کیا آپ جانتے ہیں لنڈے میں مختلف برانڈز کے کپڑے جوتے کہاں سے آتے ہیں؟ ترقی یافت…

ترقی یافتہ ممالک میں کچرے کو ٹھکانے لگانے یا ڈی کمپوز کرنے کے قوانین بہت سخت ہیں، وہاں پرانے کپڑوں یا جوتوں کو جلانے، زمین میں دبانے پر بھاری ٹیکس اور جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
ان برانڈز کے لیے اپنے بچ جانے والے سامان کو بحری جہازوں کے ذریعے غریب ممالک بھیجنا ترقی یافتہ ممالک میں تلف کرنے یا ری سائیکل کرنے کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے اس لیے یہ اپنا بچ جانے والا سامان غریب ملکوں میں فری بھیج دیتے ہیں،
بہت سے برانڈز اپنا بچا ہوا سٹاک یا استعمال شدہ اشیاء خیراتی اداروں کو دے دیتے ہیں، جو آگے چل کر غریب ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں فروخت ہوتا ہے۔ اس سے ان کمپنیوں کو خیرات کے نام پر ٹیکس میں چھوٹ بھی مل جاتی ہے۔
عام طور پر یہ سامان ان ممالک میں بھیجا جاتا ہے جہاں استعمال شدہ اشیاء کی بڑی مارکیٹ موجود ہو جیسا کہ افریقی ممالک کینیا، گھانا، کمبوڈیا اور نائجیریا وغیرہ۔
ایشیائی ممالک میں پاکستان، انڈیا، اور بنگلہ دیش جیسے ممالک شامل ہیں جہاں ہم اسے لنڈے کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ سارا پرانا سامان غریب ممالک میں بھی لوگ استعمال نہیں کرتے اور بچ جانے والا سامان کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں، سمندر، دریاؤں میں پھینک دیا جاتا ہے ترقی پذیر یا غریب ممالک میں ری سائیکلنگ یا ڈی کمپوز کا کوئی خاص قانون نہیں یا اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا اس لیے یہ بچ جانے والا سارا کچرا غریب ممالک کے حصے میں آتا یے۔
منتخب
Source


