منتخب غزلیں

احمد فراز پر ترتیب دی گئی اپنی کتاب ” احمد فراز ی…

احمد فراز پر ترتیب دی گئی اپنی کتاب ” احمد فراز یادوں کا ایک سنہرا ورق ” سے اقتباس-

ٹورنٹو میں اردو انٹر نیشنل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں
احمد فراز سے ایک مکالمہ

اشفاق: خواتین و حضرات! احمد فراز صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی ادبی خدمات سے آپ سب واقف ہیں۔ ہم نے سوچا کہ آج کے پروگرام میں ہم ان کا Live Interview کریں تاکہ آپ سب ان کے خیالات سن سکیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہم اور یہاں موجود ہمارے سامعین فراز صاحب کی شخصیت کے بارے میں اور خاص طور سے ان کی شاعری کے بارے میں مزیدجان سکیں۔
سوال: فراز صاحب! ہم نے سوچا کہ انٹرویو کا آغاز آپ کے بچپن سے کیا جائے۔ ویسے تو ہر شخص کی شخصیت میں بچپن کا ماحول اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن ایک شاعر اور مفکر کے لیے وہ کچھ اور بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے مجھے تجسس تھا کہ آپ نے جس ماحول اور جس گھرانے میں پرورش پائی اس کی کس قسم کی یادیں آپ کے ذہن میں محفوظ ہیں؟
جواب: خواتین و حضرات – میرے لیے ٹورنٹو کا شہر بلکہ کینیڈا ایسے ہی ہے جیسے میں اسلام آباد یا لاہور میں ہوں۔ آپ کی محبت اور مہربانی بھی ہمیشہ میسر رہی ہے جو میرے لیے خوشی کی بات ہی نہیں فخر کی بات بھی ہے۔ اس دفعہ ٹورانٹو میرے پروگرام میں شامل نہ تھا لیکن جب اشفاق بھائی نے مدعو کیا اور میرا جی بھی چاہتا تھا کہ آپ لوگوں سے ملوں تو میں نے مان لیا۔ سوچا یہاں کے دوستوں سے ایک دفعہ پھر ملاقات ہو جائے گی کیونکہ ایسے موقع روز روز تو آتے نہیں ہیں ہزاروں میل کا فاصلہ ہے۔ ویسے تو آپ لوگوں سے اس سے پہلے بھی بہت سے موضوعات پر تبادلہ خیال ہو چکا ہے۔ شعر بھی سنا چکا ہوں سوالوں کے جواب بھی دے چکا ہوں مگر میں آج ایک وجہ سے Nervous ہوں۔ میری آج وہی کیفیت ہے جو بچپن میں دسویں جماعت کا امتحان دیتے وقت ہوئی تھی میں ڈرائنگ کا سٹوڈنٹ تھا ان دنوں ایک ڈرائنگ بورڈ اور ایک T ہوتی تھی۔ امتحان میں وہ اپنا اپنا لے جانا پڑتا تھا۔ میریT راستے میں سائیکل کیریر سے کہیں پیچھے گر گئی۔ امتحان کے ہال میں پہنچا تو میرے پاس بورڈ تو تھا T نہیں تھی۔ ایک ساتھ والے طالبعلم سے کہا کہ اپنی T دے دو۔ Invigilator آیا اور پوچھنے لگا کہ تمہاریT کہاں ہے میں نے کہا کہیں راستے میں گر گئی ہے کہنے لگا تم کیسے سپاہی ہو کہ میدان جنگ میں آئے ہو اور اپنی تلوار گھر بھول آئے ہو۔
بہر حال آج یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ جب پاکستان سے چلنے کا وقت آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری بیاض تو لاہور رہ گئی ہے۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ منگوائی جا سکے۔ بہر حال جو کچھ مجھے یاد تھا وہ میں نے نقل کر لیا۔ کل شکاگو میں ایک نشست تھی جہاں میں نے کلام سنایا۔ آج میں کاپی ڈھونڈنے لگا تو پتہ چلا کہ وہ کاپی جس میں میں نے اپنا کلام نقل کیا تھا وہ شکاگو میں رہ گئی ہے۔ اسی لئے میں آج تھوڑا سا نروس(Nervous) ہوں۔
میں نے جس گھر میں پرورش پائی اسکا ماحول ادبی تھا۔میرے والد صاحب فارسی کے شاعر تھے اردو میں بھی طبع آزمائی کرتے تھے۔ وہ ایک بزم سخن کے جو ایک ادبی ادارہ تھا صدر تھے لیکن مجھے نہ شعر و شاعری کا شوق تھا اور نہ دیوان خانے میں جانے کی اجازت تھی جہاں والد صاحب کے دوست وغیرہ آیا کرتے تھے۔ مجھے شاعری کا اس وقت شوق ہوا جب میرے بڑے بھائی نے مصرعے بنانے شروع کیے میں نے بھی دو چار شعر لکھے لیکن یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ یہ ہمارے بس کا کام نہیں۔
