محبت صرف تم سے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 08 "امی” ک…

قسط نمبر 08
"امی” کچن میں سبزی کاٹتی ہوئی زینب نے اپنا سویٹر بنتی ہوئی نجمہ بیگم کو آواز دی ..”ہاں بیٹا کہو”…”امی وہ شہریار کسی ضروری کام سے کوئٹہ جا رہا ہے اس نے مجھے بھی کہا کہ اگر میں چاہوں تو میں اسکے ساتھ وہاں چل سکتی ہوں اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں شہریار کے ساتھ چلی جاؤں؟”….زینب کی بات سن کر نجمہ بیگم مسکرائیں "ارے بیٹا اس میں اجازت والی کونسی بات ہے تم دونوں کی نئی نئی شادی ہوئی تم جہاں جانا چاہو چلی جاؤ میری طرف سے اجازت ہے” شکریہ امی” .”خوش رہو "نجمہ بیگم نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سبزی کاٹنے لگی..
***************************************************
"بھائی میں نے آپکی اور بھابھی کی کوئٹہ کی کل رات کی فلائٹ کی دو ٹکٹس بک کروا دی ہیں”…شہریار کے موبائل میں انس کا میسج موصول ہوا..” تھنکس انس”شہریار نے مسکرا کر سینٹ کے آپشن پے ٹچ کیا..”ویسے بھائی اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں”…دوسری طرف سے فورا ہی رپلائے آیا..”شوق سے کہو”….”میری بھی ایک ٹکٹ بک کروا دیں "….” کہاں کی کوئٹہ کی”شہریار نے یہ ٹیکسٹ منہ بنا کر لکھا تھا .”نہیں کوئٹہ کی نہیں وہاں تو آپ اور بھابھی جائیں گی میری تو آپ اسلام آباد کی ٹکٹ کروا دیں "….” اسلام آباد کیوں؟”…”بھائی دوست گھومنے جا رہے ہیں تو انکے ساتھ جاؤں گا”…”ہر گز نہیں پہلے تم امی اور ابو سے اجازت لو”….”میں نے ان سے اجازت لے لی”….”اچھا میں ابھی انہیں کال کر کے معلوم کرتا ہوں کہ اجازت لی یا نہیں "…” ارے بھائی بھائی بھائی میں اجازت لے لوں گا نہ امی ابو سے”شہریار مسکرایا..”مطلب پہلے تم جھوٹ بول رہے تھے”…”ہاں”…”لیکن کیوں؟”…”کیونکے مجھے لگتا ہے کہ امی اور ابو دونوں ہی مجھے جانے کی اجازت نہیں دیں گے اور جب تک وہ اجازت نہیں دیں گے تب تک آپ میرا اسلام آباد کا ٹکٹ بھی نہیں کروائیں گے”…”آپکو بلکل ٹھیک لگتا ہے میرے پیارے بھائی میں امی ابو کی اجازت کے بغیر آپکے لئے کچھ نہیں کرنے والا ہاں بس ایک کام میں کر سکتا ہوں کہ ان دونوں سے سفارش کر دوں کہ وہ تمھیں جانے دیں کہو منظور ہے میری یہ سفارش والی آفر؟”….”منظور ہے منظور ہے تھنکس بھائی”انس نے یہ میسج بہت محبت سے لکھا تھا اسکا اندازہ شہریار نے لگایا تھا کیونکے جب بھی انس کا کام پورا ہو جاتا تو وہ دوسرے بندے سے بے پناہ محبت جتاتا تھا.”ویلکم ویلکم اب مجھے کام کر لینے دو بعد میں بات ہوگی خدا حافظ”یہ میسج بھیج کر شہریار نے موبائل لاک کر کے رکھ دیا…
***************************************************
"سامان پیک کر لیا تم نے؟”…شہریار نے زینب سے پوچھا جو خاموشی سے لان میں ٹہل رہی تھی .” ہاں کر لیا یہ بتاؤ جانا کب ہے؟”…”کل رات کو نکلنا ہے پھر پانچ دن بعد واپسی”…”ٹھیک ہے "زینب نے مختصر کہا اور خاموشی سے لان میں ٹہلنے لگی.
****************************************************
کوئٹہ کے اس خوبصورت ہوٹل کے ہال میں شہریار اور زینب ایک میز کے گرد لگی کرسیوں پے بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے میز پے دو گرما گرم چائے کے کپ بھاپ اڑا رہے تھے اور شہریار بول رہا تھا اور زینب سن رہی تھی.
