مختصر کہانیاں

‎ #توہی_عشق_تو_ہی_جنون قسط_____1 #ازصاحبہ_فردوس…


#توہی_عشق_تو_ہی_جنون
قسط_____1
#ازصاحبہ_فردوس

_پ نے کبھی نہیں سوچا تھا زندگی اسے دو بارہ اس شخص سے سامناکروائےگی جس کی وہ کبھی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں تھی جس نے ہر وقت اسے ذلیل کیا تھا جس کا دماغ ہر وقت اس کے خلاف سازیشیں رچنے اور اسے زچ کرنے کے منصوبے بنانے میں لگا رہتا تھا وہ اپنے سلگتے ہوئے دل پر قابو پاتے ہوئے اس کے کیبن میں چلی آئی اسے دیکھ کرارشمیل یزدانی کے چہرے پر تمسخر مسکراہٹ نے جگہ لے لیا تھا اس کی یہ مسکراہٹ عمائمہ حیدر کے دل میں لگی آگ کو مزید بھڑکا گئی تھی ۔
"وہ۔۔وہ میں تم سے عدینہ اور احد کے رشتے کی بات کرنے آئی تھی "۔وہ کھڑے کھڑے ہی ارشمیل یزدانی سے بولی تھی ۔
"اوہ "ارشمیل نے ہنستے ہوئے اوہ پر کافی زور دیتے ہوئے کہا تو اس کی خود اعتمادی ہوا ہوگئی ۔
"دیکھوں میں جانتی ہو ماضی میں ہم دونوں کے بیچ کافی تلخ کلامیا ں ہوئی ہے مگر مجھے امید ہے کے تم ہمارے ماضی کی پر چھائی ہمارے حال پر نہیں پڑھنے دو گے "۔
"بڑی خوش فہمی ہے محترمہ آپ کو میرے بارے میں مگر میں تمہاری یہ خوش فہمی دور کر نا چاہتا ہو کے میں اپنے ماضی کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا اور نا ہی کبھی تمہیں بھولنے دو گا میں اس شادی کے حق میں نہیں ہو تمہاری بہن کی شادی میرے بھائی احد سے کبھی بھی نہیں ہو سکتی
ہے "۔ارشمیل یزدانی ہر بار کی طر ح اس بار بھی زہر خندک لہجے میں بولا تھا اس کی بات سن کر
عمائمہ حیدار صبر کا دامن کھو بیٹھی ۔
"تمہیں کیا لگتا ہے میں نے اپنے ماضی کو بھولا دیا ہے میں کیسے اپنے تاریک ماضی کو بھولا دو کیسے تمہارے کیے سارے ستم کو بھولا دو میں بس یہ چاہتی ہو کے تم ہم دونوں کی لڑائی میں ان دونوں کو بیچ میں مت لاؤ ان دونوں کے رشتے کے لیے ہامی بھردو "۔ وہ اتنا کہے کر آگے بڑھ گئی تھی تبھی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے پاس آیا اوراسے اس کے بازوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا وہ اس کی اس حرکت کا کوئی منہ توڑ جواب بھی نہیں دے سکی تھی ۔
"حکم دے کر چلتا بننے کی پرانی عادت گئی نہیں ہے تمہاری پہلے بھی یوں ہی دوسروں کی بات سنے بغیر چلی جاتی تھی تم اور اب بھی یہی کررہی ہو مگر جاتے جاتے میری ایک بات سنتے جاؤ میں یہ شادی کبھی بھی نہیں ہونے دوگا اس کی وجہ یہ ہے کے ارشمیل یزدانی تم سے بے انتہا نفرت کرتا ہے اگر آج تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میں یہ بات با خوشی مان لیتا مگر میرے مقابل میں تم کھڑی ہو جس کے سامنے میں کبھی گھوٹنے نہیں ٹیک سکتا ہو اور تمہیں میری نفرت کا اندزہ تو اس ٹیٹو سے لگ گیا ہو گا جو آج اتنے سالوں بعد بھی میری گردن پر موجود ہےجو مجھے تم سے ہر وقت نفرت کا احساس دلاتا ہے "۔اس نے مڑ کر اپنےگردن پر بنے ٹیٹو کے طرف اس کا دھیان بٹا یاتو وہ کچھ دیر کے لیے اپنے ماضی میں چلی گئی
کچھ لوگ اپنے محبوب سے اپنی محبت ظاہر کرنے کے لیےاپنے محبوب کے نام کا ٹیٹوبنواتے ہےمگر اس نے عمائمہ حیدار سے اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لیے I hate umaima کا ٹیٹو اپنی گردن پر بنوایا تھا اس وقت عمائمہ کی کیا حالت ہوئی تھی صرف وہ ہی جانتی تھی اس کی اس حرکت سے سب پر یہ ظاہر ہوچکا تھا کے وہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے وہ اپنے ماضی سے نکل کر حال میں واپس آئی اور بولی ۔
"تم بھی شاید بھول رہے ہو کے میں نے تمہاری اس حرکت کا جواب کیسے دیا تھا”۔اس کی بات سن کر ارشمیل یزدانی کو وہ دن یاد آگیا جب اس نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا پوری یونیورسٹی کے سامنے اس کا تماشہ بنوایا تھا اس کے کئی ساری لڑکیوں کے ساتھ نکالی ہوئی فوٹوز کے پوسٹر بنواکر پوری یونیورسٹی میں لگایا تھا اور سب کو اس کے کئی سارے افیئرزگنوائیے تھے اپنے تلخ ماضی کو یاد کر کے اس کے آنکھوں میں انگارے ابھر آئے اس نے ایک نظر اپنے سامنے کھڑی نازک سی لڑکی پر ڈالا پھر واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا اور پیپر ویٹ گھوماتے ہوئے بولا۔
"میں ان دونوں کے رشتے کے لیےاپنی رضامندی دے دوگا مگر میری ایک شرط ہے "۔وہ جانتی تھی ارشمیل یزدانی کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا اسے بدلے میں کچھ نا کچھ ضرور چائیے ہوگا ۔
"ٹھیک ہےبتاؤ کیا شرط ہے تمہاری "۔