گھر کی فضا سے زیادہ جس شخص نے مجھے شاعری کی طرف راغب کیا وہ ہماری کلاس فیلو تھیں۔ کلاس فیلو اس اعتبار سے کہ ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے ورنہ اسکول الگ الگ تھے اور ان کی والدہ اور ہماری والدہ آپس میں دوست تھیں۔ گھروں میں آنا جانا رہتا تھا۔ ایک دن ان کی والدہ نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اکٹھے Home Work کر لیا کرو۔ ایک دن اس لڑکی نے ہم سے پوچھا کہ کیا تمہیں بیت بازی آتی ہے۔ میں نے کہا نہیں وہ کیا ہوتی ہے۔ اس نے کہا ا س طرح شعر ہوتے ہیں اس طرح شعر پڑھتے ہیں۔
اس شوق میں ہم نے شعر پڑھنے شروع کیے اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے وہ تو چلی گئیں جہاں انہوں نے جانا تھا اور آج تک یہ شعر، یہ ڈھول ہمارے گلے میں بندھا ہے اور ہم بجا رہے ہیں۔ کالج پہنچے تو ہم نے Inter Colleges مشاعروں میں حصہ لیا۔ ہمیں یاد ہے پہلا مشاعرہ گجرات میں تھا۔ ہمارا پرنسپل انگریز تھا ہم نے ڈرتے ڈرتے اس سے کہا کہ مشاعرے میں شرکت کرنا چاہتے ہیں پہلے تو اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سمجھایا کہ مشاعرہ کیا ہوتا ہے بتایا کہ They have invited two poets انہوں نے پوچھا where is the other one ہم نے کہا وہ باہر ہے۔ ہم نے ایک دوست کو شرکت کرنے پر راضی کر لیا تھا۔ اسے نیا تخلص دیا اور شعر لکھ کر دیے۔ گجرات پہنچے تو پتہ چلا کہ سارے ملک کے کالج کے لڑکے آئے ہوئے تھے۔ لاہور کی بہت سی ٹیمز تھیں کوئی احسان دانش کا شاگرد تو کوئی سیف الدین سیف کا شاگرد۔ ہم بڑے کمپلکس(COMPLEX) کا شکار ہوئے۔ ڈر ڈر کر ہم نے غزل سنائی۔ نظم میں ہمیں Confidence تھا وہ ہم نے پڑھی۔ ہمیں حیرت ہوئی جب غزل اور نظم دونوں میں ہمیں انعام ملے۔ یہ ہی واقعات تھے جنہوں نے ہمیں اس لائن پر لگا دیا۔ جب میں تھرڈ ائیر میں تھا تو میری پہلی کتاب ” تنہا تنہا“ چھپی۔
سوال: فراز صاحب! کہا جاتا ہے کہ شاعری کار پیغمبراں ہے لیکن اس میں اکتساب ہنر اور ذاتی لگن کا بڑا دخل ہوتا ہے اور ادبی انجمن، شخصیات اور رسائل اہم کردار ادا کرتے ہیں آپ کی زندگی میں کون سے اساتذہ، کتب اور شخصیات تھیں جنہوں نے آپ کی رہنمائی کی؟
جواب: آپ کی بات ٹھیک ہے کہ شاعری کارِ پیغمبراں ہے اور اس میں صلیب اٹھا کر چلنا پڑتا ہے۔ میری تربیت میں کراچی کا وہ سفر اہم تھا جو میں نے سیکنڈ ایئر میں کیا تھا۔ ہم ایک دفعہ فارغ اور رضا ہمدانی رضا کے ہاں بیٹھے تھے کہ زیڈ اے بخاری صاحب جو ریڈیو پاکستان کے ڈائرکٹر جنرل تھے تشریف لائے۔وہاں ظاہر ہے شعر سنائے گئے ہم وہاں جونیر موسٹ(Junior most) تھے ہم سے کہا گیا کہ شعر سناؤ۔ ہم نے ایک غزل سنائی دوسری سنائی انہوں نے شفقت برتی۔ انہوں نے کہا فراز تم جب چاہو ریڈیو کی ملازمت اختیار کر سکتے ہو۔ یہ بہت بڑا Incentive تھا بلکہ Temptation تھی۔اس سے مجھ میں Confidence ہوا کہ ملازمت کسی وقت بھی مل سکتی ہے والد صاحب کسی بات پر ناراض ہوئے اور ہم نے ریڈیو والوں کو خط لکھ دیا ہمیں وہاں سے Appointment letter آ گیا اور ہم جہاز میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئے ہمارے ساتھ ایک مولوی صاحب بیٹھے تھے۔