منتخب غزلیں

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں چلو آؤ ک…

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں
چلو آؤ کوئی رستہ نیا ایجاد کرتے ہیں

سمندر ہو کہ صحرا ہو گل و گلزار ہو چاہے
یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ہر نگر آباد کرتے ہیں

یہی خواہش تمہاری ہے کہ تم ہم سے بچھڑ جاؤ
تو پھر جاؤ ابھی سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں

ہمیں تو آرزو یہ تھی قفس کو توڑ ڈالو تم
مگر تم نے کیا وہ ہی جو سب صیاد کرتے ہیں

مرے ہر لفظ میں یا رب بیاں ہو حق فقط سچ ہو
عطا دی ہے قلم کی تو یہ بھی فریاد کرتے ہیں

محبت میں جو ہارے ہو تو بہتر ہے پلٹ جاؤ
در و دیوار سنگ و بام سب ہی یاد کرتے ہیں

(حنا عنبرین طارق)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/