"شرط یہ ہے کے تمہیں اپنا سب کچھ میرے نام کر نا ہو گا سب کچھ مطلب سب کچھ "۔ارشمیل یزدانی ایک بڑا بزنیس ٹائیگون تھا وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کے کب کیسے کس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے ۔
"کیا۔۔کیا مطلب ہے تمہارا "۔
"گھبراؤ نہیں میں تم سے شادی نہیں کروگا تم جیسی تیز طرار لڑکی سے شادی کر کے میں اپنی زندگی بر باد نہیں کرسکتا ہو میں تو بس اتنا چاہتا ہو کے تم اپنے ڈیڈ کی ڈوبتی ہوئی کمپنی اپنا گھر میرے نام کردو اور ہاں اس کےساتھ ساتھ تمہاری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار میرے پاس ہوگا تم کب سوگی کب جاگو گی تم کب کیا کروگی وہ سب میں طے کروگا جو میں کہو ں گا تمہیں وہی کر نا ہو گا تم میرے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ جاو گی تمہارے زندگی کی ڈور میرے ہاتھ میں ہوگی”۔اس کی بات سن کروہ اپنی جگہ سن کھڑے رہ گئی تبھی وہ دوبارہ اس کے پاس آیا اور کچھ دیر تک کھڑے رہ کر اس کے چہرے کے مدوجز دیکھنے لگا پھر اس کے سامنے آئے ہوئے بالوں کو پیچھے کرنےلگاتھاکےتبھی عمائمہ کا ہاتھ اس پر اٹھ گیا ایک زور دار تھپڑکی آواز شیشے کے کیبن میں گونجی اٹھی تھی اس کی تھپڑ پر وہ غصے سے اسے دیکھنےلگا اس کی سرخ انگاروں سے بھری آنکھوں میں دیکھ کر عمائمہ ڈر گئی اور اپنے اس اقدام پر خود کو ہی کوسنے لگی اس نے تھپڑ مارنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچاتھا کے وہ اس کے آفس میں کھڑی ہے اسے لگا وہ اب اس کا حشر نشر کر دے گا مگر اس کی سوچ کے بر عکس وہ دل جلانے والی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
"میں تمہیں سوچنے کے لیے کل تک کا وقت دیتا ہو اگر کل تک تم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو مجبوراً مجھے اپنے بھائی کا رشتے کئی اور کرنا ہوگا اور تمہیں تو پتا ہے میرا بھائی کتنا فرمابردار ہے اپنے بڑے بھائی کی کوئی بھی بات کو نہیں ٹالتا ہے مجبوری میں ہی سہی مگر میں اسے جہاں شادی کرنے کا کہوں گا وہ کر لے گا "۔اس کی بات سن کر اس کی آنکھوں سے نمکین پانی بہنے لگا اسے اپنی مجبوری پر بے بسی پر رونا آرہا تھا وہ دل میں دعا کر رہی تھی کے اللہ اس کے جیسا مجبور وہ بے بس کسی دشمن کو بھی نا کرے ۔
"تمہارے ہاتھو ں تھپڑ تو میں کئی با رکھا چکا ہو مگر آج جو تھپڑ تم نے مجھے مارا ہے نا اس میں پہلے جیسی بات نہیں تھی مگر پھر بھی یہ تھپڑ بھی میں ان پرانے تھپڑوں میں ایڈ کر دیتا ہو تا کے تم سے گن گن کر بدلے لے سکوں "۔وہ اتنا کہے کر اور اس کے طرف جھکا اور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"اب کیا تم یہاں سے تشریف لے جاؤگی یا یو ں ہی مجھے گھورگھور کر نظر لگانے کا اردہ ہے "۔
اس کی بات سن کر اس نے اپنے سامنے کھڑے ظالم شخص کو ایک دھّکا دے کر پیچھے کیا اور وہاں سے چلی گئی اس کی اس حرکت پر وہ ہنستے چلا گیا ۔
٭٭٭
وہ اپنی بند پڑی کار کو راستے کے آدھے بیچ کھڑا کر کے پیدل چلنے لگی اس کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے زندگی اس سے اور کتنے امتحان لے گی اور کتنے لوگ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھائے گےپہلے ہی زندگی میں کیا کم بکھڑے تھے جو اب وہ بھی اس کی زندگی میں رائتہ پہلانے آگیا تھا وہ دم بخود سی چلنے لگی اوراپنی پچھلی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی دوسال قبل اس کی زندگی کتنی حسین تھی جب اقبال حیدر صاحب حیات تھےتب نا ہی زندگی میں اتنی ساری الجھنیں تھی اگر تھی بھی تو اقبال صاحب نے خود ہنڈل کیے تھے عدینہ اور اس تک کبھی نہیں پہنچنے دیتے تھے انھوں نے عمائمہ اور عدینہ کو کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دیا تھا زرینہ بیگم کی موت عدینہ کی پیدائش کے وقت ہی ہوچکی تھی تب ہی سے انھوں نے باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ماں ہونے کا بھی فریضہ انجام دیا تھا ان دونوں کی پر ورش میں کوئی کثر نہیں چھوڑے تھی ان کی ہر خواہش بنا کہے ہی پوری کر دیتے تھے ان کی خود کی شہر میں کمپنی تھی بڑا سا بنگلہ تھا کئی ساری گاڑیاں تھی ان کے ہونے سے تحافظ کا احساس تھا مگر جب ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوئی تو وہ اور عدینہ کتنے ٹوٹ گے تھے ان کے جانے کے بعد سب کچھ بکھر گیاتھا ان کی سالوں کی محنت ان کی کمائی سب کچھ ان کے جانے کے بعد ختم ہوگئی تھی آدھی پراپرٹی بک چکی تھی کئی ساری کاروں