جب جہاز کو جھٹکا لگا اور وہ نیچے گیا تو ان پیر صاحب کی جنہیں بہت سے لوگ چھوڑنے آئے تھے تسبیح کی رفتار جہاز کی رفتار سے تیز تر ہو گئی۔ بہرحال میں وہاں پہنچا اور ریڈیو کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ ان دنوں شاہد احمد دہلوی اور بعد میں چراغ حسن حسرت بھی ریڈیو سے وابستہ تھے۔ میں Script Writer کی حیثیت سے شامل ہوا مجھے بہت محنت کرنی پڑتی تھی میں احساسِ کمتری میں بھی مبتلا تھا وہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مجھے وہاں ماں بہت یاد آتی تھی چنانچہ میں پانچ مہینوں کے بعد واپس آ گیا اور پیشاور کے ریڈیو اسٹیشن ٹرانسفر کر دیا گیا۔ میں سکرپٹ رائٹر کے طور پر کام بھی کرتا تھا اور کالج بھی جاتا تھا پہلے ہم نے بی اے کیا پھر ایم اے۔ پھر فارسی میں ایم اے کیا
سوال: آپ کی اپنی زندگی میں بہت سی ادبی اور Professional Involvements رہیں۔آپ نے معلمی بھی کی۔پاکستان آرٹس کونسل اور PAKISTAN Academy of Letters کے ساتھ بھی رہے اس سفر میں کونسی Involvement آپ کے دل کے سب سے زیادہ قریب رہی؟
جواب: ریڈیو سے میری ملازمت کا آغاز ہوا لیکن میری خواہش تھی کی میں پڑھاؤں اس سے ایک تو پڑھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے یہ کہ آپ پڑھاتے رہیں تو علم کو تازہ رکھنے کے لیے آپ چار کتابیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے جیسے ایک پروفیسر کہا کرتے تھے کہ پہلے سال محنت کرو باقی معلمی میں حرام خوری ہی حرام خوری ہے لیکن ہم نے وہ بات نہیں مانی۔ جب میں نے ایم اے کر لیا تو یونیورسٹی نے خود ہی مجھے جاب (Job) آفر (Offer) کی۔ اس معاملے میں میں بہت خوش قسمت رہا ہوں Jobs کہ ہمیشہ مجھے Offer آئی۔Apply کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ریڈیو کی ملازمت تھی تب مجھے Offer آئی ایم اے کر لیا تو یونیورسٹی سے OFFER آئی۔ نیشنل سنٹر کے ڈائیرکٹر ہوئے تو اس کے لیے کوئی خاص انٹرویو نہیں ہوا۔ Academy of Letters بنی تو مجھے Recommend کیا گیا۔ باہر آئے تو وہ بھی انہوں نے RECOMMEND کیا۔اپنی خوشی سے کوئی کام نہیں کیا ویسے معلمی مجھے ہمیشہ پسند رہی لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے مجھے Teaching سے بددل کر دیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اسے چھوڑ دوں گا۔
ہمارے ایک سینیر پروفیسر ہوا کرتے تھے جو بعد میں کالج کے پرنسپل بن گئے تھے۔ وہ بہت نفیس اور Dedicated آدمی تھے ان کی ریٹائرمنٹ کو چھ مہینے رہتے تھے کہ ایسی Politics ہوئی کہ لڑکوں کے ایک گروہ نے انہیں گالیاں دیں۔ میں نے سوچا کہ اس Proffession میں عزت ہی تو تھی نہ اچھی تنخواہ ہوتی تھی نہ .Fringe Benefitsہوتے تھے۔ میں نے سوچا کہ اگر ایسے پروفیسر کا یہ انجام ہو سکتا ہے تو انشاجی اٹھو اب کوچ کرو – چنانچہ جب موقع ملا تومیں کالج چھوڑ کر آرٹس کونسل کا ڈائیرکٹر بن گیا۔ ہر Job میں ادب سے کسی نہ کسی حوالے سے رشتہ رہا۔
سوال: فراز صاحب! ابھی آپ نے کہا ہے کہ جس ماحول میں آپ نے پرورش پائی اس میں پہلے آپ کے والد صاحب تھے جو فارسی کے ایک اچھے استاد اور شاعر تھے پھر آپ نے بخاری صاحب کا ذکر کیا وہ بھی فارسی اور مشرقی علوم کے ماہر تھے وہ کیا حالات تھے کہ آپ نے فارسی کی بجائے اردو ادب کی طرف توجہ دی اور فارسی میں آپ کا Contribution سامنے نہیں آیا جب کہ آپ خود فارسی کے عالم آدمی ہیں
