !” میں اسکے بیڈ کے پاس کھڑی تھی
"میں چاہتا ہوں۔۔۔ کل آپ مجھے لینے آئیں۔۔۔۔” اس نے کہا
"میں ضرور آؤں گی۔۔۔۔” میں نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا
"صرف آپ۔۔۔۔ اور کوئی نہیں۔۔۔” اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی
میں چپ ہوگئی۔۔۔۔
"بتائیں نا۔۔۔۔۔ ! ” وہ بولا
"اچھا۔۔۔ ! میں کوشش کروں گی کہ اور کوئی ساتھ نہ ہو۔۔۔” میں نے اسے تسلی دی
"کوشش نہیں۔۔۔۔ پکا وعدہ کریں۔۔۔۔۔”
"باقی سب کو تو میں سنبھال لوں گی لیکن ساجدہ آنٹی کو کیسے۔۔۔۔۔” میں سوچ میں پڑ گئی
"یہ میں نہیں جانتا۔۔۔۔ لیکن آپ کو میرے لیے یہ کرنا ہی پڑے گا۔۔۔” اس کی ضد تھی
"ٹھیک ہے میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔۔ کل میں اکیلی ہی لینے آؤں گی آپکو۔۔۔۔” میں نے اسے یقین دلایا
اسکے بعد میں وہاں سے چلی آئی۔۔۔۔
میرا فون سائیلنٹ تھا۔۔۔ میں نے راستے میں فون چیک کیا تو ڈاکٹر حمزہ کے کافی میسجز آئے ہوئے تھے۔ انھیں ریپلائی کرنے پہ پتا چلا کہ وہ اسپتال میں تھے اور مجھ سے ملنا چاہتے تھے۔ مجھے کافی شرمندگی ہوئی کہ میں ان سے مل نہیں پائی لیکن میں نے وعدہ کیا کہ کل ہر صورت ان سے ملوں گی۔
گھر جا کے میں نے ساجدہ آنٹی کو احمر کے ڈسچارج ہونے کی خبر سنائی تو انکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ ان کا بس چلتا تو ابھی سے جاکے اسپتال بیٹھ جائیں ۔ اتنی خوشی دیکھ میرے لیے کل انھیں روکنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ کیا ایسا کروں کہ وہ احمر کو لینے اسپتال نہ جائیں۔۔۔
"آنٹی۔۔۔ ! کل کتنے بجے چلنا ہے اسپتال۔۔۔؟” میں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
"بیٹا۔۔۔۔ ! صبح ہی چلیں گے۔۔۔” وہ بولیں
"لیکن میں ایک بات سوچ رہی ہوں۔۔۔۔”
"کیا۔۔۔۔؟”
"میں سوچ رہی تھی کہ آپ کل نذر نیاز کا انتظام بھی کریں۔۔۔ احمر صحت یاب ہوکے گھر لوٹ رہا ہے۔۔۔ میرا تو بس مشورہ ہے آگے آپکی جیسی مرضی۔۔۔۔۔” میں نے اندھیرے میں تیر چھوڑا
"ہاں۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔ ! کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔۔۔۔ ” وہ سوچ میں پڑ گئیں
"ہاں تو بس۔۔۔ آپ صبح صبح نیاز کا انتظام کریں میں احمر کو لے آتی ہوں۔۔۔ اب یہ بھی نہیں پتا کہ کل کس ٹائم اسے چھٹی ملے۔۔۔۔ تب تک آپ یہاں سب سنبھال لیں۔۔۔۔” تیر نشانے پہ جا لگا تھا
"ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔ مدیحہ کو بھی ساتھ لے جانا۔۔۔۔ ” انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا
میں نے انکے سامنے سر ہلایا لیکن مدیحہ کو میں کیسے لے جاسکتی تھی۔
رات بھر میں اسی بے چینی میں رہی کہ کس طرح اپنے دل کی بات احمر تک پہنچاؤں گی۔ منہ سے تو شائد کبھی میں پھوٹ نہیں پاؤں گی۔۔۔ اسے میسج کروں گی۔۔۔۔ نہیں میسج نہیں۔۔۔۔ کاغذ پہ لکھ کے۔۔۔۔ خالی کاغذ۔۔۔۔؟ نہیں نہیں۔۔۔۔ فلاور بْکے۔۔۔۔۔ یس۔۔۔ یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ رنگ برنگے پھولوں کا گلدستہ۔۔۔ اس میں ایک چھوٹا سا نوٹ۔۔۔۔ جس پہ دل کی تحریر درج ہو۔۔۔۔ رنگ برنگ پھول کیوں۔۔۔۔ صرف گلاب کے پھول۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔ اس میں نوٹ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہی ٹھیک ہے۔۔۔۔