"تم نے ابھی تک یونیورسٹی جوائن نہیں کی”….” ہاں یہاں سے جانے کے بعد کروں گی”…”جلدی سے پڑھائی سٹارٹ کرو کچھ مہینوں بعد تمہارے پیپرز بھی ہیں میں نہیں چاہتا کہ تمہارا ایک بھی پیپر خراب جائے "….” نہیں جائے گا خراب "….” ہاں یہ تو ہے مجھے پورا بھروسہ ہے تم پے "شہریار نے مسکرا کر کہا .” اچھا اتنا بھروسہ ہے”….”ہاں "…” مجھے بھی تم پے بہت بھروسہ ہے”….”مجھ پے اتنا بھروسہ مت کرو زینب میں ایک بہت گھٹیا انسان ہوں”…”کیا مطلب؟”زینب نے الجھتے ہوئے کہا..”میں ایک گھٹیا انسان ہوں زینب مجھ پے اتنا بھروسہ مت کرو "شہریار نے زور دیتے ہوئے کہا. ” میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو تم اور گھٹیا انسان میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتی "…” تمھیں ماننا ہی ہوگا زینب یہی سچائی ہے” ..”نہیں مانتی نہیں مانتی نہیں مانتی”.زینب نے فیصلہ کن انداز میں کہا .”جب سچائی تم پے کھلے گی نہ تو تم مجھسے نفرت کرنے لگو گی”…”مجھے نہیں لگتا کہ تمہاری ایسی کوئی سچائی ہوگی کہ جسکی بنا پر تم سے نفرت ہو "….” وہ تو دیکھتے ہیں خیر ابھی مجھے ایک جگہ کام سے جانا ہے آؤ میں تمھیں کمرے تک چھوڑ دیتا ہوں پھر چلا جاتا ہوں”شہریار نے کہا تو زینب نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی چائے ختم کرنے کے بعد شہریار کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی…..
***************************************************
اکرم نور کوئٹہ کے سستے سے ہوٹل میں اپنے کمرے میں بند بیٹھا تھا وہ ایک گورنمنٹ اسکول کا پرنسپل تھا اسکے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن پھر بھی لالچ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے سو اس نے بھی لالچ کیا اور شہریار ناصر کے اسکول پے خرچ کرنے کیلئے دئے گئے تین لاکھ لے کر کراچی سے بھاگ گیا اس نے سوچا کہ کچھ دن بعد جب یہ معاملہ پرانا ہو جائے گا تو وہ واپس کراچی چلا جائے گا اکرم نور بیڈ پے آنکھیں بند کئے لیٹا تھا کہ کمرے کے دروازے پے دستک ہوئی .”کون ہے؟”..اکرم نور یہ کہتا ہوا اٹھا …”سر آپکو جوس دینا ہے میں ہوٹل کا ایک بیرا ہوں”….”لیکن میں نے تو کوئی جوس نہیں منگوایا”…”جی سر یہ جوس آپ نے نہیں منگوایا یہ ہوٹل کی طرف سے ہی ہے روز ایک گلاس جوس ہر کسٹمر کو ملتا ہے”…”اوہ اچھا ٹھیک ہے میں دروازہ کھولتا ہوں”اکرم نور نے یہ کہہ کر دروازہ کھول دیا باہر ایک بیرا ہاتھ میں جوس لئے کھڑا تھا اسکے چہرے پے داڑھی کافی بڑھی ہوئی تھی اور اس کی آنکھوں میں ایک تیز چمک تھی اس نے جوس کا گلاس اکرم نور کو دیا اور بولا”سر آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اکیلے میں”..”کیا بات کرنی ہے؟”…”سر اندر تو بلائیں”…”ٹھیک ہے آؤ "اکرم نور نے کہا تو وہ اندر داخل ہو گیا..” اب کہو کیا بات ہے”اکرم نور نے یہ کہا اور ساتھ ہی جوس کا آدھا گلاس حلق میں اتار دیا .”سر یہ دیکھیں آپکے لئے ایک تحفہ بھیجا ہے کسی نے”یہ کہ کر اس بیرے نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں سے ایک پستول نکال کر اکرم نور پے تان دیا .”مجھے شہریار ناصر کہتے ہیں تمھیں کیا لگا تھا کہ تم میرے پیسے لے کر کراچی سے یہاں آ جاؤ گے تو میں تم تک نہیں پہنچ سکوں گا تم نے مجھے دھوکہ دیا تھا مجھے تو تم تک پہنچنا ہی تھا میں سب برداشت کر لیتا ہوں لیکن دھوکہ ہرگز نہیں میری نظر میں دھوکے کی سزا صرف اور صرف موت ہے "….”