میں سے ایک ہی کار بچی تھی جو کے اب اس کی حالت بھی کافی خستہ ہوچکی تھی عمائمہ نے عدینہ کی گھر کی اور کمپنی کی ذمےداری اٹھا لیا تھا مگر اتنی کم عمر میں وہ صرف عدینہ اور گھر کی ہی ذمے داری نبھا پائی تھی MBA کی ڈگری ہونے کے باوجود وہ اپنے ڈیڈ کی کمپنی کو ٹھیک سے سنبھال نہیں پائی تھی اس کی لاپروائی کے وجہ سےآج کمپنی کی حالت خستہ ہوچکی تھی کمپنی ڈوبنے کی کگار پر آگئی تھی آفس میں موجود ہونے کے باجودبھی اس کا سارا دھیان عدینہ کے طرف ہوتا تھا وہ بار بار عدینہ کو کال کرتی اس سے اس کی خیر خیریت دریافت کرتی وہ عدینہ سے صرف دوسال ہی بڑی تھی اس نے بابا کے جانے کے بعد عدینہ کا بالکل ان ہی کے طرح خیال رکھا تھا اس نے اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیا تھا وہ جو چیز کہتی جس چیز کی فر مائش کرتی وہ پوری کر دیتی تھی اس لیے جب عدینہ نے احد سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کیا تو وہ فوراً مان گئی اس نے عدینہ سے احد کو ملانے کا کہا تو عدینہ نے جلدی اسے احد سے ملا دیا احد سے مل کرو ہ کافی خوش ہوئی تھی احد کافی اچھالڑکا تھا سلجھا ہوا تھااور سب سے بڑھ کر عدینہ سےمحبت کرتا تھا اس نے ان دونو ں کے رشتے کے لیے ہامی بھر دیا تھا مگر ایک دن اچانک عدینہ گھبرائی ہوئی اس کے پاس آئی اور بولی ۔
"آپی ایک گڑبڑ ہو گئی ہے "۔وہ جو فائیل میں سر گھسائے بیٹھی تھی اس کی بات سن کر سیدھی ہو بیٹھی اور بولی ۔
"کیا ہوا کیسی گڑبڑ ہوگئی ہے "۔
"آپی احد اور میرا رشتہ تب تک طےنہیں ہو سکتا ہے جب تک احد کے بھائی اپنی رضامندی نا دیے دے آپ کو تو پتا ہے احد کے پیرنٹس انگلینڈ میں رہتے ہے اور یہاں پر صرف احد اور اس کا بھائی رہتے ہے احد نے ہمارےرشتے کا ذکر جب اپنے بڑے بھائی سے کیا تو احد کے بھائی نے ہماری فیملی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور آپ کو تو پتا ہے ہماری فیملی میں صرف ہم دونوں ہی ہے اب آپ کو ہی احد کے بھائی سے ملنا ہو گا "۔اس کی لمبی چوڑی بات سن کر عمائمہ اتنا ہی بولی ۔
"اوکے تم وقت اور دن بتاؤ انھیں ہم سے کب ملنا ہے وہ جب بھی کہے گے ہم انھیں اپنے گھر بلا لے گے "۔اس کی بات سن کر عدینہ گھبرا گئی اور بولی ۔
"نہیں نہیں آپی احد کے بھائی کافی مصروف انسان ہے وہ کسی کے گھر نہیں جاتے ہمیں ہی ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر پر یا پھر کسی ریسٹو رینٹ پر ملنے جانا ہو گا "۔ اس کی بات سن کر وہ دل
ہی دل میں خود سے بولی ۔
"عجیب انسان ہے جو کسی کے گھر نہیں جاتا ہے "۔
"ٹھیک ہے تو پھر ہم ان سے کسی ریسٹورینٹ میں مل لیتے ہے "۔اس کی بات سن کر عدینہ خوشی سے جھومتے ہوئے بولی ۔
"آپی آپ گریٹ ہو "۔
"بس بس زیادہ بٹرینگ مت کرو "۔
"آپی کیوں ناہم مرتضی بھائی کو بھی اپنے ساتھ لے لے اس بہانے آپ کو ان کادیدار بھی ہو جائے گا "۔مرتضی خان عمائمہ کا منگتر تھا اقبال صاحب کےدوست کا بیٹا انھوں نے اپنے جیتے جی ہی عمائمہ کی اور مرتضی کی منگنی کردی تھی عدینہ کی بات سن کر عمائمہ کے چہرے پرکئی سارے رنگ بکھر گئے تھے ۔
"نہیں عدی مرتضی ابھی بزی ہےانھیں ہم احد کی فیملی سے کسی اور دن ملائےگے”۔اس کی بات سن کرعدینہ کا چہرہ اتر گیاتھا۔
"اوکے "۔اتنا کہے کروہ وہاں سے چلی گئی اور وہ اپنی پیار بہن کےروشن مستقبل کے بارے میں
سوچنے لگی ۔
٭٭٭
پھر وہ دن بھی آگیاجب اسے احد کے بھائی سے ملنے جاناتھا عدینہ نے احد کے بھائی پراپنااچھاامپریشن جمانے کے لیے مشرقی لباس کاانتخاب کیاتھاوہ نیلے رنگ کے چوڑی دار پاجامے میں بہت خوب صورت لگ رہی تھی جبکہ عمائمہ نے ہرروز کی طرح آفس جانے کے لیے جو ڈریس پہنتی تھی بلیک جینز اور لائٹ کلرکا شرٹ پہنا تھا آدھے بالوں کو کیئچر میں قید کیا تھا میک آپ کے نام پر نیچرل کلر کی لیپ اسٹک لگایا تھا وہ اس سادھے سے حلیہ میں بھی وہ کافی حسین لگ رہی تھی دونوں ہی بہنوں کو اللہ نے کافی فرست سے بنایا تھا مگر جو معصومیت جو چمک عمائمہ کے چہرے سے جھلکتی تھی وہ دیکھنے کے قابل تھی جو بھی پہلی بار عمائمہ سے ملتا اسے دیکھ کر ٹھٹھک جاتا اور اس کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھنے لگتا تھا عمائمہ نے اپناموبائیل اٹھایا اور عدینہ سے کہا ۔
"چلے عدی "۔
"ہاں آپی چلوں "۔پھر وہ دونوں کافی شاندار سے ریسٹورنٹ میں پہنچے کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد احد پرفیوم میں مہکا ہوا آیا اور بولا۔