پر لکھوں کیا۔۔۔۔۔؟ اف۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ لکھوں۔۔۔۔ کہاں سے شروع کروں۔۔۔۔۔ آدھی رات کو میں نے نوٹ بک نکال لی۔۔۔۔
"احمر۔۔۔ !میں تمہیں پسند کرنے لگی ہوں۔۔۔۔۔”
نہیں۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی پسند کرنے لگی ہوں۔۔۔
"احمر۔۔۔۔ ! میں تم سے پیار کرتی ہوں”
یہ بھی نہیں۔۔۔ بہت ہی چھچھورا لگ رہا ہے
"کیا تم میری زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آ سکتے ہو۔۔۔؟”
نو ۔۔۔۔ نو ۔۔۔ نو۔۔۔۔
صبح کے چار بج چکے تھے اور ابھی تک میں یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ کیا لکھوں۔۔۔۔؟
"احمر۔۔۔۔ ! میں جب سے تم سے ملی ہوں ۔۔۔ میری ہر خوشی۔۔۔ دکھ۔۔۔ غصہ۔۔۔۔ لڑائی۔۔۔۔ پریشانی۔۔۔ ہمت ۔۔۔ امید۔۔۔ سب کچھ تم سے ہی تھا۔۔۔ ان سارے جذبات کو یکجان کروں تو جو عکس میرے سامنے رونما ہوتا ہے ۔۔۔۔ شائد اسے ہی ؛محبت’ کہتے ہیں۔۔۔۔ اور میری یہ محبت صرف تم سے منسوب ہے۔۔۔۔ میں زندگی کے سفر میں تمہارے ساتھ چلنا چاہتی ہوں۔۔۔ اڑنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ ۔۔۔ بس تمہارا ساتھ چاہیے۔۔۔۔ کیا ان راہوں میں تم میرے ‘ہم راہ’ ہوگے۔۔۔۔؟”
ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ بس اتنا ہی بہت ہے۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں نے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے مدیحہ کو فون کیا اور اسے دھمکی لگائی کے خبردار آج اس نے اسپتال کا رخ بھی کیا تو۔۔۔
"بی بی۔۔۔۔ ! ہوا کیا ہے۔۔۔؟” وہ ہکا بکا سی بولی
"ہوا نہیں۔۔۔۔ ہونا ہے۔۔۔۔۔” میں ہنس پڑی
"کیا۔۔۔۔؟”
"واپس آکے بتاؤں گی۔۔۔۔”
"عجیب ہی پاگل لڑکی ہو۔۔۔۔”
"ہاں ۔۔۔ پاگل تو ہوں۔۔۔۔”
"اللہ پاک تم پہ رحم کریں۔۔۔۔۔”
"آمین۔۔۔۔” میں مسکرا دی
ساجدہ آنٹی کے کہنے پر میں احمر کی گاڑی ساتھ لے گئی ۔۔۔ راستے سے گلاب کے پھولوں کا اچھا سا گلدستہ تیار کرایا ، اس میں نوٹ لکھ کے گاڑی میں ہی رکھ دیا۔۔۔
میں کمرے میں داخل ہوئی تو احمر پہلے سے ہی منتظر تھا۔۔۔۔ مسکراتے ہوئے اس نے میرا استقبال کیا۔۔۔ میں نے اسے مزید انتظار کرنے کا کہا۔۔۔ تاکہ میں جلدی سے اسکے ڈسچارج کی ساری فارمیلیٹیز پوری کرلوں۔۔۔۔
ریسپشن پہ میں نے ڈسچارج فارم فل کیا اور سارے واجبات ادا کردیے۔۔۔ نرس نے مجھے بتایا کہ کچھ ہی دیر میں سینئر ڈاکٹر نے احمر کا چیک اپ کرنا ہے اسکے بعد میں اسے یہاں سے لا جا سکتی ہوں۔۔۔۔ میں نےاحمر کو اس بارے میں مطلع کیا۔۔۔۔ اچانک ہی مجھے ڈاکٹر حمزہ کا خیال آیا۔۔۔ ان سے ملنا بھی ضروری تھا۔۔۔۔ میں احمر کو چیک اپ کے لیے وہاں چھوڑ کے خود ڈاکٹرز کیبن میں چلی گئی۔ وہاں ڈاکٹر حمزہ موجود نہیں تھے۔ میں نے انھیں فون کیا تو انھوں نے مجھے کوریڈور میں رکنے کا کہا۔۔۔۔ کچھ ہی منٹ بعد وہ ہاتھ میں کوفی کے دو مگ لیے میرے سامنے کھڑے تھے۔۔۔