نہیں ایسا مت کرو پلیز مجھے مت مارو میں تمہارے پیسے تمھیں واپس دے دوں گا دیکھو مجھے مارو مت میرے بعد میرے گھر والوں کا کیا ہوگا…” ہاہاہاہا تم نے کیا مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے مجھے پتا ہے تمہارے گھر میں کوئی نہیں ہے تم اکیلے رہتے ہو مجھے پتا ہے کہ پچھلے سال ہائی وے پے ایک بس حادثے میں تمہارے گھر والوں کی موت ہو گئی تھی اور اب اب تم بلکل اکیلے ہو اور تمھیں مارتے ہوئے مجھے ذرا بھی دکھ نہیں ہوگا..”….”پلیز مجھے مت مارو”…”اب کچھ نہیں ہو سکتا تم نے جو جوس پیا ہے میں نے اس میں بہت خطرناک زہر ملایا ہوا تھا اب تین منٹ بعد تمہاری موت ہو جائے گی”….”نہیں پلیز کچھ کرو”اکرم نور نے کہا وہ بے پناہ خوفزدہ ہو رہا تھا کیونکے اس نے جوس کا پورا گلاس پی لیا تھا وہ تڑپتا رہا لیکن کچھ کر نہیں سکا کیونکے شہریار اس پے پستول تانے بیٹھا تھا چند منٹ بعد ہی اسکی موت ہو گئی شہریار نے وہ جوس کا گلاس اسکے کمرے کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا یہ کھڑکی ایک سنسان سڑک پے کھلتی تھی نیچے کوئی نہیں تھا شہریار وہ گلاس نیچے پھینکنے کے بعد یہ کہتا ہوا کمرے سے نکلا "شہریار ناصر تو کبھی اس ہوٹل میں آیا ہی نہیں اکرم نور کے کمرے میں تو ہوٹل کا ایک ویٹر آیا تھا جسکی داڑھی بہت بڑھی ہوئی تھی اور شہریار تو داڑھی رکھتا ہی نہیں”…
**************************************************
شہریار اپنے ہوٹل کے کمرے میں موجود تھا جبکہ زینب واشروم میں نہا رہی تھی وہ اکرم نور کا قتل بلکل ٹھیک طرح سے کر کے آیا تھا اسے آنچ بھی نہیں آئی تھی نہ کسی کو اس قتل کے بارے میں معلوم تھا اور اسکی نظر میں یہ قتل بلکل غلط نہیں تھا اکرم نے اسے دھوکہ دیا تھا اسے اس دھوکے بازی کی سزا تو ملنی تھی اور شہریار کی نظر میں اسکے لئے موت کے سوا کوئی سزا بہتر نہیں تھی اور شہریار کو اسے مارتے ہوئے ذرا بھی دکھ نہیں ہوا تھا لیکن اب وہ بہت بیچین تھا پتا نہیں کیوں ایک عجیب سی بیچینی اسکے وجود پے طاری تھی وہ دو لوگوں کا قاتل بن چکا تھا پہلا قتل اس نے افنان کا کیا تھا اور دوسرا اکرم نور کا قانون کی نظر میں یہ بہت بڑا جرم تھا لیکن شہریار کی نظر میں کچھ بھی نہیں اسے تو کوئی پچھتاوا بھی نہیں تھا وہ تو بس بے سکونی محسوس کر رہا تھا ایک پل کو اسے خیال آیا کہ وہ زینب کو سب کچھ بتا دے لیکن پھر اس ڈر سے رک گیا کہ زینب کو بہت افسوس ہوگا اسے اس بات کا بھی ڈر تھا کہ اگر زینب کو بعد میں کسی طرح یہ پتا چل گیا تو اسے کتنا افسوس ہو گا کے شہریار نے اسے نہیں بتایا شہریار بری طرح الجھ گیا تھا کہ کیا کرے کیا نہ کرے اتنے میں زینب بھی نہا کر باہر آ گئی.”باہر چلیں”….”کہاں؟”.زینب نے اشتیاق سے پوچھا.”شاپنگ کرنے "….” کہاں چلو گے شاپنگ کرنے کیلئے؟”…”تم بتاؤ تم کہاں جاؤ گی؟”..شہریار نے مسکرا کر زینب سے پوچھا..”میں بتا دیتی ہوں لیکن ایک شرط ہے”..”کیا؟”..”میں صرف شاپنگ نہیں کروں گی بلکہ تمھیں مجھے ایک اور جگہ لے کر جانا ہو گا”…”ٹھیک ہے میں لے جاؤں گا لیکن تم مجھے اس جگہ کا اور شاپنگ کی جگہ کا نام بتاؤ”…”شاپنگ کیلئے ہم بازار چلیں گے اور پھر ہم جائیں گے حنا جھیل "….”حنا جھیل میں نے پہلی بار نام سنا ہے”….” یہ کوئٹہ کی مشھور جھیل ہے تمھیں نہیں پتا میں نے ایک جگہ اسکے بارے میں پڑھا تھا سنا ہے بہت خوبصورت جھیل ہے کوئٹہ کے مشرقی حصّے میں پہاڑوں کے درمیان واقع ہے”…”اچھا دیکھ لیں گے آج کتنی خوبصورت ہے چلو تم جلدی سے تیاری کر لو اور پھر پہلے ہم بازار چلیں گے اور بعد میں تمہاری حنا جھیل”…”ٹھیک ہے میں تیار ہو جاتی ہوں”زینب نے پر مسرت لہجے میں کہا اور جانے کی تیاری کرنے لگی..
