منتخب غزلیں
گو میرے شعر ہیں خواص پسند پر مجھے گفتگو عوام سے ہے…

گو میرے شعر ہیں خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
..
سلیمان خطیب کا یومِ پیدائش
December 26, 1922
سلیمان خطیب ۲۶ / دسمبر ۱۹۲۲ء میں سابق ریاستِ حیدرآباد کے ضلع گلبرگہ، بیدر کے مقام چٹگوپہ ، تعلقہ ہمنا آباد (کرناٹک) میں پیدا ہوئے، ان کے اجداد عہدِ عالمگیری میں جامع مسجد چٹگوپہ کے خطیب رہے، خطیب ان کا خاندانی نام ہے جسے انہوں نے اپنا تخلص قرار دیا۔ والد کا نام محمد صادق خطیب تھا، حیدرآباد سے میٹرک کی سند لی اور منشی فاضل کی سند ان کی صاحبزادی ڈاکٹر شمیم ثریا کے بقول پنجاب سے اور کرناٹک کی ادبی شخصیات کے مصنف کی تحقیق کے مطابق جامعہ نظامیہ حیدرآباد سے حاصل کی ۔ ملازمت پیشہ کیریئر کا آغاز ۱۹۴۱ ء میں میکانیکل فورمین محکمہ واٹر ورکس گلبرگہ سے کیا اور دسمبر ۱۹۷۷ء تک فلٹر بیڈس کی خدمات پر مامور رہے اور اسی سال وظیفۂ حسن خدمت پر سکبدوش ہوئے ۔یہاں واقع ان کی رہائش گاہ ’’ پانی محل‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ سلیمان خطیب ۱۹۴۶ء میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے، دس اولاد ہوئیں جن میں پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں۔ سلیمان خطیب ۲۲/ اکتوبر ۱۹۷۸ کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔ ان کی وفات کے بعد کرناٹک اردو اکیڈمی نے ’ان کے شعری مجموعۂ کلام ’ کیوڑے کا بن ‘‘ کا منظوم ترجمہ کرواکر شائع کیا، مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر شمیم ثریانے اپنے والد کی حیات و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ۔ سلیمان خطیب دکنی اردو کے بے مثال شاعر ہیں، ۱۹۷۴ء میں حکومتِ کرناٹک نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں راجیو تسوا اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا، سلیمان خطیب نے ساؤتھ انڈیا اردو اکادمی گلبرگہ کی داغ بیل ڈالی، علاوہ ازیں کرناٹک ہندی، پرچار سبھا (گلبرگہ) کے نائب صدر اور مراٹھی ساہتیہ منڈل گلبرگہ کے رکن کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات لائقِ ستائش ہیں ۔
جس کی بچی جوان ہوتی ہے
اس کی آفت میں جان ہوتی ہے
بوڑھے ماں باپ کے کلیجے پر
ایک بھاری چٹان ہوتی ہے
جی میں آتا ہے اپنی بچی کو
اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنا دیں
لال جوڑا تو دے نہیں سکتے
لال چادر میں کیوں نا دفنا دیں
….
مانا حریف کہکشاں اور بھی تجھ سے تھے مگر
میری نظر نے چن لیا اپنی نظر کو کیا کروں
تیرا جو ذکر چھیڑ گیا آنکھ سے اشک گر پڑے
دامن تر چھپا لیا دیدۂ تر کو کیا کروں
صبر کا حکم خوب ہے لیکن حضور یہ کہیں
سوزِ دروں کا کیا بنے دردِجگر کو کیا کروں
تیرے بغیر زندگی کتنی اداس ہے مری
ایسے اداس لے کے میں شام و سحر کو کیا کروں
شامِ فراق میں خطیب داعِ جگر کی روشنی
شمس و قمر سے بڑھ کے ہے ، شمس و قمر کو کیا کروں
…
چمچے کی نہیں قید وہ چھوٹا کہ بڑا ہو
ہر کام ڈبونے کا کیا کرتے ہیں چمچے
کفگیر تو کر دیتی ہے دیگوں کا صفایا
مشقاب کٹوروں میں بھرا کرتے ہیں چمچے
کہنے کو تو چمچوں کے مقامات الگ ہیں
لیکن کوئی محفل ہو، رہا کرتے ہیں چمچے
دنیا میں بڑی چیز ہے یہ چمچہ گری بھی
ہر کام کو مل جاتے ہیں ہر دام کے چمچے
دنیا کو نچا دیتی ہیں امریکی پلیٹیں
رسوائے زمانہ ہوئے ویتنام کے چمچے
بے بات کی ہر بات اڑا دیتے ہیں چمچے
ہر گھر میں نئی آگ لگا دیتے ہیں چمچے
یہ ان کی عنایت ہے نوازش ہے کرم ہے
آپس میں شریفوں کو لڑا دیتے ہیں چمچے
معصوم کبوتر کو بڑھا دیتے ہیں اتنا
خونخوار بلاوڑ سے لڑا دیتے ہیں چمچے
سرکار تو پشتو سے گنہ گار رہے ہیں
کچھ بار گنہ اور بڑھا دیتے ہیں چمچے
