منتخب نظمیں

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہ…

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے ، جیسے باپ کو ہمارے مسائل ، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں ، یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا- کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ،
” اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی ، بچت کی ہوتی ،کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی …فلاں کی طرح عالیشان گھر ، گاڑی میں گھوم رہے ہوتے "
"

کہاں ہو ؟ کب آؤ گے ؟ زیادہ دیر نہ کرنا ” جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں .
” سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے ” انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں .

اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں، گھر ، گاڑی، پلاٹ ، بینک بیلنس ، کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال… More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/