"سوری آپ دونوں کوویٹ کرنا پڑا وہ دراصل بھائی کی ایک ضروری میٹنگ تھی اس لیے ہم لیٹ ہوگے "۔مروتً عمائمہ نے ہنس کر کہا ۔
"کوئی بات نہیں "۔
"آپ دونوں ہمارے انتظار میں ایسے ہی بیٹھے ہے کچھ آڈر بھی نہیں کیا چلے کچھ آڈر کرتے ہے "۔پھر احد نے تینوں کے لیے کافی آڈر کیا ان تینوں کی کافی پینا بھی ختم ہوگئی مگر احد کےبھائی کا آنےکےکوئی آثارنظر نہیں آرہے تھے عمائمہ کو اس کے بھائی پر بے حد غصہ آیا وہ بار بار اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھنے لگی اسے آفس جانے کی جلدی تھی اسکی ایک کلائنڈ سے میٹنگ تھی مگر احدکے بھائی صاحب کو شاید کسی کے وقت کی کوئی قدر نہیں تھی اس لیے جان بوجھ کر انتظار کروا رہے تھے احد کب سےاس کی بے چینی نوٹ کر رہا تھا اس نے عمائمہ کو دیکھ کر کہا۔
"بھائی آگے "۔عدینہ اور عمائمہ اس طرح سے بیٹھے تھے کے آنے والے کو ان کی صرف پشت نظر آرہی تھی وہ جیسے جیسے ان کے قریب آرہا تھا ویسے ویسے کلون کی خوشبو ناک کی نتھوں میں پڑھ رہی تھی اور ماحول کو خوشگوار بنارہی تھی پھر وہ بندہ ان دونوں کے سامنے آکھڑا ہوا اور اپنے سن گلاسس اتارکر ٹیبل پررکھا وہ عدینہ اور عمائمہ کے طرف ابھی متوجہ نہیں تھااس کی نظریں تو مسلسل موبائیل پر ہی گڑی ہوئی تھی عمائمہ نےاپنے سامنے کھڑے بندے کو دیکھا توو ہ اپنی جگہ دنگ رہ گئی وہی انداز وہی شان وشوکت وہی تیوار کچھ بھی تو نہیں بدلاتھا اس شخص کا اسے دیکھ کر عمائمہ کے سمجھ نہیں آرہاتھا وہ کیسا ری ۔ایکٹ کرے اسے دیکھ کر ماضی کی تلخ یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگی اس ہی اثناء میں ارشمیل کی نظر بھی سامنے بیٹھی ہستی پر پڑی تو اسے سب کچھ یاد آگیا وہ اپنی جگہ ہنس پڑا اور عمائمہ کے سامنے رکھی چیئر کھنچ کر وہی بڑی شان سےپیرپر پیر جمائے بیٹھ گیا اور اسے دیکھ کر مسلسل مسکرانے لگا عمائمہ نے ایک نفرت بھری نظراس پر ڈالا اور عدینہ سے کہا۔
"عدی فوراًچلوں یہاں سے "۔اس کی بات سن کرعدینہ حیران ہوگئی کے اسے کیاہواہے وہ ابھی تو بھلی چنگی تھی پھراسے ابھی کے ابھی کیاہواہے اس نے عدینہ کو ایک غصے بھری نظرسے گھورا اور پھرسے کہا۔
"عدینہ تم چل رہی ہویامیں اکیلی ہی چلی جاؤ”۔اسے جب بھی عدینہ پرغصے آتاتھاتب وہ غصے میں اس کا پورانام لے کر اسے پکارتی تھی وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی توعدینہ بھی احدسے اور اس کے بھائی سے معذرت کرکے اٹھ چلی گئی ان کے جانے سے ارشمیل پریشان نہیں ہواوہ تو جانتاتھا کے وہ کیوں چلی گئی ہے مگر احد کافی پریشان ہوگیا تھا اس نے پریشانی سے اپنے بھائی کے طرف دیکھااور بولا۔
"بھائی ان دونوں کوکیاہوا ہے ابھی تک تو سب کچھ ٹھیک چل رہاتھا "۔ارشمیل نے اپنے سن گلاسس اٹھاکر پہنا اور اپنے مخصوص لہجے میں بولا۔
"مجھے لگتاہے عدینہ کی بہن کو میں کچھ خاص پسند نہیں آیا”۔اس کی بات سن کر احد عمائمہ کے بچاؤ میں بولا۔
"نہیں بھائی ایسی بات نہیں ہے انھیں ضرور کوئی نا کوئی ضروری کام آن پڑا ہوگااس لیے وہ چلی گئی”۔
"خیر یہ سب چھوڑوں میں آفس جارہاہو تم گھر پہنچ جانا”۔اتناکہےکروہ جیسے آیاتھاویسے ہی چلاگیا۔
وہ آفس جانے کے بجائے عدینہ کولے کر سیدھے گھر پہنچ گئی اس کے خطرناک تیوار دیکھ کر
عدینہ کچھ ڈری سہمی سی لگ رہی تھی وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور اپنے سامنے رکھے گلاس میں کاپورا پانی پی گئی پھر عدینہ کے طرف متوجہ ہوئی ۔
"کیاتمہیں پوری دنیامیں اس شخص کا بھائی ہی ملاتھا محبت کرنے "۔اس کی بات سن کر عدینہ کی آنکھوں میں آنسو آگے وہ اپنے آنسو پرقابو پاتے ہوئے بولی ۔
"کیا ہوا آپی کیا خرابی ہے احد میں آپ نے اس سے پہلے تو ہمارے رشتے کے لیے ہامی بھر لیاتھا پھر اب یہ سب کیوں ؟”اس کے سوال کرنے پر عمائمہ نے عدینہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور بولی ۔
"احد میں یہ خرابی ہے کے وہ ارشمیل یزدانی کا بھائی ہے تمہیں اندزہ نہیں ہے تم نادانی میں کیا کر بیٹھی ہو کتنی بڑی مصیبت کو گلے لگا بیٹھی ہو "۔
"کیا آپ ارشمیل یزدانی کو جانتی ہے "۔عدینہ نے حیرت کے ساتھ اس سے پوچھا ۔
"ہاں بہت اچھی طرح سے بہت قریب سے کےوہ کتنا گھٹیا ں کتنا ذلیل انسان ہے میں سب جانتی ہو اس لیے کہے رہی ہو تم اسے بھول جاؤ اگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو اسے بھول جاؤ”۔اس نے عدینہ کو اپنی محبت کا واسطہ دے دیا تھا اس لیے عدینہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی پھر اس نے دوبارہ احد کا ذکر اپنی زبان سے نہیں نکالا کئی دن گزرچکے تھے وہ دیکھ رہی تھی ہنستی مسکراتی
