منتخب غزلیں

وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں وہ قربتیں بھی…

وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیں
وہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیں

سوال بن کے سلگتے ہیں رات بھر تارے
” کہاں ہے نیند ہماری ” وہ بس یہی پوچھیں

بلاتا رہتا ہے جنگل ہمیں بہانوں سے
سنیں جو اس کی تو شاید نہ پھر کبھی لوٹیں

پھسلتی جاتی ہے ہاتھوں سے ریت لمحوں کی
کہاں ہے بس میں ہمارے کہ ہم اسے روکیں

حقیقتوں کا بدلنا تو خواب ہے فکری
مگر یہ خواب ہے ایسا کہ سب جسے دیکھیں

(پرکاش فکری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/