ایک بدمعاش کا قتل – قسط 14 —- عطا محمد تبسم
انتخاب میں ہمارے ناظم برکت علی رانا تھے، جو بعد میں این ای ڈی کے ناظم اور صدر بھی رہے۔ زاہد عسکری صدر (سابق صدر پاسلو، اسٹیل ملز کراچی) اور میں نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔ جنرل سیکریٹری عتیق احمد جیلانی تھے۔ جو اب ممتاز شاعر ادیب، پروفیسر ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی ہیں۔ سیکریٹری نعیم احمد اور کونسلر اسد گلزار تھے۔ یہ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب کا پرآشوب دور تھا، سندھ میں وزیر اعلی غلام مصطفی جتوئی تھے، جنہوں نے پیپلز اسٹوڈینس فیڈریشن اور نوپس بنائی تھی۔ وہ طلبہ میں پی ایس ایف کو آگے دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے کالجوں میں اکثر تصادم کی کیفیت رہتی تھی۔ گورنمنٹ کالج لطیف آباد بھی ان میں سے ایک تھا، جہاں پی ایس ایف کے طلبہ اسلحے سے لیس کالج میں ڈیرہ ڈالے رہتے۔
ہم منتخب ہونے کے باوجود کالج میں داخلے سے محروم تھے کہ ایک دن پی ایس ایف کے ایک لڑکے کا چھ نمبر لطیف آباد میں سعد شبلی سے جھگڑا ہوگیا۔ اظہار نامی لڑکے کی قیادت میں یہ مسلح گروہ سعد شبلی کو سبق سکھانے چھ نمبر پہنچے۔ یہ اسلحے سے لیس اورایک جیپ میں سوار ہوکر سعد شبلی اس کے گھر پہنچے، جہاں سعد شبلی بھی بندوق لے کر ان کا انتظار کر رہا تھا، معرکہ ہوا اور ایک گولی اظہار کا سینہ چیرتی ہوئی نکل گئی۔ شام کو میں نے اس کے گھر پر اس کی لاش دیکھی، تھری ناٹ تھری رائفل کی گولی نے کمر کو ادھیڑتے ہوئے جسم سے نکلتے ہوئے ایک بہت بڑا شگاف کردیا تھا، خون سیاہی مائل ہوکر جم گیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار ایسی لاش دیکھی تھی۔ اس واردات نے ہمیں کالج میں پی ایس ایف کے چنگل سے نجات دلا دی۔ فورا ہی اس سنسنی خیز وقعے کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔ اور سعد شبلی کی جرات اور بہادری کی داد و تحسین کے ساتھ اس کی حمایت کے لیے بہت سے لوگ اس کے گھر پہنچ گئے
اس واقعے کے بعد گورنمنٹ کالج میں جمعیت کو کبھی کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اور کالج میں اس کے نمائندے اور پورا پینل کئی سال کامیاب ہوتا رہا، سید وجاہت علی رضوی جو طویل عرصے گورنر سندھ کے پی آر او رہے اور سید لیاقت (انجئیر مرحوم) یہاں صدر منتخب ہوئے۔
طلبہ یونین میں کامیاب ہونے کے بعد تمام ہی نمائندے اپنا بلیز جس پر کالج کا مونوگرام ہوتا بنواتے تھے۔ جس میں طلبہ یونین کا فنڈ استعمال ہوتا تھا۔ لیکن جمعیت نے یہ سلسلہ بند کردیا، ہم نے اپنی طلبہ یونین کی طرف سے کراچی اور لاڑکانہ کا تعلیمی وتفریحی دورہ کرایا اور ہفتہ طلبہ منعقد کیا۔ جس میں شاعر سیف و قلم رحمان کیانی کو خصوصی طور پر مدعو کیا۔
یہ سال طلبہ کی سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ جمعیت نے اس سال کئی مہمات چلائی، ربوہ کے اسٹیشن پر نشتر کالج کے طلبہ پر ایک قادیانی گروپ کے تشدد کے واقعہ نے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی۔ جمعیت نے بھی تحفظ ختم نبوتﷺ کی تحریک کا آغاز کردیا۔ اس تحریک میں جمعیت کے وفود پورے ملک کے گاؤں دیہاتوں اور قصبوں میں گئے اور عوام کو قادیانیوں کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ جمیعت کا ایک وفد تھرپارکر کے دورے پر روانہ ہوا۔ اس وفد میں حیدرآباد جمعیت سے میں اور زاہد عسکری، کراچی یونیورسٹی سے طالب علم رہنما قیصر خان، عبدالرشید خان، اور چند دوسرے ساتھی شامل تھے۔ ہم میرپورخاص، سامارو، جیمس آباد، کنری کے دورے پر نکلے، ہم مساجد میں نماز پڑھتے اور نماز کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر تقریر شروع کردیتے اور قادیانی فتنہ کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے، کنری میں جب ہمارا قافلہ پہنچا تو وہاں بہت تناﺅ کا ماحول تھا، وہاں قادیانیوں کا بہت اثر رسوخ تھا، کوئی ہمیں مہمان بنانے پر تیار نہ تھا، شام کو ایک مسجد میں بہت بڑا جلسہ ہوا، رشید خان شعلہ بیان مقرر تھے، قیصر خان بھی مزیدار تقریر کرتے، جس میں مرزا پر وحی لانے والے فرشتے ٹچی ٹچی کے لطائف بیان کرتے۔ جلسے کے بعد شہر کے لوگ چارپائیاں اور بستر لے آئے تھے، ایک احاطے میں ہم کھلے آسمان تلے سوئے۔
کنری کے جلسہ کے بعد اگلے دن میں اکیلا حیدرآباد کے لیے روانہ ہوا، ہمارے بقیہ ساتھی اپنی مہم میں مصروف رہے۔ واپسی کے سفر میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں خفیہ والوں کی نگرانی میں ہوں۔ گو اس زمانے میں ان باتوں کی کچھ زیادہ سمجھ نہ تھی۔ سبزی منڈی میں چھوٹے منشی بننے کے کچھ ہی عرصے بعد میرے ایک مہربان کزن حنیف بابو نے مجھے پبلک ہیتھ ڈیپارٹمنٹ میں عارضی کلرک لگوا دیا۔ پبلک ہیلتھ کا یہ دفتر جیل سے آگے میروں کے قبوں کے پاس قائم تھا۔ یہاں میرے بچپن کے دوست ناصر بھی ملازم تھے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک عارضی ملازمت تھی، یہاں چار سو روپے تنخواہ تھی۔ پبلک ہیلتھ میں مختلف ترقیاتی اسکیموں پر کام ہوتا تھا۔ ٹھیکدار اپنے بلز یہاں سے پاس کراتے تھے۔ بل پاس ہونے پر سب کلرکوں اور عملہ کو کچھ رقم دی جاتی تھی۔ مجھے جب پہلی بار یہ رقم پیش کی گئی تو میں نے اسے لینے سے انکار کردیا۔ یوں ہمارے سپرینڈینٹ حامد علی خان نے مجھے "مولوی” کہنا شروع کردیا۔ یہاں مجھے یہ سہولت ملی کہ میں اپنا کتابیں پڑھنے، لکھنے اور مزید تعلیم کے لیے تیاری کرنے میں مشغول رہا۔ رشوت یا کمیشن لینے سے انکار کی وجہ سے مجھ پر کام کا زیادہ دباؤ بھی نہ تھا اور آنے جانے پر بھی کوئی زیادہ روک ٹوک نہ تھی۔ یوں میں پڑھائی طلبہ سیاست میں سرگرم رہا۔
اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے