منتخب غزلیں
کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی یہ بات جب ک…
کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی
یہ بات جب کی ہے جب چارہ گر نہ تھا کوئی
کسی سے رنگِ اُفق ہی کی بات کر لیتے
اب اس قدر بھی یہاں معتبر نہ تھا کوئی
بنائے جاؤں کسی اور کے بھی نقشِ قدم
یہ کیوں کہوں کہ مرا ہم سفر نہ تھا کوئی
گزر گئے ترے کوچے سے اجنبی کی طرح
کہ ہم سے سلسلۂ بام و در نہ تھا کوئی
… More