ہوئی عدینہ کی زبان کو خاموشی کا قفل لگ چکا تھا وہ نا ہنستی تھی ناہی اس سے کوئی بات کرتی تھی وہ اگر اسے مخاتب بھی کرتی تو اس کی کوئی بھی بات کا جواب ہوں ہاں میں دیتی کچھ نا کھانے پینے کی وجہ سے وہ کافی کمزور ہوچکی تھی کمزوری کی وجہ سےوہ کئی دنوں تک بیمار بھی رہی تھی اس کی حالت دیکھ کراس نے اپنے دل پر پتھررکھ کے احد کو کال کیااور ا ن دونوں کے رشتے کے لیے ہری جھنڈی دیکھا دیامگراب اس کے راضی ہونے سے کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ آخری فیصلہ تو اس ظالم شخص کے ہاتھ میں تھا اس کی سوچ کے مطابق پہلے ارشمیل نے انکار کردیا پھر اسے خود سے ملنے بلایا اور اس سے سودے بازی کرنے لگا اس نے اپنی سوچوں کو لگام دیا اور اپنے ارد گرد نظریں دوڑائی تودیکھا وہ اپنے گھرکےراستے سے کئی دور نکل چکی تھی را ت کے سائے کافی گہرے ہورہے تھے اس نے اپنے موبائیل سے مرتضی کوکاکیامگراس کا موبائیل آف جارہاتھاپھروہ ٹیکسی سے اپنے گھر آگئی ۔
٭٭٭
تین سال پہلے
وہ ہرروز کی طرح آج بھی یونیورسٹی جانے کے لیے لیٹ ہوچکی تھی اس نے اپنی کار پارکنگ آئیریا میں پارک کیا اور اندار چلی آئی تبھی اسے اپنی بیسٹ فرینڈ ثانیہ روتی ہوئی نظر آئی تو وہ
تشویش میں پڑگئی کے ثانیہ کوکیاہوا ہے وہ کیوں رورہی ہے وہ ڈورتی ہوئی ثانیہ کے پاس آئی اور بولی ۔
"ثانیہ کیاہوا ہے تمہیں تم کیوں رورہی ہو "۔
"ک۔۔کچھ نہیں بس ایسےہی آنکھوں میں کچھ چلاگیاتھا "۔ثانیہ جانتی تھی کے وہ غصے کی کتنی تیز ہے اگر اسے اپنے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بتادیاتو وہ برداشت نہیں کر پائے گی اور اپنے آپے سے باہر ہو جائے گی ۔
"پلیز ثانیہ مجھے بتاؤ کیوں رورہی ہوتم کیاہوا ہے تمہارے ساتھ کیا کسی نے تمہیں کچھ کہا ہے یاکچھ کیا ہے "۔
"نہیں کچھ نہیں ہوا ہے "۔
"تمہیں میری قسم تم بتاؤ کیا ہوا ہے "۔اس کے کافی زور دینے پر ثانیہ بتانے لگی ۔
"تم سچ کہتی تھی وہ ارشمیل یزدانی مجھ سے محبت نہیں کرتاوہ تو صرف مجھ سے فلرٹ کر رہا تھااس نے مجھے دھوکادیا ہے وہ کسی اور کے ساتھ انوال ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کافی دکھی ہوئی اس کے سمجھ نہیں آتا تھا یہ لڑکیاں امیر لڑکوں کی امارت دیکھ کر ان کے لیے آہیں کیوں بھرنے
لگتی ہے وہ ان لڑ کو ں کا صرف ظاہر دیکھتی ہے باطن نہیں اس نے تونے تو ثانیہ کوکئی دفعہ سمجھایاتھا مگر اس کے سمجھانے کااس پر کوئی اثر نہیں پڑتاتھاوہ ہر بار یہ کہے کراسے چپ کروادیتی تھی کے وہ مجھ سے بہت محبت کرتاہے اب اسے روتادیکھ کر عمائمہ خود بھی رونے کی کگار پر آگئی تھی اس نے خود کوسنبھالااور اس کاہاتھ پکڑ کراسے اٹھاتے ہوئے بولی۔
"چلو تم میرے ساتھ میں اس ذلیل شخص کو ایساسبق سکھاہوں گی کے وہ دوبارہ کسی بھی لڑکی سے فلرٹ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا "۔
"نہیں عمائمہ جانے دو چھوڑوں "۔ثانیہ گھبراکربولی ۔
"نہیں ثانیہ تمہیں چلناہی ہوگا”۔پھر اس نے ثانیہ کاہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھنچتے ہوئے لے گئی ارشمیل یزدانی اور اس کے دوست لائبریری کے سامنے بڑی شان سے کھڑے تھے وہ ارشمیل کے پاس گئی اور اسے قہربرساتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگی ارشمیل اسے خود کو یوں گھورتاہوا دیکھتےکر بولا۔
"زہےنصیب آج تو بڑے بڑے لوگوں کے دیدار نصیب ہوئے ہے "۔عمائمہ نے اس کی بات کو نظرانداز کردیااور بولی ۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہے میری فرینڈسے فلرٹ کرنے کی "۔اس کی بات سن کر وہاں موجود
اس کے سبھی دوست کمینے پن سے ہنسنے لگے ان میں وہ بھی شامل تھا۔
"میں تمہاری دوست سے فلرٹ نہیں کرتاتوکیاتم سے کرتا، تم نے تو کبھی مجھے اپنے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیا "۔اس کی بات عمائمہ کو اتنی بری لگی کے اس کاہاتھ اٹھ گیا ایک زور دار تھپڑ کی آواز سے وہاں موجود سبھی لوگ ساخت کر گئی ارشمیل کی لہوں ہوتی آنکھیں بتارہی تھی کے وہ اس وقت کتنے غصے میں ہے وہ سیدھے عمائمہ کی طرف مارنےآیا تھا مگر بر وقت اس کے دوستوں نے اسے پکڑ لیااوراس طرح سے عمائمہ کی بچت ہوگئی ۔
"تمہارا یہ تھپڑ میں ہمیشہ یاد رکھوگا اور اس کابدلہ بھی لے کررہوں گا "۔