جواب: فارسی کا عالم تو نہیں کہہ سکتا۔ والد صاحب کی لائبریری میں جو ذخیرہ تھا اس میں سے دو چار کتابوں سے فیضیاب ہوا، میں نے فارسی میں کچھ شعر ویر بھی کہے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جس بات سے بیت بازی شروع ہوئی تھی وہ اردو تھی۔ چاہے اسے مشق کہیں چاہے اسے Romanticism کہیں وہ میری پہلی محبت تھی وہ میری پہلی شکست تھی۔ پھر توپیمانِ وفا سو مرتبہ میں نے کہا۔ باقی باتیں تو خوشخطی کے لیے تھیں۔ کتابیں لکھنا علیحدہ بات ہے لیکن جو عشق تھا وہ اردو سے تھا اور وہ عمر بھر جاری رہا۔
سو ال: اب کچھ باتیں شاعری کے حوالے سے ہو جائیں، میں جب آپ کے کلام کا مطالعہ کرتا ہوں تو جہاں ایک طرف مجھے رومانوی اور سیاسی شاعری نظر آتی ہے وہیں مجھے سلام اور نعت بھی نظر آتے ہیں آپ کو نعت اور سلام کہنے کی تحریک کیسے ہوئی؟
جواب: بات یہ ہے کہ موضوع کوئی بھی ہو شاعری کا معیار برقرار رہنا چاہئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ہر موضوع سے انصاف کیا ہے جہاں تک نعت اور سلام کا تعلق ہے وہ مختلف ضرور ہیں لیکن ان سب میں جذبہ ایک ہی ہے اور وہ جذبہ انسان دوستی کا ہے۔ اگر آپ میری پہلی کتاب کی پہلی نظم ”شاعر“ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ صرف نظم ہی نہیں میرا Manifesto بھی تھا انسان دوستی کا اور سماجی ناہمواریوں کے خلاف جد و جہد۔ میں غیر مذہبی یا Less Religious یا Non Religious ہوتے ہوئے بھی عظیم شخصیتوں کو مانتا ہوں۔ رسول کو اور حسین کو بڑا انسان اور راہبر سمجھتا ہوں۔ میں نے رسول کے لیے نعت لکھی تو کیا ہوا لوگ تو وزیر اعظم اور صدروں کے لیے نعتیں لکھتے ہیں میں نے جو بھی لکھا دل سے لکھا جب تک کوئی چیز محسوس کی نہیں لکھی۔
مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے
مرے ضمیرنے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے
میں نے ان کی شخصیت کے پیغام کو اپنے عہد کے حالات میں شامل کر کے وہ چیز تخلیق کی جہاں ان کی عظمت کا اعتراف بھی ہے وہیں اپنے عہد کے مظالم کا ذکر بھی۔
سوال : آپ نے ابھی جو مذہب کے حوالے سے سوال کا جواب دیا ہے اس میں یوں لگتا تھا جیسے آپ مذہب کے Progressive نقطہ نظر کی ترجمانی کر رہے ہوں۔ مجھے جوش ملیح آبادی کا شعر یاد آگیا
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی

۱۹۳۵ کے زمانے میں ترقی پسند تحریک پر غیر مذہبی ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا۔ آپ ترقی پسند تحریک اور اسکے اکابرین سے کسی حد تک متاثر ہوئے؟
جواب: بات یہ ہے کہ محبت اپنا اپنا تجربہ ہے اس میں فرہاد و مجنوں معتبر نہیں۔ ہمارے ہاں ترقی پسند تحریک اپنا لبادہ لے کر ائی فیض صاحب کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے اقبال کو بڑا شاعر سمجھا انہوں نے کہا کہ انیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر غالب تھا اور بیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر اقبال ہے۔ اقبال کی ساری Philosphy اور Diction مذہبی تھی ترقی پسند تحریک نے اقبال کے خلاف جو مضامین پڑھے تو فیض صاحب نے ان کا جواب دیا۔ ہم نے بھی پارٹی لائن سےDetatch ہوکر کچھ فیصلے کیے۔
منٹو کو انہوں نے ترقی پسند نہیں سمجھا لیکن ہم نے اسے قبول کیا وہ جرأت مند آدمی تھا اسکا اپنا Contribution تھا۔پارٹی کا مذہب کو رد کر دینا بڑی غلطی تھی۔ مذہب نے اپنے زمانے میں بڑا رول ادا کیا ہے۔ مذہبی تحریکیں بنیادی طور پر Reformist تحریکیں تھیں۔ جب پیغمبری بند ہو گئی تو لوگوں نے اور نام رکھے۔ نئے لوگ آئے انہوں نے کتابیں لکھیں۔
