منتخب غزلیں

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ …

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا
مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا

تاریکئ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو! کیوں؟؟
خود شمع بجھا دی ہے تم نے، خود بخت تمہارا پھوٹ گیا

ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ و ساغر کی جانب
سرمایۂ مے خانہ آ کر کیا کوئی لٹیرا لوٹ گیا—-!!!؟؟

محرومئ قسمت کا عالم

کیا پوچھ رہے ہو تم مجھ سے؟؟
منزل تو ابھی ہے دور بہت اور اک اک ساتھی چھوٹ گیا

اٹھتا ہے دانش دل سے دھواں، آنکھوں سے ٹپکتے ہیں آنسو
کیا آتش- غم دینے لگی لو، کیا دل کا پھپھولا پھوٹ گیا؟؟

(دانش فراہی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/