ہر وقت ڈٹے رہتے ہیں دستر کے بلاوڑ
اور سیٹھ کے جینے کی دعا دیتے ہیں چمچے
کچھ اتنی محبت سے اٹھا دیتے ہیں اوپر
سرکار کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں چمچے
ظلمت کی تراشیدہ ہیں ارواح خبیثہ
قندیل صداقت کو بجھا دیتے ہیں چمچے
اک نارِ جہنم ہیں کہ اولادِ شمر ہیں
شبیر کے خیمہ کو جلا دیتے ہیں چمچے
کوفی ہیں، دغاباز ہیں، ظالم ہیں شقی ہیں
پیاسے کو لب نہر کٹا دیتے ہیں چمچے
اشرار کے بھیجے ہوئے وہ خارِ مغیلاں
راہوں میں پیمبر کی بچھا دیتے ہیں چمچے
…
ہے الیکشن عوام کا موسم
جیسے جامن کا آم کا موسم
کچھ مسلسل کلام کا موسم
مینڈکوں کے زکام کا موسم
دست بستہ نمستے ہوتا ہے
بے سبب احترام کا موسم
در بدر کے طواف ہوتے ہیں
لیڈروں کے سلام کا موسم
آقا نوکر کے پاؤں دھوتا ہے
چند روزہ غلام کا موسم
لڑنا مرنا، جلوس، جے کاری
ان کے کچھ انتظام کا موسم
کچھ گرجتے ہیں شیر پی پی کے
رندِ عالی مقام کا موسم
کوچے کوچے میں آج بھاشن ہے
کیا سہانا ہے شام کا موسم
مرثیہ کردیا قصیدہ کو
شاعر مقام بے مقام موسم
آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے ہیں
دل کو دل سے پیام کا موسم
نام ڈوبے ہیں، نام چمکے ہیں
گو الیکشن ہے نام کا موسم
لال پیلی ہوئی ہیں دیواریں
گویا نقشِ دوام کا موسم
آلو ٹھہرا ہے، گدھا ٹھہرا ہے
کچھ مصور کے کام کا موسم
…………………
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
..
سلیمان خطیب کا یومِ پیدائش
December 26, 1922
سلیمان خطیب ۲۶ / دسمبر ۱۹۲۲ء میں سابق ریاستِ حیدرآباد کے ضلع گلبرگہ، بیدر کے مقام چٹگوپہ ، تعلقہ ہمنا آباد (کرناٹک) میں پیدا ہوئے، ان کے اجداد عہدِ عالمگیری میں جامع مسجد چٹگوپہ کے خطیب رہے، خطیب ان کا خاندانی نام ہے جسے انہوں نے اپنا تخلص قرار دیا۔ والد کا نام محمد صادق خطیب تھا، حیدرآباد سے میٹرک کی سند لی اور منشی فاضل کی سند ان کی صاحبزادی ڈاکٹر شمیم ثریا کے بقول پنجاب سے اور کرناٹک کی ادبی شخصیات کے مصنف کی تحقیق کے مطابق جامعہ نظامیہ حیدرآباد سے حاصل کی ۔ ملازمت پیشہ کیریئر کا آغاز ۱۹۴۱ ء میں میکانیکل فورمین محکمہ واٹر ورکس گلبرگہ سے کیا اور دسمبر ۱۹۷۷ء تک فلٹر بیڈس کی خدمات پر مامور رہے اور اسی سال وظیفۂ حسن خدمت پر سکبدوش ہوئے ۔یہاں واقع ان کی رہائش گاہ ’’ پانی محل‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ سلیمان خطیب ۱۹۴۶ء میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے، دس اولاد ہوئیں جن میں پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں تھیں۔ سلیمان خطیب ۲۲/ اکتوبر ۱۹۷۸ کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔ ان کی وفات کے بعد کرناٹک اردو اکیڈمی نے ’ان کے شعری مجموعۂ کلام ’ کیوڑے کا بن ‘‘ کا منظوم ترجمہ کرواکر شائع کیا، مرحوم کی صاحبزادی ڈاکٹر شمیم ثریانے اپنے والد کی حیات و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ۔ سلیمان خطیب دکنی اردو کے بے مثال شاعر ہیں، ۱۹۷۴ء میں حکومتِ کرناٹک نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں راجیو تسوا اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا، سلیمان خطیب نے ساؤتھ انڈیا اردو اکادمی گلبرگہ کی داغ بیل ڈالی، علاوہ ازیں کرناٹک ہندی، پرچار سبھا (گلبرگہ) کے نائب صدر اور مراٹھی ساہتیہ منڈل گلبرگہ کے رکن کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات لائقِ ستائش ہیں ۔
جس کی بچی جوان ہوتی ہے
اس کی آفت میں جان ہوتی ہے
بوڑھے ماں باپ کے کلیجے پر
ایک بھاری چٹان ہوتی ہے
جی میں آتا ہے اپنی بچی کو
اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنا دیں
لال جوڑا تو دے نہیں سکتے
لال چادر میں کیوں نا دفنا دیں
….