اس عہد میں ہیں اہل کتاب اور طرح کے
انہوں نے قوموں کو Lead کیا ترقی کی منزل تک پہنچایا ہم Fundamentalism فاشزم اور Militant رویوں کے پہلے بھی خلاف تھے اور آج بھی ہیں۔
سو ال: فراز صاحب! آپ کی بین الاقوامی ادب پر بھی نظر ہے۔ پچھلے دنوں میں آپ کی جنوبی افریقہ کے شاعروں کی نظموں کا ترجمہ پڑھ رہا تھا۔ آپ کے خیال میں عالمی ادب میں اردو ادب کا کیا مقام ہے؟
جواب: پہلی بات تو یہ کہ کوئی کتنا بھی پڑھ لے کوئی دعوی نہیں کر سکتا عالمی ادب تو کیا اپنے ادب کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اپنی زبان کی بات اور ہوتی ہے جس میں آپ لکھتے ہیں سوچتے ہیں دوسری زبان کے بعض Images بہت اچھے لگتے ہیں۔ اردو کے کئی شاعر اردو کو چھوڑ کر فارسی میں شاعری کرنے لگے۔ راشد کی شاعری دیکھیں فارسی سے بھری پڑی ہے شاید اسی لیے وہ اتنے Popular بھی نہیں ہوئے۔ اردو زبان کی اتنی عمر نہیں ہے لیکن اسکی خوش قسمتی ہے کہ اسے شروع سے ہی میر، سودا اور غالب جیسے شاعر مل گئے۔ اردو کے بہت سے ادیب نثر فارسی میں لکھتے تھے حتیٰ کہ اپنے دیوان کا پیش لفظ تک فارسی میں لکھتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اردو نثر میں ابھی اتنی جان نہیں ہے۔ اردو تنقید کا معیار تو ابھی تک اونچا نہیں ہو سکا۔ یہی دیکھئے، انگریزی ادب کے تنقیدی ڈھانچے کا چربہ نظر آتا ہے، فیض اور فراق نے کچھ اچھے مضامین لکھے ہیں لیکن مجموعی طور پر معیار بلند نہیں ہے۔ فکشن کا گراف البتہ بہت اوپر گیا ہے۔
سوال: آپ نے شاعر کی قبولیتِ عام کی بات اٹھائی ہے۔ راشد کے حوالے سے یا ان شاعروں کے حوالے سے جنکا Persianized Diction ہے دوسری طرف تنقید کی بات کی اسکا معیار بلند نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں نقادوں کا ایک سکول ہے جس نے آپ کو Proper attention نہیں دی آپ پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ احمد فراز صرف ایک مقبول شاعر ہیں آپ کا اپنا بھی ایک مصرعہ ہے- مجاوران ادب سے سند نہیں مانگی – تو آپ کا مقبول شاعری اور اسکے بارے میں نقادوں کی رائے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
فراز: میں نے جو پہلی بات کی تھی تو مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میں نے No Ball پھینکا ہے اور احساس تھا کہ چھکا وکا لگے گا۔ آپ کے سوال میں دو سوال ہیں ایک یہ کہ کیا مقبول شاعری بڑی شاعری ہوتی ہے یا نہیں۔ میں نے نہ تو کبھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ میری شاعری مقبولیتِ عام حاصل کر چکی ہے نہ مجھے اسکا دعویٰ ہے کہ کل میرا لکھا ہوا حرف رہتا ہے یا نہیں رہتا۔ میرے لیے یہ بڑے سکون کی بات ہے کہ جب سے میں لکھ رہا ہوں لوگوں نے مجھے بہت محبت دی ہے میں ان کے لیے لکھتا ہوں اپنے لیے لکھتا ہوں نقادوں کے چھوٹے سے گروپ کے لیے تو لکھتا نہیں۔ جکل یہ عالم ہے کہ جو لوگ شاعر نہ بن سکے وہ نقاد بن گئے۔ میرا تو خیال ہے کہ جو شخص شاعری میں اپنا معیار قائم نہیں رکھ سکا وہ کسی اور کے شاعر کا معیار پرکھنے کا حق نہیں رکھتا اسکی ایک مثال ہمارے ہاں وزیر آغا صاحب ہیں اب ان کی اپنی شاعری کی سطح اتنی چھوٹی ہے کہ ان کو حق بھی نہیں پہنچتا کہ وہ شعر کے بارے میں مستند رائے یا سند نوازی سے کام لیں۔ ہمارے ایک بڑے ذہین شاعر مصطفیٰ زیدی ہوا کرتے تھے انہوں نے اپنی کتاب کے دیباچے میں لکھا تھا کہ مجھے نقادوں نے نظر انداز کیا ہے حتیٰ کہ وزیر آغا نے بھی میرا ذکر نہیں کیا اور میں شاعری چھوڑتا ہوں۔ افسوس اسی بات کا ہے کہ اپنے سے چھوٹے آدمی کی بات پر انہوں نے بڑی شاعری چھوڑنے کا فیصلہ کیا مصطفیٰ زیدی چھوٹے دل کا آدمی تھا زودرنج تھا۔ چھوٹے سے فیصلے میں ہارا تو شاعری چھوڑ دی۔
