منتخب نظمیں
ہم کئی سال تک محبت گوندھتے رہے ہوا میں راستوں پہ…
ہم کئی سال تک محبت گوندھتے رہے
ہوا میں
راستوں پہ
اور سورج سے مستعار لئے گئے برتنوں میں
میری آستیں
اور تمہاری قمیضوں کے دامن رنگ برنگے چھینٹوں سے بھر گئے
محبت
کو کہیں بھی گوندھا جا سکتا ہے
وارڈ روب میں
دیواروں پر
ریک میں
اور فرش پرنیم غنودہ قالین میں تمہاری آواز کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں
کھڑکیاں
گملے
اور دروازہ
ہر آہٹ پر چونک اٹھتے ہین
بستر
تکیہ
اور کرسی
تمہارے خط کا انتظار کر رہے ہیں ۔
احمد فواد