***************************************************
کوئٹہ کے مشھور بازار میں زینب اور شہریار ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ادھر سے ادھر گھوم رہے تھے جب انہوں نے شاپنگ کر لی تو وہ بازار کے قریب بنے ایک ریسٹورانٹ میں آ کر بیٹھ گئے کچھ ہی دیر میں بیرا انکے سر پے آ کھڑا ہوا شہریار اور زینب نے اپنا اپنا آرڈر لکھوایا اور بیرا چلا گیا کچھ ہی دیر میں انکا کھانا آ گیا اور انہوں نے کھانا شروع کیا کھانے کے دوران زینب بولی.”تمہاری نظریں بہت زیادہ چل رہی ہیں آجکل”…”یہ تمھیں اچانک میری نظروں کے بارے میں کیا خیال آ گیا”…”آج بازار میں تم کن کن لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے ” زینب نے منہ بنا کر کہا تو شہریار چونکا..”کیا مطلب کن لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا میں” …”کیوں تم نے اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا جو ہمارے ساتھ ہی شاپنگ کر رہی تھی”…”پتا نہیں کسکی بات کر رہی ہو تم میں تو تمہارے علاوہ کسی اور لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا(زینب کے چہرے پے ایک خوشنما مسکراہٹ پھیل گئی)بلکہ پورا چہرہ اٹھا کر دیکھتا ہوں صرف آنکھ اٹھانے سے پوری طرح طرح دیدار نہیں ہو پاتا نہ "…زینب نے غصّے سے اسے دیکھا.” شہریار”…”بولو”…”کچھ نہیں”زینب منہ بنا کر رہ گئی.”ارے بھئی مذاق کر رہا ہوں”…زینب مسکرائی "مجھے پتا ہے”…”پتا ہے تو پھر منہ کیوں بنا رہی تھیں”..” ایسے ہی”…”اچھا خیر جلدی کھا لو پھر تمہاری حنا جھیل بھی جانا ہے”….”ہاں ہاں کھا تو رہی ہوں”زینب نے کہا اور کھانا کھانے لگی شہریار بھی خاموشی سے کھانے لگا کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں اٹھے اور ریسٹورانٹ سے باہر آئے اور جو جیپ انہوں نے وہاں ٹریولنگ کیلئے کرائے پر لے رکھی تھی اس میں بیٹھے اور حنا جھیل کی طرف بڑھے حنا جھیل کوئٹہ کے مشرقی حصّے میں واقع تھی انکا یہ سفر باتیں کرتے کرتے ختم ہوا اور وہ جھیل کے پاس پہنچ گئے زینب فورا جیپ سے اتری اور چاروں طرف کا جائزہ لینے لگی شہریار بھی جیپ سے اتر آیا.”کیا خوبصورت جھیل ہے یار پہاڑوں کے درمیان بنی یہ جھیل واقع خوبصورتی کی ایک بہترین مثال ہے”….”بلکل بہت ہی اچھی ہے”زینب نے بھی اسکی تائید کی..”آؤ کنارے پے بیٹھتے ہیں "شہریار نے کہا اور وہ دونوں جھیل کے کنارے آ بیٹھے زینب نے اپنے موبائل میں ان خوبصورت مناظر کو تصویروں کی شکل میں قید کر لیا اور پھر شہریار سے باتیں کرنے لگی اسکی باتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں وہ شہریار کو کچھ بتا رہی تھی شہریار سے کچھ پوچھ رہی تھی اور شہریار زینب کی ہر ایک بات کا جواب دے رہا تھا .” ویسے تم جس کام کیلئے کوئٹہ آئے تھے وہ کام تو ہو گیا نہ”…”ہاں ہو گیا”شہریار نے اطمینان بخش لہجے میں جواب دیا…”ہوں ویسے کام کیا تھا جو تمھیں اتنی دور آنا پڑا ".