منتخب غزلیں

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں ہم تو ذر…

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں
ہم تو ذرا سی بات پہ پہروں اشک بہاتے رہتے ہیں

وہ اپنے ماتھے پر جھوٹے روگ سجا کر پھرتے ہیں
ہم اپنی آنکھوں کے جلتے زخم چھپاتے رہتے ہیں

سوچ سے پیکر کیسے ترشے سوچ کا انت نرالا ہے
خاک پہ بیٹھے آڑے ترچھے نقش بناتے رہتے ہیں

ساحل ساحل دار سجے ہیں موج موج زنجیریں ہیں
ڈوبنے والے دریا دریا جشن مناتے رہتے ہیں

اختر اب انصاف کی آنکھیں زر کی کھنک سے کھلتی ہیں
ہم پاگل ہیں لوہے کی زنجیر ہلاتے رہتے ہیں

(اختر امام رضوی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/