"Ok what you want to do.”وہ اتنا کہے کر وہاں سے جیسی آئی تھی ویسے ہی چلی گئی اور ادھرارشمیل یزدانی اپنی جگہ تڑپتے ہوئے رہ گیاغصے ضبط کرنےسے ارشمیل کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی وہ چاہ کر بھی اس وقت کچھ بھی کرنے سے قاصر تھاکیونکہ یونیورسٹی میں اس کے ڈیڈ وقار یزدانی کی ایک الگ ہی ریپوٹیشن تھی ان کا شمارملک کے جانے مانے بزنیس مین میں ہوتاتھااور ارشمیل شہرکی جس یونیورسٹی میں پڑ ھ رہاتھاوہ ملک کی ٹاپ یونیورسٹی میں سے تھی جہاں پر صرف ہائے سوسائٹی سے بی لونگ کرنے والے اسٹوڈنٹ ہی پڑھتے تھے اس یونیورسٹی کےٹرسٹی اس کےڈیڈ تھے اس لیے وہ جو بھی اقدام اٹھاتاتھااس سے اس کے ڈیڈ کی عزت
خراب ہوتی تھی اور وہ اپنے ڈیڈ کی عزت کو خراب ہوتے ہوئےقطعی نہیں دیکھ سکتاتھااس لیے اس نے اس وقت اپنے اندار بھڑکتی ہوئی آگ پرپانی ڈالااور وہاں سے چلا گیا۔
پھر تبھی سے ان دونوں کےبیچ سرد جنگ کا آغازہوا تھا وہ جہاں بھی جاتی ارشمیل اپنی گینگ کے ساتھ وہاں پہنچ جاتا تھا اور اسے پریشان کرتا تھا وہ بھی کم ناتھی اس کی ہرایک حرکت کاجواب اس ہی کے اندازمیں دیتی تھی اس ہی طرح ایک دن اس نے سب پراور اس پر اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لیے ٹیٹو بنوایاتھا پھر عمائمہ نے بھی اس کے کئی ساری لڑکیوں کے ساتھ نکالی ہوئی فوٹوز کے پوسٹر بنواکر پوری یونیورسٹی میں لگایا تھا اور سب کو اس کے کئی سارے افیئرزگنوائے تھے یہ دیکھ کراس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ جب بھی ارشمیل کے طرف دیکھتےتھے اس کامذاق بناتے تھے ارشمیل ابھی تک عمائمہ کو ہلکے میں لیتے آیاتھا اسے وہ اپنے سامنے کچھ بھی نہیں سمجھتاتھامگر آج اسے اندزہ ہوچکاتھاکے وہ غلط تھاعمائمہ حیدر کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں تھی وہ کافی خطرناک ثابت ہورہی تھی اس کے لیےپھر اس نے سوچا کے کیوں نااس چڑیا کواونچی آوڑان بھرنے سے روکاجائے اس کے پر کانٹ دیاجائے پھر اس کے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا اور وہ اس پر عمل کرنے کےبارے میں سوچنے لگا۔
٭٭٭
ایک دن وہ یونیورسٹی سے گھر لوٹ رہی تھی اپنی کارسے تبھی اسے اپنےراستے میں کئی ساری گاڑیاں نظرآئی تووہ تشویش میں مبتلہ ہوگئی کیونکہ وہ جس راستے سے گھر جاتی تھی وہاں پرسے چندایک ہی گاڑیاں گزرتی تھی مگر آج اتنی ساری گاڑیاں اسے بہت بڑی گڑبڑ کااحساس دلا رہی تھی اس نے ان سب باتوں کواپناوہم سمجھ کر جھٹک دیااور ڈرائیوینگ پر فوکس کیا تبھی ایک بڑی سی BMW نے اس کا راستہ روکا او ر اس میں سے نکلنے والے شخص کودیکھ کر کچھ دیر کے لیے اس کا سانس رکھ گیا وہ جس شان سے اپنی کار سے نکلاتھا اس ہی شان سے وہ اپنی کار سے ٹیکا لگاکر کھڑا ہوگیاپھر اس نے کسی کو اشارہ کیا تھاعمائمہ کے پاس دو بندے آئے جن کے ہاتھوں میں ہتھار تھے یہ دیکھ کر وہ بے ہوش ہونے کی کگار پر آگئی تھی اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا کے وہ کیاکرے دماغ نےکام کرنا بند کردیاتھا اسے اندزہ تو تھاکے ارشمیل یزدانی کافی اثر ورسوخ رکھاہے مگر اتنا یہ نہیں پتاتھا اس نے اپنے ہواس کوبیدار کیا اور کار کے شیشے چڑھانے لگی تبھی ارشمیل آیااور کار کی ونڈو پر اپناہاتھ رکھ دیا اس نے خود میں تھوڑا اعتماد پیداکیااور بولی ۔
"دیکھوں یہ تم جو کچھ بھی کر رہ ہو وہ بہت غلط کر رہ ہو میں تمہاری شکایت ڈین سے کردوگی کے تم یونیورسٹی کے باہر بھی مجھے تنگ کررہےہو”۔
"اوہ واو یہ تو بہت اچھی بات ہے تم چاہوں تو ابھی ڈین سےمیری شکایت کرسکتی ہو یہ لو میں نے انھیں کال ملادیاہے "۔وہ اپناموبائیل اس کے طرف بڑھاتے ہوئے بولاتبھی اس نے اس کاموبائیل دور پھیک دیایہ دیکھ کر ارشمیل کو غصہ آگیاپھر اس نے دوبارہ اپنے گارڈ زکو اشارہ کیااس کااشارہ ملتے ہی گارڈز نے اسے کار سے باہر نکالا اور پیچھے ہٹ گے وہ کار سے چپکی کھڑی تھی تبھی ارشمیل اس کے قریب آیااور اس کاچہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچھتےاس کے کان
میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"بہت مہان بننے کاشوق ہے ناتمہیں اب میں تمہیں بتاتا ہو مہان بننے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے "۔
"تم کچھ بھی کر لو میں تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرنے والی ہو "۔
"Well lets see who scared and who is not (ٹھیک ہے دیکھتے ہے کون ڈرتاہے اور کون نہیں) "۔اتناکہے کر اس نے اسے دھکادے کر زمین پرگرادیا پھر اس کے گارڈز نے اس کی آنکھوں پر اور منہ پر پٹی باندھ دیے اور اس کے ہاتھوں کو بھی رسّی سے باندھ دیے پھر اسے ایک کار میں بیٹھا کر انجانے راستوں پر لے گے وہ ناہی کچھ دیکھ سکتی تھی ناہی چلاسکتی تھی لیکن پھر بھی وہ گھونٹی گھونٹی آواز میں احتجاج کررہی تھی چلارہی تھی رسّی سے بندھے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کرہی تھی پھراسے اندزہ ہواکے کوئی اسے بری طرح