"شکر ہے ۔۔۔ آپ کے بھی دیدار ہوئے۔۔۔۔”
میں مسکرانے لگی۔۔۔ ڈاکٹر حمزہ نے مجھے ڈاکٹرز کیبن میں آنے کی دعوت دی لیکن میں نے ضد کی کہ یہیں پہ ٹھیک ہے اس لیے ہم دونوں کوریڈور میں چہل قدمی کرنے لگے۔۔۔
میں نے انھیں احمر کے ڈسچارج ہونے کی اطلاع دی۔ وہ اداس ہوگئے
"تو اسکا مطلب اب آپ سے ملاقات نہیں ہو پائے گی۔۔۔۔” وہ بولے
"ظاہر ہے اب تو مشکل ہے۔۔۔ ویسے بھی کل میری واپسی ہے۔۔” میں نے انھیں بتایا
"واپسی۔۔۔۔ ؟” کہاں۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگے
"پنڈی۔۔۔۔ گھر واپس جانا ہے۔۔۔” میں بولی
"اوہ۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ تو ہم اپنی درخواست رد سمجھیں۔۔۔۔؟” وہ کوفی کا سپ لیتے ہوئے بولے
"کیسی درخواست۔۔۔۔ ؟” میں نے سوال کیا
” ساتھ لنچ کرنے کی درخواست۔۔۔۔۔” انھوں نے یاد دلایا
میں بالکل بھول چکی تھی۔۔۔ یاد آیا تو میں شرمندہ سی ہوئی
"ارے۔۔۔ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ ڈاکٹر لوگوں کے پاس ہر چیز کا علاج ہوتا ہے۔۔۔۔” وہ مسکرائے
میں نے سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا
"بھئی۔۔۔۔ لنچ ہی کرنا ہے نہ۔۔۔۔ وہ چاہے لاہور ہو۔۔۔ یا پھر پنڈی۔۔۔۔”
"میں سمجھی نہیں۔۔۔۔۔ ؟” میں سوچتے ہوئے بولی
"ایک تو آپ سمجھتی کچھ نہیں ہیں۔۔۔۔۔ محترمہ۔۔۔ میں بھی پنڈی کا رہائیشی ہوں۔۔۔۔ آپ حامی بھریں۔۔ میں کچھ ہی دن میں پنڈی کا چکر لگاؤں گا پھر مل کے کہیں لنچ کرتے ہیں۔۔۔۔”
یہ انکشاف پہلی بار ہوا تھا کہ وہ بھی پنڈی سے ہیں میں نے انھیں ہاں یا نہ میں کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
کوریڈور کا ایک چکر مکمل ہونے کے بعد ہم دوسرے چکر کے لیے مڑے تو میرا پاؤں تھوڑا سلپ ہوا۔۔۔ اورکوفی کا مگ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔۔ کوفی کے چھنیٹے ڈاکٹر حمزہ کے کوٹ پہ بھی جا گرے۔۔۔۔ ڈاکٹر حمزہ کے سفید کوٹ پہ کوفی کے نشان پڑ گئے۔۔۔۔ ہمارے پاس صاف کرنے کے لیے ٹشوز یا رومال نہیں تھا۔۔۔ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے میں نے اپنا دوپٹہ آگے کیا۔۔۔۔ انھوں نے مجھے منع کیا لیکن احساس ندامت کو چھپاتے ہوئے میں خود انکا کوٹ صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔
"مس ارسہ۔۔ ریلیکس کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ ” وہ ہنستے ہوئے بولے
میں نے انکی ایک نہ سنی۔۔۔۔ ان کے کوٹ اچھی طرح صاف کرنے کے بعد مجھے کچھ تسلی ہوئی۔۔۔ ہم دونوں نے ایک قہقہہ لگایا۔۔۔
"چلیں۔۔۔۔ ! اب آپ سے پنڈی میں ملاقات ہوگی۔۔۔۔ ” یہ کہہ کہ وہ اپنے کیبن کی طرف چلے گئے ۔۔ میں مسکراتے ہوئے پیچھے مڑی۔۔۔۔
میرے عین سامنے احمر کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کی آگ برساتی آنکھیں مجھ پہلی ملاقات کی یاد دلانے لگیں۔۔۔
"احمر۔۔۔۔۔ !” میرے منہ سے نکلا
وہ مجھ سے کوئی بات کیے بنا ہی وہاں سے جانے لگا۔۔۔ میں بھی تیز قدم اٹھاتے ہوئے اسکی پیچھے پیچھے چلنے لگی