مانا حریف کہکشاں اور بھی تجھ سے تھے مگر
میری نظر نے چن لیا اپنی نظر کو کیا کروں
تیرا جو ذکر چھیڑ گیا آنکھ سے اشک گر پڑے
دامن تر چھپا لیا دیدۂ تر کو کیا کروں
صبر کا حکم خوب ہے لیکن حضور یہ کہیں
سوزِ دروں کا کیا بنے دردِجگر کو کیا کروں
تیرے بغیر زندگی کتنی اداس ہے مری
ایسے اداس لے کے میں شام و سحر کو کیا کروں
شامِ فراق میں خطیب داعِ جگر کی روشنی
شمس و قمر سے بڑھ کے ہے ، شمس و قمر کو کیا کروں
…
چمچے کی نہیں قید وہ چھوٹا کہ بڑا ہو
ہر کام ڈبونے کا کیا کرتے ہیں چمچے
کفگیر تو کر دیتی ہے دیگوں کا صفایا
مشقاب کٹوروں میں بھرا کرتے ہیں چمچے
کہنے کو تو چمچوں کے مقامات الگ ہیں
لیکن کوئی محفل ہو، رہا کرتے ہیں چمچے
دنیا میں بڑی چیز ہے یہ چمچہ گری بھی
ہر کام کو مل جاتے ہیں ہر دام کے چمچے
دنیا کو نچا دیتی ہیں امریکی پلیٹیں
رسوائے زمانہ ہوئے ویتنام کے چمچے
بے بات کی ہر بات اڑا دیتے ہیں چمچے
ہر گھر میں نئی آگ لگا دیتے ہیں چمچے
یہ ان کی عنایت ہے نوازش ہے کرم ہے
آپس میں شریفوں کو لڑا دیتے ہیں چمچے
معصوم کبوتر کو بڑھا دیتے ہیں اتنا
خونخوار بلاوڑ سے لڑا دیتے ہیں چمچے
سرکار تو پشتو سے گنہ گار رہے ہیں
کچھ بار گنہ اور بڑھا دیتے ہیں چمچے
ہر وقت ڈٹے رہتے ہیں دستر کے بلاوڑ
اور سیٹھ کے جینے کی دعا دیتے ہیں چمچے
کچھ اتنی محبت سے اٹھا دیتے ہیں اوپر
سرکار کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں چمچے
ظلمت کی تراشیدہ ہیں ارواح خبیثہ
قندیل صداقت کو بجھا دیتے ہیں چمچے
اک نارِ جہنم ہیں کہ اولادِ شمر ہیں
شبیر کے خیمہ کو جلا دیتے ہیں چمچے
کوفی ہیں، دغاباز ہیں، ظالم ہیں شقی ہیں
پیاسے کو لب نہر کٹا دیتے ہیں چمچے
اشرار کے بھیجے ہوئے وہ خارِ مغیلاں
راہوں میں پیمبر کی بچھا دیتے ہیں چمچے
…
ہے الیکشن عوام کا موسم
جیسے جامن کا آم کا موسم
کچھ مسلسل کلام کا موسم
مینڈکوں کے زکام کا موسم
دست بستہ نمستے ہوتا ہے
بے سبب احترام کا موسم
در بدر کے طواف ہوتے ہیں
لیڈروں کے سلام کا موسم
آقا نوکر کے پاؤں دھوتا ہے
چند روزہ غلام کا موسم
لڑنا مرنا، جلوس، جے کاری
ان کے کچھ انتظام کا موسم
کچھ گرجتے ہیں شیر پی پی کے
رندِ عالی مقام کا موسم
کوچے کوچے میں آج بھاشن ہے
کیا سہانا ہے شام کا موسم
مرثیہ کردیا قصیدہ کو
شاعر مقام بے مقام موسم
آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے ہیں
دل کو دل سے پیام کا موسم
نام ڈوبے ہیں، نام چمکے ہیں
گو الیکشن ہے نام کا موسم
لال پیلی ہوئی ہیں دیواریں
گویا نقشِ دوام کا موسم
آلو ٹھہرا ہے، گدھا ٹھہرا ہے
کچھ مصور کے کام کا موسم
…………………


