منتخب غزلیں

*رہ گزر* پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چ…

*رہ گزر*

پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپ
پھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاں
پھر وہی بہکی ہوئی مہکی ہوئی سی آہٹیں
پھر وہی گاتی سی لہراتی سی کچھ مدہوشیاں

زندگی طوفان تھی سیلاب تھی بھونچال تھی
وقت پھر بھی کروٹوں پر کروٹیں لیتا رہا
قافلے اس راہ پر آتے رہے جاتے رہے
راہ بر سب کو مسافت کا صلہ دیتا رہا

More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/