منتخب غزلیں

سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں ہم غزل میں بھ…

سب قرینے اُسی دلدار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہُنر یار کے رکھ دیتے ہیں

شاید آ جائیں کبھی چشمِ خریدار میں ہم
جان و دل بیچ میں بازار کے رکھ دیتے ہیں

تاکہ طعنہ نہ ملے ہم کو تنک ظرفی کا
ہم قدح سامنے اغیار کے رکھ دیتے ہیں

اب کسے رنجِ اسیری کہ قفس میں صیاد
سارے منظر گُل و گُلزار کے رکھ دیتے ہیں

More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/