منتخب نظمیں

میں یہی سمجھتا رہا کہ بچہ اپنی نانی کے پاس محفوظ ہ…

💥میں یہی سمجھتا رہا کہ بچہ اپنی نانی کے پاس محفوظ ہے۔
مگر اس دن یہ یقین ٹوٹ گیا۔ 🥹💔

میں ہر جمعرات ٹھیک اسی وقت اپنی پرانی ہنڈا گاڑی اس گلی میں روک دیتا تھا۔ گلی خاموش ہوتی تھی، مگر اس دن وہ خاموشی معمول کی نہیں تھی، جیسے آوازیں بھی ڈر کر چھپ گئی ہوں۔

یہ ایک چھوٹے سے قصبے کا سادہ سا گھر تھا، سفید رنگ کی دیواریں، سامنے چھوٹا سا صحن، اور لکڑی کا پرانا دروازہ جس کی آواز دور سے ہی سنائی دیتی تھی۔ یہ گھر میری ساس کلثوم بی بی کا تھا۔ وہی گھر جہاں میرا پانچ سالہ بیٹا عمر رہتا تھا۔

میری بیوی سارہ چند سال پہلے ایک حادثے میں فوت ہو چکی تھی۔ اس کے بعد عمر کی دیکھ بھال زیادہ تر کلثوم بی بی نے سنبھال لی تھی۔ میں خود ٹرانسپورٹ کے کام میں مصروف رہتا تھا، اس لیے ہر جمعرات عمر کو لینے آتا تھا، پھر شام اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔

گھر میں ایک میڈ بھی تھی، سکینہ۔ عمر کی دیکھ بھال میں وہ مدد کرتی تھی، کھانا پکاتی، صفائی کرتی، اور کبھی کبھی بچے کے ساتھ صحن میں بیٹھ جاتی تھی۔ مگر اصل اختیار ہمیشہ کلثوم بی بی کے ہاتھ میں تھا۔ وہی فیصلہ کرتی تھیں کہ عمر کیا کرے گا، کب سوئے گا، اور کس کے ساتھ کتنا وقت گزارے گا۔

میں نے کبھی زیادہ سوال نہیں کیے تھے۔ خود کو یہی سمجھاتا رہا کہ بچہ اپنی نانی کے پاس محفوظ ہے۔

مگر اس دن یہ یقین ٹوٹ گیا۔

جب میں گلی میں داخل ہوا تو سب کچھ غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ نہ عمر کی آواز، نہ ٹی وی کی آواز، نہ وہ معمول کا شور جس سے گھر جیتا جاگتا لگتا تھا۔

دروازے کے سامنے عمر کی سرخ کھلونا گاڑی الٹی پڑی تھی۔ ایک پہیہ ٹوٹا ہوا تھا۔

میرا دل ڈوب گیا۔

عمر اپنی چیزیں کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔

میں نے دروازہ دھکیلا۔ دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔

“عمر!” میں نے زور سے آواز دی۔

کوئی جواب نہیں آیا۔

میں اندر داخل ہوا تو سامنے والا کمرہ بکھرا ہوا تھا۔ صوفے کے تکیے زمین پر، درازیں کھلی ہوئی، ایک کرسی الٹی پڑی ہوئی، اور کچھ سامان ادھر ادھر بکھرا ہوا تھا۔ مگر یہ بکھراؤ بے ترتیب نہیں تھا۔ یہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جان بوجھ کر ایک منظر بنایا ہو۔

میں تیزی سے کچن کی طرف گیا۔ نل کھلا ہوا تھا، پانی فرش پر پھیل رہا تھا۔ چینی کا ڈبہ گرا ہوا تھا۔ فرش پر چھوٹے چھوٹے جوتے کے نشانات تھے۔

میرا سانس رکنے لگا۔

میں نے فوراً ایمرجنسی نمبر پر کال کی۔

“میرا بچہ گھر میں تھا… دروازہ کھلا ہے… سب کچھ بکھرا ہوا ہے…”

مجھے کہا گیا کہ میں باہر نکل جاؤں، مگر میں اندر ہی رہا۔

پھر میں نے وہ دیکھا۔

عمر کلثوم بی بی کے کمرے کے دروازے کے پاس فرش پر پڑا تھا۔

میں بھاگا، مگر اچانک رک گیا۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کا دماغ حقیقت کو ماننے سے پہلے خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

میں اس کے پاس گیا۔

وہ بے حرکت تھا۔

ٹھنڈا۔

خاموش۔

میری آواز میرے اندر ٹوٹ گئی۔

“عمر… بیٹا… اٹھو…”

