منتخب نظمیں

میں جلدی گھر آیا تو میرا نومولود بیٹا چیخ چیخ کر …

💔💔 میں جلدی گھر آیا تو میرا نومولود بیٹا چیخ چیخ کر رو رہا تھا… میری بیوی صوفے پر بے ہوش پڑی تھی… اور امی اُس کے سرہانے بیٹھ کر سکون سے کھانا کھا رہی تھیں۔💥💥 🥀

میرا نام حارث ہے۔

اور میں نے اپنی زندگی کے چونتیس سال یہ سمجھتے ہوئے گزارے کہ میری ماں ایک بہت مضبوط عورت ہیں۔

اب سوچتا ہوں… شاید وہ مضبوط نہیں تھیں، بس درد کی اتنی عادی ہو چکی تھیں کہ دوسروں کا درد اُنہیں کمزوری لگنے لگا تھا۔

ابو سرکاری ملازم تھے۔

خاموش آدمی۔

گھر میں اُن کی آواز کم اور امی کے اصول زیادہ چلتے تھے۔

امی ہمیشہ کہا کرتی تھیں،

“عورت اگر تھکن ماننے لگے نا، تو گھر بکھر جاتے ہیں۔”

ہم تین بھائی تھے۔

ہم نے بچپن سے یہی دیکھا کہ امی بیمار بھی ہوتیں تو کام نہیں چھوڑتیں۔ بخار میں بھی روٹیاں بنتیں، مہمان بھی سنبھلتے، اور گھر بھی چلتا۔

ہم اُن پر فخر کرتے تھے۔

شاید اسی لیے کبھی یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ بعض اوقات انسان صبر نہیں کرتا… صرف ٹوٹنے کی عادت ڈال لیتا ہے۔

پھر میری شادی عائشہ سے ہوئی۔

وہ فیصل آباد کے ایک محبت بھرے گھر کی لڑکی تھی۔

دھیمے لہجے میں بات کرنے والی۔

ہر ایک کا خیال رکھنے والی۔

امی نے شروع میں اُسے بہت پسند کیا۔

“بڑی سلیقے والی بچی ہے۔”

مگر وقت کے ساتھ تعریفوں میں ہلکی سی سختی آنے لگی۔

“آج کل کی لڑکیاں جلد تھک جاتی ہیں۔”

“کام میں رفتار نہیں ہے۔”

“بہو کو گھر کی نبض سمجھنی چاہیے۔”

عائشہ ہر بار خاموش ہو جاتی۔

اور میں…

میں ہر بار یہ سوچ کر بات ٹال دیتا کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

پھر ہمارا بیٹا پیدا ہوا۔

ولادت آسان نہیں تھی۔

عائشہ بہت کمزور ہو گئی تھی۔

ڈاکٹر نے صاف کہا تھا،

“اِنہیں مکمل آرام چاہیے۔ جسم اور ذہن دونوں تھکے ہوئے ہیں۔ خاص خیال رکھیے گا۔”

میں نے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ امی خود ہمارے پاس آ گئی تھیں۔

مجھے لگا، اب عائشہ کو سہارا مل جائے گا۔

شروع کے دو دن واقعی سب ٹھیک رہا۔

پھر آہستہ آہستہ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔

“بچہ اتنا کیوں روتا ہے؟”

“تم دودھ وقت پر نہیں دیتی ہوگی۔”

“ہم نے بھی بچے پالے ہیں، ہر وقت بستر پر نہیں پڑے رہے۔”

عائشہ رات بھر جاگتی۔

بچے کو سنبھالتی۔

صبح آنکھ لگتی تو امی آواز دے دیتیں،

“اُٹھ جاؤ، گھر بھی دیکھنا ہوتا ہے۔”

میں دفتر چلا جاتا۔

واپس آ کر صرف تھکا ہوا چہرہ دیکھتا… مگر اُس تھکن کی گہرائی نہیں سمجھتا تھا۔

ایک رات عائشہ نے بہت آہستہ کہا،

“حارث… مجھے لگتا ہے میں خود کو کھو رہی ہوں۔”

میں اُس کے پاس بیٹھ گیا۔

“بس چند دن کی بات ہے۔ امی کا دل مت دکھاؤ، وہ صرف چاہتی ہیں تم مضبوط بنو۔”

آج سوچتا ہوں…

بعض مرد اپنی بیویوں سے محبت تو کرتے ہیں، مگر اُن کی تکلیف کو اُس وقت تک نہیں سمجھتے جب تک وہ تکلیف اُن کے سامنے گر نہ پڑے۔

پھر وہ دن آیا۔

میری ایک میٹنگ منسوخ ہو گئی اور میں دوپہر کو ہی گھر واپس آ گیا۔

دروازہ کھولتے ہی بچے کے رونے کی آواز میرے سینے میں اتر گئی۔

وہ عام رونا نہیں تھا۔

وہ خوف زدہ رونا تھا۔

میں جلدی سے اندر داخل ہوا۔

ڈرائنگ روم بکھرا پڑا تھا۔

باورچی خانے میں سالن چولہے پر گر چکا تھا۔

فرش پر آدھے تہہ کیے کپڑے پڑے تھے۔

اور صوفے پر عائشہ بے ہوش تھی۔

ایک ہاتھ نیچے لٹکا ہوا۔

چہرہ بالکل زرد۔

میرا بیٹا پالنے میں چیخ چیخ کر کانپ رہا تھا۔

اور قریب میز پر…

امی سکون سے کھانا کھا رہی تھیں۔

میں چند لمحے ساکت کھڑا رہا۔

پھر اُنہوں نے عائشہ کی طرف دیکھ کر بے زاری سے کہا،

“بس ذرا سی کمزوری ہے۔ نئی مائیں خود کو مریض بنا لیتی ہیں۔”