سوال: فراز صاحب! آپ سے ادب اور معاشرتی پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کی بہت سی چیزوں پر پابندیاں لگیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادیب کی آزادی اظہار کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور معاشرے کو اپنے اقدار کے تحفظ کے لیے پابندیاں لگانے کی حد کہاں شروع ہوتی ہے؟
جواب: معاشرہ کیا ہے لوگوں کے مجموعے کا نام ہی تو ہے۔ ویسے تو غالب ؔ سوداؔ اور میرؔ پر بھی پابندیاں لگائی گئیں لیکن ہمارے ہاں Pakistan کے بعد ایک خاص قسم کا Political System قائم رہا اور آدمیت، مارشل لا اور آمریت، مارشل لاء اور فوجی حکومت کا سلسلہ چلتا رہا جس نے ادیبوں پر پابندیاں لگائیں۔ ریڈیو اور تی وی پر ان کا آنا بند کیا گیا ان کی روزی کا سلسلہ بند کیا گیا۔ جب زبان پر پہرے لگتے ہیں تو ان کا ردِ عمل ظاہر ہوتا ہے وہ پانی کی طرح ہے ایک طرف سے روکیں گے تو دوسری طرف سے ابھرے گا آ سکا بہاؤ رک نہیں سکتا روکنے سے اسکی رفتار اور تیز ہوجائے گی۔ اسی لیے ہم جیسے لکھنے والوں کے انداز میں Loudness آئی۔ جب آپ کی آواز کوئی نہیں سنتا یا گلا دباتا ہے تو آپ شدّت سے چیخنا چاہتے ہیں اسی طرح کی تحریریں آپ کو ہر دور میں نظر آئیں گی۔ سنسر شپ میں جب الفاظ دبائے جاتے ہیں تو بازو اٹھ جاتے ہیں جو ایک خطرناک بات ہوتی ہے لیکن یہ بات لیڈروں یا ڈکٹیٹروں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم تو دھیمے لہجے کے محبت کرنے والے شعر کہا کرتے تھے۔ اب کے بچھڑے ہیں تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں لکھا کرتے تھے ہمیں کیا ضرورت تھی کہ ”محاصرہ“ اور ”پیشہ ور قاتلو“ جیسی نطمیں لکھتے۔ ہم تو دھیمے لہجے میں انسان دوستی کی بات کرتے تھے لیکن جب حالات بدلے تو جو محسوس کیا وہ لکھا معاشرے کا دباؤ جتنا بڑھتا ہے اتنی ہی آواز میں تبدیلی بھی آتی ہے اور چیخ بھی نکلتی ہے۔
سوال،: آپ نے ابھی آزادی اظہار کے بارے میں گفتگو کی اور ”محاصرہ“ اور ”پیشہ ور قاتلو“ جیسی نظموں کا ذکر کیا۔ ”محاصرہ“ نظم تو آپ کی کتاب میں شامل ہے لیکن ”پیشہ ور قاتلو“ جو جو آپ نے 1977 میں لکھی تھی کسی کتاب میں شامل نہیں۔ اس نظم کی بنیاد پر آپ کو قید تنہائی گزارنی پڑی اسکی کیا وجہ ہے کہ یہ نظم آپ کے کسی مجموعے میں شامل نہیں ہے؟
جواب: اسکی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ اس نظم میں زیادہ جذباتیت تھی۔ اس دور میں آرمی نے جو رول اختیار کیا تھا اس نظم میں میں نے اسکے بارے میں ردِ عمل تحریر کیا تھا۔ اس نظم کی سینکڑوں کاپیاں خود بخود بنتی گئیں قریشی صاحب نے جو میری نظموں کے ترجمے کی کتاب چھاپی ہے اس میں یہ نظم شامل ہے۔
سوال: اس نظم اور قید تنہائی کا کیا تعلق ہے؟
جواب: 1977 میں جب فوج نے عوام پر گولی چلائی تو میرا دل ٹوٹا فوج کا کام اپنے لوگوں پر گولی چلانا نہیں ہے میں نے کہا ہم فوجیوں کو اتنی مراعات اور سہولیتیں فراہم کرتے ہیں تاکہ جب ملک اور قوم پر آزمائش کا وقت آئے تو وہ ہماری حفاظت کریں اور اپنی جان قربان کر دیں یہ نہیں کہ اپنے ہی لوگوں پر گولی چلائیں۔ اس نظم کا خیال ایک غزل کے شعر میں بھی آیا ہے۔
عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا
