منتخب غزلیں
منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہ گزر کی بات کرو آغ…
منزل بھی ملے گی رستے میں تم راہ گزر کی بات کرو
آغازِ سفر سے پہلے کیوں انجامِ سفر کی بات کرو
ظالم نے لیا ہے شرما کر پھر گوشۂ داماں چٹکی میں
ہے وقت کہ تم بے باکی سے اب دیدۂ تر کی بات کرو
آیا ہے چمن میں موسمِ گل آئی ہیں ہوائیں زنداں تک
دیوار کی باتیں ہو لیں گی اس وقت تو در کی بات کرو
ہے تیز ہوا ہلتا ہے قفس خطرے میں پڑی ہے ہر تیلی
فریاد- اسیری بند کرو اب جنبشِ پر کی بات کرو
… More