شہریار کے چہرے پے پہلی بار گھبراہٹ نمودار ہوئی .” کچھ خاص نہیں بس کوئٹہ کی پولیس کو ایک کریمنل کے متعلق کچھ انفارمیشن دینی تھی وہ کراچی سے کوئٹہ بھاگ آیا ہے تو اس کی فائل یہاں دینی تھی اور یہاں کی پولیس سے کچھ ڈسکس بھی کرنا تھا اس ہی بارے میں خیر اب تو سب کام ہو گئے.”..”چلو اچھا ہے”زینب نے مسکرا کر جواب دیا اور چاروں طرف بنے بڑے بڑے پہاڑوں کو تکنے لگی.(میں کتنا بڑا دھوکہ دے رہا ہوں زینب کو بلکہ صرف زینب کو ہی نہیں اپنے تمام چاہنے والوں کو بھی میں بہت غلط کر رہا ہوں ان سب کے ساتھ یہ لوگ مجھے بے پناہ چاہتے ہیں مجھ پے خود سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں میں انکا بھروسہ توڑ رہا ہوں مجھے انہیں سب کچھ بتا دینا چاہیے بلکہ نہیں اگر ابو کو اس بارے میں کچھ بھی پتا چلا تو وہ مجھے فورا قانون کے حوالے کر دیں گے اور اگر امی کو بتایا تو وہ ابو کو لازمی بتا دیں گی اور انس وہ بھی امی کو لازمی بتائے گا اس طرح تو بات ابو تک پہنچ جائے گی اب آخر میں زینب ہی بچتى ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ زینب کسی کو کچھ نہیں بتائے گی کیا میں زینب کو بتا دوں؟ نہیں میں اسے نہیں بتا رہا اسے کتنا دکھ ہو گا یہ سب جان کر نہیں میں اسے دکھ نہیں دینا چاہتا جب پتا چلنا ہوگا خود ہی پتا چل جائے گا)..شہریار کا ذہن بری طرح سے الجھا ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے کیا نہ کرے وہ گم صم بیٹھا تھا کہ زینب نے اپنا ہاتھ اسکی آنکھوں کے سامنے لا کر چٹکی بجائی "کہاں گم ہو؟”….”نہیں کہیں نہیں”..”…” اچھا کافی پیو گے”…”کہاں ہے؟”…”جیپ میں رکھی ہے میں تھرماس میں لائی تھی ابھی تک گرم ہی ہو گی”…”ٹھیک ہے میں لاتا ہوں”..شہریار کھڑا ہونے لگا لیکن زینب نے اسے روک لیا "ہم صبح سے گھوم رہے ہیں تمہارے پاؤں میں درد ہو گیا ہوگا "….” تمہارے پاؤں میں بھی تو درد ہو رہا ہو گا نہ”…”نہیں میرے درد نہیں ہو رہا میں لے آتی ہوں تم یہیں بیٹھو”…”اچھا ٹھیک ہے”شہریار بولا اور زینب وہاں سے اٹھ کر تھرماس لینے کیلئے جیپ کی طرف قدم اٹھانے لگی.”کتنی کیئرنگ ہے یہ”اسکے جانے کے بعد شہریار بڑبڑایا چند منٹ بعد زینب کافی لے کر آ گئی اور دونوں کافی پینے لگے کافی پینے کے دوران شہریار بولا .”زینب میں تمھیں کچھ بتانا چاہتا ہوں”….”ہاں میں سن رہی ہوں”..”میں ایک برا انسان ہوں” …”مجھے پتا ہے”…”میں بہت گھٹیا انسان ہوں”…”یس آئی نو”زینب اسکی ہر بات مذاق میں اڑا رہی تھی .”میں ایک کرپٹ پولیس افسر ہوں”…”کیا؟”.اس بار زینب چونکى "ہاں میں ایک قاتل بھی ہوں میں نے دو لوگوں کا قتل کیا ہے”…” یہ زیادہ ہو گیا”زینب نے ہنس کر کہا.”میں سچ کہہ رہا ہوں زینب میں موت کی حد تک سنجیدہ ہوں”شہریار نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو زینب نے اسے غور سے دیکھا وہ واقع سنجیدہ تھا موت کی حد تک سنجیدہ "کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟”..” سو فیصد سچ”……….
**********************************************
(جاری ہے)


