منتخب غزلیں

یہ دسمبر ہے سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں…

یہ دسمبر ہے

سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے
وہاں سردی بہت ہوگی
اکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گے
تو گھر میں کوئ بھی لڑکی
سلگتی مسکراہٹ سے
تمھاری اس تھکاوٹ کو
تمھارے کوٹ پر ٹھہری ہوئ بارش کی بوندوں کو


سمیٹے گی ،نہ جھاڑے گی
نہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پر
اسے لٹکا کے اپنے نرم ہاتھوں سے
چھوئے گی اس طرح جیسے تمھارا لمس پاتی ہو
تم آتشدان کے آگے سمٹ کر بیٹھ جاو گے
تو ایسا بھی نہیں ہوگا
تمھارے پاس وہ آکر
بہت ہی گرم کافی کا ذرا سا گھونٹ خود لے کر
وہ کافی تم کو دے کر، تم سے یہ پوچھے
"کہو کیا تھک گئے ہو تم ؟”
تم اپنی خالی آنکھوں سے
یوں اپنے سرد کمرے کو جو دیکھو گے تو سوچو گے
ٹھٹھر کر رہ گیا سب کچھ
تمھاری انگلیوں کی سرد پوروں پر
کسی رخسار کی نرمی
کسی کے ہونٹ کی گرمی… More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/