گھسٹتے ہوئے لے کر جارہاہے اسےجانوروں کی طرح گھسٹتے ہوئے ارشمیل کو یہ بھی خیال نہیں آیاکے اس کے پیرسے خون بہے رہاہے وہ تواس وقت اپنابدلہ نکالنےکےجنون میں تھا وہ عمائمہ کوکئی دنوں سےبند پڑے اپنے فارم ہاؤس پرلایا تھاپھروہ اسےایک اندھیرے کمرے لے گیااور اس کے ہاتھ سے رسّی کھول دیااس کےمنہ اور آنکھوں پربندھی پٹی بھی کھول دیاکافی دیر سے آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اس لیے اسے کچھ دیر تک کچھ بھی دیکھائی نہیں دیا پھر بعد میں اسے اندھیرے میں اس کا چمکتا ہوا چہرہ دیکھاتو وہ لپک کر اس کے پاس گئی اور اس کے کالر پکڑتے ہوئے بولی ۔
"تم نے جو کچھ بھی کیاہے اچھانہیں کیااس کاانجام بہت براہوگا ارشمیل یزدانی "۔ارشمیل نے ایک نظراپنے شرٹ کے کالر پر جمعے اس کے ہاتھ پرڈالا پھرایک ذور دار تماچہ اس کے نازک گال پر جڑ دیااسکے تھپڑ سے وہ زمین پر گر پڑی اسکاتھپڑ اتنازوردار پڑاتھاکے وہ اپنی جگہ کراہ کررہ گئی تھی پھر وہ اس کے قریب آیا اوراس کے خوبصورت لمبے آبشار جیسے بالوں سے پکڑ کراسے اٹھایااور بولا۔
"آج کادن تم زندگی میں کبھی بھی نہیں بھولوگی”۔درد کی وجہ سے اس سے کچھ بھی بولا نہیں جارہا تھا کئی سارےآنسوں اس کے گالوں سےپھسل کر زمین پر گر رہے تھے ارشمیل اس کی یہ کیفیت دیکھ کر کافی لطف اندوز ہورہاتھا وہ اسے اور بھی زیادہ روتاہواتڑپ تا ہوا دیکھناچاہتاتھا آج اتنا سب کچھ کرکے بھی اس کے دل کو تھوڑاسابھی سکون میسر نہیں ہواتھا وہ اسے ا بھی اور تڑپاناچاہتا تھااور رلانا چاہتا تھا تبھی اس نے گرم پانی لایااور اس کے پیروں پر ڈال دیاوہ چلانے
لگی۔
"آہ۔۔۔” گرم بھاپ نکلتےہوئےپانی سے اس کے پیروں میں جلن ہورہی تھی اس کے پیر سرخ ہوچکے تھے وہ اس وقت مچھلی کے طرح تڑپ رہی تھی اسےتڑپتادیکھ کر ارشمیل ہنسنے گاتھاپھروہ جیسے ہی اس کے چہرے پر گرم پانی ڈالنے والالگاتھاکے وہ بے ہوش ہوگئی اس کے بے ہوش
ہونے سے اسکاچہرہ جلنے سے بچ گیاارشمیل نے ایک نظراس کے بے ہوش وجود پر ڈالاپھر وہاں سے چلاگیا۔
کئی گھنٹوں بعد اسے ہوش آیاتواس نے دیکھااس اندھیرے کمرے میں اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے باہررات ہوچکی تھی اس لیے اس روم میں بھی کافی تاریکی پھیل چکی تھی اندھیرے سے اسے بہت ڈرلگتاتھااس کادم گھٹتاتھااس لیے وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی اسے اپنے زخمی پیروں سے چلابھی نہیں جارہاتھا مگر پھر بھی وہ کوشش کر رہی تھی چلنے کی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور چیخ چیخ کررونے لگی اور کہنے لگی ۔
"ک۔۔کوئی ہے پلیز مجھے یہاں سے نکالوں مجھے اندھیرے سے بہت ڈرلگتاہے "۔وہاں اس کی آواز سننے والاکوئی بھی موجود نہیں تھاپھر اچانک اسے ایک چھوٹی کھڑکی نظرآئی اس میں سے تھوڑی سی روشنی اندار آرہی تھی وہ دیکھ کر وہ فوراًاس طرف لپکی پھراس نے وہ کھڑکی کھول دیااور لمبے لمبے سانس لینے لگی کچھ دیر بعد اسے اس جگہ سے بھاگنے کاہوش آیاتووہ کھڑکی پھلانگ کرباہرنکل گئی اور بے تہاشہ بھاگنے لگی اندھیرے کی وجہ سے اسے پتانہیں چل رہاتھاکے وہ کس راستے جارہی ہے وہ بھاگتے بھاگتے کافی دور نکل گئی تھی تبھی ایک کار کی ہیڈلائٹ اس کے چہرپر پڑی جس سے وہ ڈرگئی پھروہ بھاگنے کے لیے دوسرے راستے کے طرف مڑی مگر وہاں سے بھی اچانک کار آگئی پھر دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف سے اس کاراستہ مسدود کردیاگیاوہ اپنی جگہ چکراکر رہ گئی اور وہی پھر سے بے ہوش ہوگئی ،وہ مسلسل چار دن تک اس ظالم شخص کے قید میں رہی تھی چاردن بعد ارشمیل یزدانی کے آدمی نے اسے اس کے گھر کے سامنے لاپھنکاتھا اقبال حیدر صاحب کو جب اس کی واپسی کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً پولیس کو باخبرکردیاپھر پولیس اس کابیان بھی لینے آئی تھی مگراس نے کوئی بیان نہیں دیاکیونکہ ابھی وہ اس حالت میں نہیں تھی کے کچھ کہے پاتی اور ابھی وہ پولیس کو بتابھی دیتی کے اسے اغوا کرنے والا ارشمیل یزدانی ہے توکوئی بھی اس کا یقین نہیں کرتاکیونکہ ارشمیل یزدانی نے کوئی بھی ثبوت نہیں چھوڑا تھاپولیس پچھلے چار دن سے اس کی تلاش میں لگی تھی مگر ارشمیل نے اسے پتانہیں کون سے سات پردوں میں چھپاکررکھاتھاکے پولیس کوا س کانام ونشان تک نہیں ملاتھا اس کے اغوا ہو نے کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی نیوز پیپر نیوز چینل پر صرف اس کے مطالق خبریں نشر ہورہی تھی یہ سب دیکھ کروہ کافی دل آزاردہ ہوچکی تھی وہ تو شایداس صدمے سے مر ہی جاتی مگر اقبال صاحب اور عدینہ نے اس کابہت خیال رکھا اس سے یہ سوال تک نہیں پوچھاکے اسے کس نے اور کیوں اغوا کیاتھا ان دونوں کے وجہ سے وہ جلدی اس صدمے سے نکل گئی تھی اور یونیورسٹی بھی جانے لگی تھی اسے یو نیورسٹی میں دیکھ کر پہلے تو ارشمیل حیران ہوا تھا پھر ہنستے ہوئے اس کے کان میں بولا ۔
