وہ اشعار جو سوشل میڈیا پر جون ایلیا کے نام سے غلط …

تم جو کہتی ہو چھوڑ دو سگریٹ
تم مرا ہاتھ تھام سکتی ہو
ارشد عباس ذکی
…….
مجھ سے ملنے کو آپ آئے ہیں
بیٹھیے میں بلا کے آتا ہوں
شہزاد شاہ
……
جانی کیا آج میری برسی ہے؟
یعنی کیا آج مر گیا تھا میں؟
مسرور پیرزادہ
…..
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے
جمال احسانی
……
اپنی گردن جھکا کہ بات کرو،
تم نکالے گئے ہو جنت سے۔
ندیم بھابھہ
۔۔۔۔۔۔۔
خودکشی تک حرام ہے یعنی
یہ بھی ممکن نہیں کہ مر جائو
انور شعور
…….
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گے مجھ میں
یہ جو میں ہو ذرا سا باقی ہوں
وہ جو تم تھے مر گئے مجھ میں
عمار اقبال
…..
بہت سے غم دسمبر میں دسمبر کے نہیں تھے
اسے بھی جون کا غم تھا مگر رویا دسمبر میں
عمیر قریشی
…..
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
نامعلوم
…..
گہیسو رخ پر ہوا سے ملتے ہیں
چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں
مرزا شوق لکھنوی
…..
نہ آیا ہوں نہ میں لایا گیا ہوں
میں حرف کن ہوں فرمایا گیا ہوں
واصف علی واصف
….
سپرد خاک ہی کرنا ہے مجھ کو
تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں
حفیط جالندھری
….
ابھی تدفیں باقی ہے ابھی تو
لہو سے اپنے نہلایا گیا ہوں
رئیس امروہی
…..
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
اکبر ابادی
…..