میں فوراً بچے کو اٹھانے گیا۔

اُس کا ننھا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔

پھر عائشہ کے پاس بیٹھا۔

“عائشہ… سنو…”

اُس نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔

ہونٹ سوکھے ہوئے تھے۔

“میں… ٹھیک ہوں…”

امی فوراً بولیں،

“صبح سے ڈرامہ کر رہی ہے کہ چکر آ رہے ہیں، مگر کھانا بھی ادھورا چھوڑنا تھا نا؟”

میں نے پہلی بار غور سے کچن کی طرف دیکھا۔

امی کی پسند کا کھانا بنا ہوا تھا۔

روسٹ، پلاؤ، سلاد۔

وہی سب کچھ جو عائشہ صبح کھڑے ہونے سے بھی قاصر تھی۔

میرے اندر عجیب سا سکوت اتر آیا۔

میں نے بہت آہستہ پوچھا،

“عائشہ نے یہ سب بنایا؟”

امی نے فوراً جواب دیا،

“میں نے زبردستی نہیں کی۔ بہو ہے، گھر کے کام سیکھنے ہوں گے۔ عورت بچے کے بعد کمزور نہیں ہوتی، بس ذہن کمزور کر لیتی ہے۔”

اسی لمحے عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ بہت مشکل سے بولی،

“میں نے کہا تھا مجھ سے نہیں ہو رہا…”

میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

اور پہلی بار مجھے اپنا بچپن یاد آیا۔

امی کی سختی۔

ابو کی خاموشی۔

اور ہر وہ لمحہ جب گھر میں احساسات کو کمزوری سمجھ کر دبا دیا گیا۔

میں نے نہ چیخا۔

نہ بدتمیزی کی۔

بس آہستہ سے کہا،

“امی… ابھی ہمیں ہسپتال جانا ہوگا۔”

شاید اُنہیں پہلی بار میرے لہجے میں فیصلہ محسوس ہوا تھا۔

“اتنی بھی کیا ایمرجنسی ہے؟”

میں نے عائشہ کو سہارا دیا۔

“امی، یہ تھکی ہوئی نہیں… بیمار ہے۔ اور میں نے بہت دیر کر دی یہ سمجھنے میں۔”

وہ خاموش ہو گئیں۔

میں عائشہ کو گاڑی تک لے گیا۔

بچے کو سینے سے لگایا۔

اور ہسپتال پہنچ گیا۔

ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد مجھے الگ بلا لیا۔

“اِنہیں شدید کمزوری، نیند کی کمی اور بعد از زچگی ڈپریشن ہے۔ اگر یہ کچھ دن اور ایسے ہی چلتا تو حالت خطرناک ہو سکتی تھی۔”

میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔

اُس رات میں ہسپتال کے کمرے میں بیٹھا اپنے بیٹے کو دیکھتا رہا۔

اور پہلی بار مجھے سمجھ آیا…

کبھی کبھی ظلم نیت سے نہیں، پرانی سوچ سے پیدا ہوتا ہے۔

امی شاید واقعی سمجھتی تھیں کہ وہ عائشہ کو مضبوط بنا رہی ہیں۔

کیونکہ اُن کے اپنے زمانے میں کسی نے اُن کی کمزوری کو اہمیت نہیں دی تھی۔

مگر زخم اگر نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں… تو وہ روایت بن جاتے ہیں۔

دو دن بعد امی ہسپتال آئیں۔

خاموش۔

پہلی بار خاموش۔

انہوں نے عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔

پھر بہت دھیرے سے کہا،

“شاید میں نے سختی زیادہ کر دی۔”

عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔

اور میں نے پہلی بار اپنی ماں کے چہرے پر ضد نہیں… تھکن دیکھی۔

ہم اُس گھر واپس تو گئے…

مگر بہت کچھ بدل گیا۔

میں نے عائشہ کے لیے نرس رکھی۔

گھر کے کام بانٹے۔

اور پہلی بار امی سے یہ کہنا سیکھا کہ ہر زمانہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

آج بھی امی کبھی کبھی کہہ دیتی ہیں،

“ہم نے تو ایسے نہیں کیا تھا۔”

مگر اب میں مسکرا کر جواب دیتا ہوں،

“اسی لیے اب ہمیں بہتر کرنا ہے۔”

کیونکہ بعض اوقات انسان کو اپنی ماں سے نفرت نہیں کرنی پڑتی…

صرف اُن کے درد کو آگے منتقل ہونے سے روکنا پڑتا ہے۔

افسانہ: درد کے عادی
©️ انتخاب سخن

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/