"کیااتنی بڑی سزا کافی نہیں تھی جو تم پھر سے یہاں چلی آئی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اسے کچھ نہیں کہاوہاں سے چپ چاپ چلی گئی اسے یوں خاموش دیکھ کر ارشمیل سمجھ گیاتھا کے یہ طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی ہے وہ اب اس طوفان کے آنے کاانتظار کرنے لگا تھا۔
آج عمائمہ کے کلاس میٹ نے مل کر کومن آف لیاتھا وہ کافی دن بعد یونیورسٹی آئی تھی اس لیے اسے پتانہیں تھاوہ اس وقت کلاس روم میں اکیلی بیٹھی تھی تبھی وہ اس کے پیچھے چلاآیااس نے کلاس روم کادروازہ بند کرلیااور اس کے قریب آکر ہنستے ہوئے بولا۔
"واہ تم بھی کیاچیز ہو عمائمہ حید کڈنیپ ہو نے کے بعد بھی یونیورسٹی آنا نہیں چھوڑا”۔
"کسی کو اس کے کیے کی سزا دلانا ضروری ہے اس لیے مجھے آنا پڑا”۔اتنا کہے کروہ اس نے اپنارخ دوسرے طرف موڑ لیا ارشمیل بھی اسی طرف آگیااور بولا ۔
"تمہیں کڈنیپ کرنے والا بندہ تو تمہارے سامنے کھڑا ہے تم چاہوں توابھی اور اس ہی وقت اسے سزا دے سکتی ہو مگر شاید تم میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کے تم مجھے سزادے سکوں میری برابری کر سکوں "۔وہ اپنی ہی بات پر ہنسنے لگا عمائمہ نے ایک نظر اس کے خوبصورت چہرے پر ڈالا اور کہا۔
"تم خود کو حد سے زیادہ اسمارٹ سمجھتے ہومگر تم نہایت ہی بے وقوف ہو "۔اتناکہے کر وہ وہاں سے
چلی گئی اور ارشمیل یزدانی اس کے بات کی گہرائی کو سمجھنے لگا ۔
دوسرے دن بھی وہ یونیورسٹی آئی تھی مگر وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ کافی ساری پولیس تھی جو ارشمیل یزدانی کا آریسٹ وارنٹ لے کر آئی تھی یونیورسٹی میں پولیس کو دیکھ کر کافی سارے اسٹوڈنٹ حیران ہوچکے تھے پھر جب پولیس ارشمیل کو آریسٹ کرنے لگی تھی تبھی ڈین بولنے لگے ۔
"آپ کس چیز کی بنا پر ارشمیل یزدانی کو آریسٹ کر رہ ہے”۔
"مسڑ چودھری ارشمیل یزدانی نے کچھ دن پہلے عمائمہ حیدر کو اغوا کیاتھا "۔پولیس انسپکٹر کی بات سن کر سبھی اسٹوڈنٹ ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کرنے لگے تھے تبھی وہ اپنے بچاؤمیں بولا۔
"آپ کے پاس ثبوت کیا ہے کے مس عمائمہ حیدر کو میں نے اغوا کیاتھا "۔
"مسٹر ارشمیل یزدانی اس ویڈیو کلیپ میں آپ نے خود یہ بات قبول کیاہے کے آپ ہی نے انھیں اغوا کیاتھا”۔پولیس انسپکٹر نے کہنے کے ساتھ ساتھ اسے وہ ویڈیو بھی چلاکر دیکھادیا جسے دیکھ کر وہ سمجھ گیاکے وہ کل اسے بے وقوف کیوں کہے رہی تھی پھر پولیس کی اس کے ہاتھ پر ہتھ کڑیاں پہنانے سے پہلے ارشمیل اس کے پاس آیااور دھیرے سے بولا۔
"تم سمجھ رہی ہو گی کے ہماری یہ کہانی یہی ختم ہوگئی مگر دھیان رکھنا میں بہت جلد تمہاری زندگی میں تہلکہ مچانے واپس آؤگا”۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اس ہی کے انداز میں اس سے کہا۔
"ابھی تو تم فلحال اپنے بارے میں سوچو تمہارے زندگی میں جوتہلکہ مچنے والاہےاس کے بارے میں میرے بارے میں بعد میں سوچنا”۔اتناکہے کروہ وہاں سے چلی گئی ارشمیل کو بھی پولیس گرفتارکرکے لے گئی ارشمیل کے اس اقدام کی وجہ سے وقاریزدانی کی رپوٹیشن کوان کے بزنیس کو کافی نقصان پہنچاتھا انھوں نے اپنے پیسے وطاقت کے بل پر اسے سخت سزاہونے سے بچالیاتھا پھرارشمیل سمیت ان کی فیملی پوری فیملی انگلینڈ شفٹ ہوگئی تھی ارشمیل نے انگلینڈ سے ہی اپنی MBA کی ڈگری لیاتھا انگلینڈ جانے کے بعد ارشمیل کو اپنی زندگی بے مقصد لگ رہی تھی کوئی بات تھی یا اپناآدھورا بدلاتھاجس نے اسے واپس اس ملک میں لے آیا تھا پھراس نے اپنے ملک میں اپنے ڈیڈ کے بزنیس کو اور وسیع کیاجس کے وجہ سے آج وہ بزنیس کی دنیا کاجانا مانا چہرہ بن چکاتھا پھرایک د ن اچانک اسے اپنی دشمن نظرآگئی اور اپنا آدھورا بدلا لینا بھی یاد آگیاتھا۔
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/