مگر کوئی جواب نہیں آیا۔

اتنے میں پولیس آ گئی۔

گھر اب گھر نہیں رہا تھا، ایک تفتیشی جگہ بن چکا تھا۔

سوال شروع ہوئے۔

“بچہ کس کے ساتھ تھا؟”

“آخری بار کس نے دیکھا؟”

“کلثوم بی بی کہاں ہیں؟”

یہ آخری سوال سب کچھ بدلنے والا تھا۔

کیونکہ کلثوم بی بی وہاں نہیں تھیں۔

نہ ان کی گاڑی، نہ ان کا کوئی نشان۔

صرف بکھرا ہوا گھر، ایک مائیڈ، اور ایک بچہ جو اب خاموش تھا۔

سکینہ کچن کے کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔

“میں نے کچھ نہیں دیکھا… میں صفائی کر رہی تھی… پھر شور ہوا… پھر میں ڈر کر باہر بھاگ گئی…”

مگر اس کی آواز پوری سچائی نہیں بتا رہی تھی۔

تھوڑی دیر بعد پولیس کو اطلاع ملی کہ کلثوم بی بی پڑوس کے ایک گھر میں موجود ہیں۔

وہ کہہ رہی تھیں کہ گھر میں چور داخل ہوا تھا، وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ گئیں۔

مگر جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، کہانی کے دھاگے کھلنے لگے۔

نہ دروازہ توڑا گیا تھا۔

نہ زبردستی داخلے کے نشان تھے۔

اور سب سے اہم بات، کلثوم بی بی کا اپنا کمرہ بالکل صاف تھا، جیسے کسی نے اسے ہاتھ بھی نہ لگایا ہو۔

یہ بات سب کو مشکوک کرنے لگی۔

پولیس نے کچن کی تلاشی لی تو ایک چھوٹا سا ڈبہ ملا جس میں جلی ہوئی ماچسیں تھیں۔

اور فرش پر صفائی کے تازہ نشانات تھے۔

اب یہ چوری نہیں لگ رہی تھی۔

یہ بنایا ہوا منظر تھا۔

کلثوم بی بی کو جب لایا گیا تو وہ پہلے اپنی بات پر قائم رہیں۔

“میں نے شور سنا تھا… میں ڈر گئی تھی… میں کچھ نہیں جانتی…”

مگر سوال بڑھتے گئے۔

“اگر چور تھا تو دروازہ کیوں کھلا تھا؟”

“اگر حملہ ہوا تو صرف سامان ہی کیوں بکھرا؟”

“اور بچہ اسی گھر کے اندر کیوں ملا؟”

خاموشی چھا گئی۔

پھر وہ ٹوٹ گئی۔

اس نے بتایا کہ عمر اکثر ضد کرتا تھا، چیزیں گرا دیتا تھا، اور وہ چاہتی تھیں کہ وہ “سیدھا” ہو جائے۔ اس دن بھی غصہ بڑھ گیا تھا۔ بچہ رو رہا تھا، اور ایک لمحے میں سب کچھ بدل گیا۔

وہ دھکا۔

وہ گرنا۔

وہ خاموشی۔

اور پھر خوف۔

اصل جرم کے بعد خوف نے دوسرا جرم بنایا۔

اس نے پورا منظر خود بنایا۔

گھر بکھیر دیا۔

دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔

نل چلایا۔

اور باہر نکل گئی۔

تاکہ لگے کہ کوئی باہر سے آیا تھا۔

مگر سچ ہمیشہ چھوٹے نشان چھوڑ دیتا ہے۔

اس کیس میں وہ نشان جلی ہوئی ماچسیں تھیں۔

جو بتا رہی تھیں کہ یہ سب باہر سے نہیں ہوا تھا۔

یہ اندر سے ٹوٹا تھا۔

جب اسے گرفتار کیا گیا تو وہ خاموش تھی۔

نہ انکار، نہ چیخ۔

بس ایک تھکی ہوئی نظر۔

جیسے وہ جان چکی ہو کہ اب کچھ واپس نہیں آ سکتا۔

میں نے آخری بار اس گھر کو دیکھا۔

وہی گھر جہاں میرا بیٹا کبھی ہنستا تھا۔

اب وہ صرف ایک سوال بن چکا تھا۔

کہ کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے ساتھ کون کھڑا ہے؟

یا ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ جنہیں ہم گھر میں چھوڑتے ہیں، وہ ہمیشہ محفوظ رکھتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/