"سنو۔۔۔۔! میری بات سنو۔۔۔۔۔ احمر۔۔۔۔ ” اسکا بدلا ہوا برتاؤ دیکھ کے مجھے احساس ہوا کہ اسے یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
وہ آگے بڑھتا رہا۔۔۔ میں اسے پکارتی رہی۔۔۔۔
ہم کار پارکنگ میں پہنچے تو وہ چپ چاپ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔ میں بھی اگلی سیٹ پہ اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
"تمہیں ۔۔۔ غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ ”
"کیسی غلط فہمی۔۔۔۔؟” وہ پہلی بار بولا
"تم نے جو بھی دیکھا۔۔۔۔ وہ بس۔۔۔۔ ”
"میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ عورت کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی۔۔۔ حالات چاہے جو بھی ہوں وہ اپنے لیے ایک نہ ایک راستہ بچا کے رکھتی ہے۔۔۔۔” اس کے منہ سے آگ نکل رہی تھی
"احمر۔۔۔ ! میری پوری بات سن لو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ ” میں گڑگڑائی
وہ تیز رفتار میں گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔۔۔۔
"خدا کے لیے ایک بار۔۔۔۔ ایک بار سن تو لو۔۔۔۔۔”
"احمر۔۔۔۔۔ !میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ ”
"میری زندگی میں تمہارے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ !” میری آنکھیں بھر آئیں۔۔۔۔
میرے آنسوبھی اس پہ بے اثر تھے۔۔۔۔
"میں تم سے پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔ یہ کہنے کے لیے میں نے اتنے دن انتظار کیا۔۔۔۔۔ ایسے مت کرو میرے ساتھ” میں نے اسکے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔
"میں جانتی ہوں تم بھی مجھ سے پیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔” میں کہتے کہتے رکی
اس نے ایکدم سے بریک لگائی
"لیوو ۔۔۔۔ مائی ۔۔۔ کار۔۔۔” وہ دھاڑا
مجھے میرے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔
"ارسہ احمد۔۔۔۔ میری گاڑی سے اترو۔۔۔۔۔۔ اور پھر کبھی اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔” اس نے پہلی بار میری طرف دیکھا
"احمر۔۔۔۔۔ !” میرے لب لرزنے لگے
"اس سے پہلے کہ میں اپنے ساتھ کچھ کر بیٹھوں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ اتر جاؤ۔۔۔۔ ” وہ ٹس سے مس نہ ہوا
میں چپ چاپ گاڑی سے اتر گئی۔۔۔
"اینڈ پلیز۔۔۔۔۔ اپنے یہ گلاب کے پھول کسی صحیح جگہ استعمال کرنا۔۔۔۔ مجھے انکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔” اس نے پھولوں کا گلدستہ باہر اچھال دیا۔۔۔
میں اس احمر کو نہیں جانتی۔۔۔۔ یہ وہ احمر ہے ہی نہیں جسے میں پیار کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
گلاب کے پھول سڑک پہ بکھر گئے۔۔۔ اور وہ بے دردی سے میرے ارمانوں کو اپنے پاؤں تلے روندتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ میں پل بھر میں آسمان سے زمین پہ آگری۔۔۔
جسے میں "ہم راہ” سمجھی تھی وہ تو بیچ راہوں میں چھوڑ کے جا چکا تھا

بقیہ اگلے حصے میں۔۔۔۔
___________________

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/