منتخب نظمیں

پہلی بار جب مسز سمیرا نے پانچویں جماعت میں قدم رکھ…

پہلی بار جب مسز سمیرا نے پانچویں جماعت میں قدم رکھا تو انہیں سب سے پہلے وہ لڑکا نظر آیا جو آخری بنچ پر نہیں، بلکہ کھڑکی کے ساتھ فرش پر بیٹھا تھا۔ اس کی قمیض کا کالر ایک طرف سے پھٹا ہوا تھا، جوتوں کے تسمے مختلف رنگوں کے تھے اور بال ایسے جیسے کئی دنوں سے کنگھی نے انہیں چھوا ہی نہ ہو۔

"تم کرسی پر کیوں نہیں بیٹھتے؟”

لڑکے نے نظریں جھکا کر کہا، "میڈم… اس کی ایک ٹانگ ہلتی ہے۔”

کلاس ہنس پڑی۔

سمیرا نے بھی مسکراہٹ دبا لی۔ انہیں لگا، شاید بچہ بہانے بنا رہا ہے۔

اس کا نام حارث تھا۔

چند ہی دنوں میں وہ پورے سکول کا مسئلہ بن گیا۔ کبھی ہوم ورک ادھورا، کبھی کتاب غائب، کبھی کلاس میں اونگھتا ہوا، کبھی بچوں سے الجھتا ہوا۔ سمیرا اس کی کاپی چیک کرتیں تو سرخ قلم سے پورا صفحہ بھر جاتا۔ آخر میں ایک بڑا سا کراس اور نیچے صرف ایک لفظ:

"ناکام”

انہیں لگتا تھا کچھ بچے محنت کرنا ہی نہیں چاہتے۔

سالانہ ریکارڈ دیکھنے کا دن آیا تو انہوں نے سب سے آخر میں حارث کی فائل کھولی۔

پہلی جماعت کی ٹیچر نے لکھا تھا:

"غیر معمولی ذہین بچہ۔ ہر مقابلے میں آگے۔ دوسروں کی مدد کرنے والا۔”

دوسری جماعت:

"والدہ کینسر میں مبتلا ہیں۔ اس کے باوجود حارث اپنی مسکراہٹ نہیں کھوتا۔”

تیسری جماعت:

"والدہ انتقال کر گئیں۔ بچہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ والد اکثر نشے میں رہتے ہیں۔ گھر میں کوئی توجہ دینے والا نہیں۔”

چوتھی جماعت:

"بعض اوقات بھوکا سکول آتا ہے۔ کلاس میں سو جاتا ہے۔ اگر فوری جذباتی سہارا نہ ملا تو شاید ہمیشہ کے لیے تعلیم سے دور ہو جائے۔”

فائل بند کرتے ہوئے سمیرا کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ انہوں نے کاپیاں تو دیکھی تھیں، زندگی نہیں دیکھی تھی۔

سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے بچوں نے تحفے لائے۔

خوش رنگ کاغذ، چمکتے ربن، مہنگے ڈبے…

صرف حارث کا تحفہ ایک پرانے اخبار میں لپٹا ہوا تھا۔

کچھ بچے ہنسنے لگے۔

سمیرا نے آہستہ سے اخبار کھولا۔

اندر ایک پرانا سا اسٹیل کا قلم تھا، جس کی نوک بار بار جوڑی گئی تھی، اور ایک چھوٹی سی سیاہی کی دوات، جس میں بمشکل چند قطرے بچے تھے۔

ایک کاغذ بھی تھا۔

لرزتے ہوئے حروف میں لکھا تھا:

"یہ قلم میری امی کا تھا۔ وہ کہتی تھیں، اچھے استاد کے ہاتھ میں قلم قسمت بھی لکھ دیتا ہے۔ اب یہ آپ رکھ لیں۔”

کلاس میں خاموشی چھا گئی۔

سمیرا نے وہی قلم اپنی جیب میں لگا لیا۔

چھٹی کے بعد حارث دروازے پر رکا رہا۔

"میڈم…”

