منتخب نظمیں

وہ شام عجیب تھی۔ سورج ڈوب رہا تھا مگر اس کے رنگوں …

وہ شام عجیب تھی۔ سورج ڈوب رہا تھا مگر اس کے رنگوں میں سکون کے بجائے ایک خاموش سوال تھا۔ میں اُس دوست کے ساتھ بیٹھا تھا جو زندگی میں سب کچھ پا چکا تھا… پیسہ، مقام، شناخت… مگر اُس کی آنکھوں میں ایک خالی پن تھا، جیسے وہ خود سے کہیں گم ہو گیا ہو۔

اس نے اچانک پوچھا،
“یار، یہ بتاؤ… انسان کب بدلتا ہے؟”

میں نے جواب نہیں دیا۔ میں نے صرف اُس کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا، جس کی اسکرین پر وہ بار بار خود کو دیکھ رہا تھا… جیسے تصدیق کر رہا ہو کہ وہ ابھی بھی وہی ہے۔

میں نے کہا،
“چلو… ایک جگہ چلتے ہیں۔”

ہم قریب ہی ایک پرانے کاریگر کی دکان پر گئے۔ وہ شیشے اور آئینے بناتا تھا۔ وقت نے اُس کے ہاتھوں کو بوڑھا کر دیا تھا مگر نظر اب بھی تیز تھی۔

میں نے اُس سے کہا،
“چاچا، ایک سوال ہے… شیشہ اور آئینہ ایک ہی چیز ہوتے ہیں؟”

وہ مسکرایا، جیسے یہ سوال اس نے کئی بار سنا ہو۔ اُس نے ہمیں دکان کے ایک کونے میں لے جا کر ایک سادہ شیشہ سامنے رکھا۔
“اس میں دیکھو… کیا نظر آ رہا ہے؟”

میرے دوست نے کہا،
“سامنے والی گلی… لوگ… روشنی… سب کچھ۔”

پھر اُس نے ساتھ ہی رکھا ایک آئینہ ہمارے سامنے کر دیا۔
“اب دیکھو…”

میرے دوست نے خود کو دیکھا… اور چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔
“اب… صرف میں ہوں۔”

بوڑھا کاریگر کرسی پر بیٹھ گیا، جیسے اب اصل بات شروع ہونے والی ہو۔
“فرق جانتے ہو؟ دونوں شیشے ہیں… مگر اس پر چاندی چڑھ گئی ہے۔ بس اتنا سا فرق… اور پوری دنیا بدل گئی۔”

میرے دوست نے آئینے سے نظریں ہٹائیں۔ پہلی بار وہ سن رہا تھا۔

کاریگر نے آہستہ سے کہا،
“انسان بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔ جب تک وہ سادہ رہتا ہے… اسے دنیا نظر آتی ہے۔ لوگوں کے دکھ، ان کی ضرورتیں، ان کی خاموشیاں… سب کچھ۔
مگر جیسے ہی وہ اپنے اوپر انا کا ملمع چڑھا لیتا ہے… وہ آئینہ بن جاتا ہے۔ پھر اسے ہر جگہ صرف خود ہی نظر آتا ہے۔”

دکان میں خاموشی پھیل گئی۔ باہر سے گزرتی گاڑیوں کی آوازیں بھی جیسے مدھم ہو گئیں۔

میرے دوست نے دھیرے سے پوچھا،
“تو کیا آئینہ بننا غلط ہے؟”

بوڑھا ہنسا نہیں… بس بولا،
“غلط نہیں… مگر خطرناک ہے۔
کیونکہ آئینہ کبھی کسی اور کو نہیں دیکھتا… اور جو دوسروں کو دیکھنا چھوڑ دے، وہ آہستہ آہستہ انسان ہونا بھی چھوڑ دیتا ہے۔”

ہم دکان سے باہر نکل آئے۔ شام اب اندھیرے میں بدل چکی تھی۔

راستے میں وہ خاموش چلتا رہا… پھر اچانک بولا،
“شاید میں آئینہ بن گیا ہوں…”

میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ اس کے لہجے میں پہلی بار غرور نہیں تھا، صرف ایک اعتراف تھا۔

میں نے آہستہ سے کہا،
“ابھی بھی وقت ہے… چاندی اتر سکتی ہے۔”

وہ رک گیا۔ جیسے پہلی بار اُس نے خود کو نہیں… دنیا کو دیکھنے کی کوشش کی ہو۔

اور سچ یہی ہے…
زندگی میں سب سے بڑا کمال چمکنا نہیں، دکھائی دینا ہے۔
اور دکھائی وہی دیتا ہے… جو شیشہ رہتا ہے، آئینہ نہیں بنتا۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/