سوال: آپ کی ملکی سیاسی صورت حال پر گہری نظر رہی ہے بنگلہ دیش بنا تو آپ نے لکھا
پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا
اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے
پاکستان کے سیاسی حالات آپ کے سامنے ہیں اور باقی دنیا کے بھی چاہے وہ روس کے ہوں یا جنوبی افریقہ کے۔ پاکستان کے صوبوں میں جوPolitical Tensions پائی جاتی ہے ان کے مستقبل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: میں کہا کرتا ہوں کہ ملک کی قدر دو طرح کے لوگوں سے پوچھیے۔ ایک اسرائیلیوں سے جن کو ساری عمر دھتکارا گیا وہ بھٹکتے رہے اور اب انہیں جسطرح سے بھی ملک ملا انہیں احساس ہے کہ اس ملک کو کس طرح سنبھالا جائے اور دوسرے فلسطینیوں سے پوچھیے ان سے ملک چھینا گیا تو اب وہ کسطرح دربدر پھر رہے ہیں ہمیں یہ پیارا خوبصورت ملک مل تو گیا لیکن ہماری لیڈرشپ ہمیشہ خان بہادری کی رہی قائد اعظم کے علاوہ جتنے بھی لوگ تھے کوئی نواب تھا، کوئی جاگیردار تھا تو کوئی زمیندار۔ جب پاکستان بنا تو جاگیرداروں اور نوابوں نے اپنی سلطنت یہاں قائم کرلیں چنانچہ ترقی پسند باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں ولی خاں کہتا ہے کہ میرے صوبے کا نام پختونستان رکھ دو یا خیبر رکھ دو تو کہتے ہیں یہ بغاوت کی بات ہے۔ جس علاقے میں سندھی رہتے ہیں اسکا نام سندھ ہے جہاں پنجابی رہتے ہیں اسکا نام پنجاب ہے، جہاں بلوچی رہتے ہیں اسکا نام بلوچستان ہے تو پختونستان نام رکھ لینے سے کیا فرق پڑ جاتا ہے۔اسکی کوئی Identity ہونی چاہیے اسکو اتنا بڑا Issue بنالیا۔ پھر لسانی جھگڑے کھڑے کر دیے۔ مجھے کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ پشتو میں نہ لکھیں اردو میں لکھیں It was my own choice زبان سے محبت تھی سو میں نے اردو میں لکھا۔ابھی جب سندھ میں پٹھان اور مہاجر کا جھگڑا ہو رہا تھا تو میں نے سندھ پر ایک نظم لکھی سیاسی جلسہ تھا سیاسی لیڈر موجود تھے نہ جانے مجھے کیوں کہا گیا کہ آپ صدارت کریں میں نے وہاں ایک نظم پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ اے مرے اردو بولنے والو نمازیو مجھے قتل کر دو کیونکہ میں پٹھان ہوں یا پٹھانو مجھے قتل کردو کہ میں اردو میں لکھتا ہوں میرے لیے تو دونوں صورتوں میں قتل واجب ہے تم کرو یا وہ کریں۔ چھوٹے صوبوں کے جو حقوق تھے ان کو ان سے محروم رکھا گیا۔ تحریکیں جب سطح کے نیچے چلی جاتی ہیں تو نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چیزوں کو سطح پر قبول ہی نہیں کرتے آج بھی ملک میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لوگ اپنے ریڈیو کی بجائے BBC سے خبریں سنتے ہیں اور جب سب لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے تو ہمارا ریڈیو نشر کرتا ہے۔ اگر آج آپ اپنے لوگوں کو Confidence میں نہیں لیں گے تو کل وہ آپ کا ساتھ کیسے دیں گے۔ اگر آپ مشکل لمحوں میں بھی عوام کو Confidence میں لیں گے تو پھر خاندان کا سا ماحول پیدا ہوگا جس میں غم بھی Share ہوں گے خوشیاں بھی مفلسی بھی Share کریں گے دولت بھی۔ اگر میں اکیلا ہوں اور مجھے میرے تین بھائی مارتے رہیں گے تو میں مجبور ہو کر غیروں کو مدد کے لیے پکاروں گا۔ اگر میرا غیروں کو بلانا غیر اخلاقی لگتا ہے تو اب تک مجھ پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں انہیں بھی بد اخلاقی سمجھنا چاہیے۔