"ہاں؟”

"آج آپ کے ہاتھ میں وہی قلم اچھا لگ رہا تھا… جیسے پہلے امی کے ہاتھ میں لگتا تھا۔”

وہ چلا گیا۔

اور سمیرا پہلی بار اسٹاف روم میں جا کر روئیں۔

بہت دیر تک۔

اگلے دن سے انہوں نے نصاب نہیں بدلا…

اپنا رویہ بدل لیا۔

اب وہ حارث کے غلط جواب پر صرف نشان نہیں لگاتیں، ساتھ درست جواب بھی لکھتیں۔

جب وہ سو جاتا تو جگانے کے بجائے پوچھتیں،

"رات کھانا ملا تھا؟”

جب وہ دیر سے آتا تو سزا نہیں دیتیں۔

کبھی اپنا لنچ اس کی میز پر رکھ دیتیں۔

کبھی لائبریری سے کتاب لا دیتیں۔

کبھی صرف اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتیں۔

اور عجیب بات یہ ہوئی کہ جس بچے کو سب ناکام سمجھتے تھے، وہ آہستہ آہستہ کلاس کے سب سے ذہین بچوں میں شمار ہونے لگا۔

اصل میں اس کے دماغ پر گرد نہیں جمی تھی…

صرف دکھ بیٹھ گیا تھا۔

وقت دریا کی طرح بہتا رہا۔

ایک سال بعد سمیرا کو ایک خط ملا۔

"میڈم، آپ اب بھی میری سب سے اچھی استاد ہیں۔”

پھر کئی برس بعد دوسرا خط۔

"میں بورڈ میں پوزیشن لے آیا ہوں۔ دعا کیجیے۔”

پھر ایک اور۔

"میڈم، آج میرا انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا۔”

خط آتے رہے۔

زندگی آگے بڑھتی رہی۔

تقریباً پندرہ سال بعد ایک سفید لفافہ آیا۔

اندر شادی کا کارڈ تھا۔

نیچے ایک چھوٹا سا نوٹ:

"ابو بھی نہیں رہے۔ اگر آپ آئیں تو اس کرسی پر بیٹھیں جس پر عام طور پر دولہے کی ماں بیٹھی ہوتی ہے۔ میری زندگی میں ماں دو بار آئی تھی… پہلی بار مجھے جنم دینے کے لیے، دوسری بار مجھے دوبارہ جینے کا حوصلہ دینے کے لیے۔”

شادی کے دن سمیرا نے اپنی الماری کھولی۔

اب بھی وہ پرانا اسٹیل کا قلم ایک مخملی ڈبے میں رکھا تھا۔

انہوں نے اسے اپنے دوپٹے کے ساتھ لگا لیا۔

ہال میں داخل ہوئیں تو حارث نے انہیں دور سے دیکھا۔

وہ کسی کامیاب آدمی کی طرح نہیں…

ایک بچے کی طرح ان کی طرف دوڑا۔

پاس پہنچ کر آہستہ سے بولا،

"میڈم… اگر اس دن آپ بھی سب کی طرح مجھے ناکام مان لیتیں، تو شاید میں واقعی ناکام ہو جاتا۔”

سمیرا کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا،

"نہیں حارث… میں نے تمہیں کچھ نہیں دیا۔”

وہ چند لمحے رُکیں۔

پھر بولیں،

"تم نے صرف ایک بچے کی زندگی نہیں بچائی تھی… تم نے ایک استاد کو سکھایا تھا کہ ہر خراب کاپی کے پیچھے ایک بکھری ہوئی زندگی بھی ہو سکتی ہے۔”

اس دن پہلی بار سمیرا کو احساس ہوا کہ استاد کتابیں نہیں پڑھاتے…

وہ بعض اوقات ایک انسان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ابھی مکمل طور پر ہارا نہیں۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/