منتخب غزلیں

میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن پھر بھی جب پاس تُو نہیں…

میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
پھر بھی جب پاس تُو نہیں ہوتی
خود کو کتنا اُداس پاتا ہوں
گُم سے اپنے حواس پاتا ہوں
جانے کیا دُھن سمائی رہتی ہے؟
اک خموشی سی چھائی رہتی ہے
دل سے بھی گفتگو نہیں ہوتی
میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن

میں تجھے چاہتا نہیں، لیکن
پھر بھی رہ رہ کے میرے کانوں میں
گونجتی ہے تری حسیں آواز…

More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/