منتخب غزلیں
گئی رُتوں کی روشنی عجیب گُل کھلا گئی وہ یاد آ گ…
گئی رُتوں کی روشنی عجیب گُل کھلا گئی
وہ یاد آ گیا مجھے اور آنکھ ڈبڈبا گئی
مری طلب نے طے کئے بڑے طویل فاصلے
ہوس کی اک ادا تھی جو مرا ضمیر کھا گئی
جنوں نے سر پٹک دیا عجیب کھلبلی مچی
کُھلی جو آنکھ
مری انا کو بارشِ شعور نے فنا کیا
برس کے میرے عزم پر ابھی ابھی گھٹا گئی
جو سیلِ غم گزر گیا جو چھٹ گیا غبارِ جاں
تو پھر اداس دل پہ کیوں یہ مُردنی سی چھا گئی
کُھلیں غموں کے فیض سے خِرد کی کتنی کھڑکیاں
یقیں کی اک ادا ہزار ظلمتیں مٹا گئیں
ادا اے عازمِ سخن خدا کا اپنے شکر کر
نگاہِ فیض تھی کوئی جو گھر ترا بچا گئی
(عازم کوہلی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