سوال: آپ نے پاکستان کے سیاسی حالات کے بارے میں نطمیں لکھیں سندھ کے بارے میں نظم لکھی بنگلہ دیش کے بارے میں نظم لکھی بے آواز گلی کوچوں میں شائع ہوئی تو انتساب ”محصور آوازوں کے نام“ کیا تھا ان محصور آوازوں میں ایک آواز عورتوں کی بھی ہے۔ اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے اور کیا آپ کی شاعری میں اسکا اظہار ہوا ہے؟
جواب: ہندوستان میں ایک کنیز کو جونا گڑھ میں ایک نواب نے اذیتیں دے کر مارا تھا ان دنوں ایک نظم لکھی تھی جس میں ساری عورتوں کے کرب اور محرومی کا ذکر آیا تھا۔ وہ میری پہلی چند نظموں میں سے ایک تھی جنہوں نے مجھے اپنے پڑھنے والوں سے روشناس کرایا تھا۔ جب مقدمہ چل رہا تھا تو میں نے چند لائین لکھیں لیکن نظم نہ لکھ سکا لیکن جب مقدمے کا فیصلہ ہوا تو دوبارہ تحریک ہوئی اور میں نے عدالتوں اور معاشرے کے Attitude پر قلم اتھایا۔ عورت عورت پر ظلم کرتی ہے مختلف class کی وجہ سے سماجی رتبہ کی وجہ سے۔
سوال: فراز صاحب! آپ کی جتنی Contributions ہیں وہ سب شاعری کے حوالے سے ہی عوام کے سامنے آئیں۔ کیا آپ نے کبھی نثر بھی لکھی؟
فراز: اصل میں میں بے صبرا آدمی ہوں۔ ٹک کر بیٹھا نہیں جاتا۔اپنی مرضی سے نہیں بیٹھ سکتا۔ بہت سے رسالوں اور پبلشرز نے Autobiography لکھنے کو کہا ان کے نقطہ نظر سے وہ Hot seller ہوگا لیکن دو وجوہات کی بنا پر انکار کرتا رہا۔ ایک تو یہ کہ مجھ سے بیٹھ کر کام نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ بہت سی باتیں ایسی ہونگی کہ یہاں دھماکے ہوں گے ابھی اتنا حوصلہ نہیں ہے کہThe whole truth لکھ سکیں اور آدھا سچ کہنے سے بات نہیں بنتی۔ مرنے سے مجھے کوئی ڈر نہیں لیکن کسی ملا یا ڈکٹیٹر کے ہاتھ سے مرنا گوارا نہیں دوست یار قتل کر دیں تو اور بات ہے۔
سوال: آپ کی زندگی کا ایک دور Political exile میں گزرا اس دور میں آپ نے وطن اور شخصیت کے حوالے سے کیا محسوس کیا؟
جواب: بھئی سیدھی بات یہ ہے کہ تکلیف دہ چیز ہے۔ مجھے احساس نہیں تھا کہ اتنا دردناک تجربہ ہوگا۔ مہینہ دو مہینہ برس دو برس تو انسان سہ لیتا ہے لیکن ایک عمر اس طرح گزارنا کہ کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا کبھی اس شہر میں کبھی اس شہر میں۔ جب ایک شہر کا ویزا ختم ہو گیا تو کہیں اور چل دیے۔ Political Asylum لی نہیں تھی اور نا ہی لینا چاہتا تھا۔
قید تنہائی اذیت ناک تھی – مرزا محمود ایک طنزیہ شاعر تھے ان کا شعر ہے
مخلص سمجھ کے جس سے کہا حال مفلسی
اس نے سمجھ لیا کہ اسے قرض چاہیے
ایسے مواقع بھی آئے کہ کسی دوسرے کو احساس نہ ہوکہ دربدری کے عالم میں دوسرے پر بوجھ نہ بن جائیں۔ یہ شکر ہے کہ ہر جگہ دوست اتنے اچھے ملے کہ وطن کی بے مہری بھول گئی وہ اتنے مہربان تھے کہ ساری تکلیفیں بھول گئیں۔
سوال: پاکستان واپس جانے کے بعد کوئی خاص واقعہ؟
جواب: جب پاکستان واپس گیا تو ابھی چوتھا پانچواں دن تھا کہ گھنٹی بجی۔ ڈرتے ڈرتے نکلا – کہنے لگے السلام علیکم – میں نے ہاتھ ملایا – کہنے لگے کلمہ پڑھیں – میں بہت عرصے بعد وطن گیا تھا – میں نے کہا ” کیوں بھئی کیا کلمہ بدل گیا ہے“
اشفاق: فراز صاحب! بہت بہت شکریہ کہ آپ نے گفتگو کے لیے وقت نکالا اور اس طرح ہم سب کو آپ کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں اور پس منظر سے واقفیت حاصل ہوئی۔
فراز: آپ سب کا بہت بہت شکریہ

( سوالات : اشفاق حسین – خالد سہیل اور سامعین)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
ا

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/