منتخب غزلیں

شہریار مَیں چاہتا ہُوں! نہ آئیں عذاب، آئیں گے یہ …

شہریار

مَیں چاہتا ہُوں! نہ آئیں عذاب، آئیں گے
یہ جتنے لوگ ہیں، زیرِعتاب آئیں گے

اِس اِک خبر سے سراسیمہ ہیں سبھی، کہ یہاں !
نہ رات ہوگی، نہ آنکھوں میں خواب آئیں گے

ذرا سی دیر ہے خوشبُو و رنگ کا میلہ
خِزاں کی زد میں ابھی یہ گُلاب آئیں گے

ہر ایک موڑ پہ اِک حشر سا بَپا ہوگا
ہر ایک لمحہ، نئے اَنقلاب آئیں گے

پَلَٹ کے آئے نہیں کیوں جنُوں کی وادی سے
جِنھیں یہ زعم تھا، وہ کامیاب آئیں گے

شہر یار


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/