منتخب غزلیں
آج پھر مسکرا رہا ہوں میں حادثوں کو بلا رہا ہوں میں…
آج پھر مسکرا رہا ہوں میں
حادثوں کو بلا رہا ہوں میں
حادثوں کو بلا رہا ہوں میں
آپ کیوں بے قرار ہیں اتنے
آنکھ رکھتا ہوں،جا رہا ہوں میں
تہمتِ خود کشی نہ دو مجھ کو
زیست پر رحم کھا رہا ہوں میں
چند قطرے پیے تھے صبحِ ازل!
آج تک لڑکھڑا رہا ہوں میں
شام ہے اور اداس جنگل میں
غم کی محفل سجا رہا ہوں میں
نغمہ گو تلخ ہے عدم پھر بھی!
سازِ ہستی بجا رہا ہوں میں
سیّد عبدالحمید عدم
از:-کُلّیاتِ عدم ص ۴۹۱
انتخاب
سفیدپوش

