اتنی سی وجہ تھی جدائی کی وہ چاہتی تھی کہ اک لمبے…
وہ چاہتی تھی کہ
اک لمبے سفر پر
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر
وہ ہم سفر بن کر چلے
لیکن
میں چاہتا تھا
موٹر سائکل کی پچھلی سیٹ پر
وہ مجھے پکڑ کر بیٹھے اور میں
دیوانوں کی طرح آوارہ سڑکوں پر
گنگناتے ہوئے اس کے خوف میں
خود پر اس کی گرفت کو مضبوط ہوتا دیکھوں
وہ چاہتی تھی کہ
کسی مہنگے ہوٹل پر جا کر
وہ میری آنکھوں میں اپنی محبت دیکھے
لیکن
میں چاہتا تھا کہ کچھ گمنام راستوں پر
میں اس کا ہاتھ تھام کر پیدل چلوں
اسی طرح شام ہو جائے
پھر راستے میں اک بہتا ہوا دریا
کسی ٹوٹتے تارے کا عکس لئے
ہمارا راستہ روک لے
یہاں بیٹھ کر میں اس کی آنکھوں پر
ناول کے اقتباس اور کچھ افسانے لکھوں
ان لمحوں میں اس کے چہرے کو
اپنی داستانوں میں قید کر لوں
وہ چاہتی تھی کہ
اک بڑے سے محل میں
وہ اپنی بھیگی ذلفیں لہرائے اور
میں محل کے دوسرے کونے سے
اسے دیکھ کر کوئی شعر لکھوں
لیکن
میں چاہتا تھا اک چھوٹے سا گھر ہو
جہاں چاروں طرف محبت پھیلی ہو
کمرے کی کھڑکی سے آنے والی ہوائیں
صرف اور صرف محبت کا پیغام لائیں
جب وہ بھیگی ذلفیں لہرائے تو
میں اسے اتنا قریب سے دیکھوں
جتنا کوئی مشرق کے اس مقام پر
ٹھہر کر طلوع ہوتا سورج دیکھ لے
وہ چاہتی تھی کہ
جب میں اسے لینے جاوں تو
گاڑیوں کی اک لمبی قطار ہو
گھر کی چھتوں سے ڈالر لٹائے جائیں
اس کے گھر سے میرے گھر تک
گلاب کے پھول برسائے جائیں
لیکن
میں چاہتا تھا
میں گھٹنوں کے بل چل کر
اک ڈنڈی والا گلاب کا پھول تھامے
حق مہر میں اپنی زندگی گروی رکھ کر
اسے اپنے سنگ لے چلوں
بس اتنی سی وجہ تھی جدائی کی
وہ محبت چیزوں میں تلاش رہی تھی
مگر
میں محبت اندر چھپائے بیٹھا تھا
وہ ہمسفر تھا

