منتخب غزلیں
مقیم اثر بیاولی دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر ک…

مقیم اثر بیاولی
دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر کٹنے کا ہوش
ایک سجدہ ہو اگر ایسا جسے سجدہ کہوں
جس میں تیرا غم نہیں وہ دل نہیں کچھ اور ہے
کیسے خالی قبر کو راحت گہہ تقویٰ کہوں
…..
یہ زر پرست حکومت ہماری قاتل ہے
فضول ہے کوئی امیدِ زندگی اِس سے
پڑا جو وقت وطن کو بھی بیچ کھائے گی
ملے گی بھیک میں کس طرح…


